Skip to content

   

Namaz — chapter 13 of 27

نماز کے فرائض وواجبات اور سُنّتوں کاحکم

Fard, Wajib & Sunnah

What each ruling means in practice, the seven conditions, and the six fard.

فرض:

وہ چیزیں ہیں کہ ان کے چھوٹ جانے سے نماز نہیں ہوتی اور لوٹانا فرض ہوتا ہے۔

واجب:

جس کا نماز میں ادا کرناضروری ہے اس کو قصدًا چھوڑنے سے نماز تو ہوجاتی ہے مگر ناقص ہوتی ہے ،ہاں اگر کوئی واجب بھولے سے چھوٹ جائے تو اس کے لیے سجدہ سہو کافی ہوتاہے۔ اگر سجدئہ سہو نہ کیا تو نماز وقت کے اندر اندر لوٹاناواجب ہے۔

سنت:

جو چیزیں سُنّت ہیں ان کو بھول کر چھوڑجانے سے نہ گناہ ہوتاہے اور نہ نماز لوٹائی جاتی ہے اور نہ سجدۂ سہو واجب ہوتاہے ،لیکن قصداً چھوڑنے والا ملامت کا مستحق ہوتاہے۔

مکروہ:

وہ چیز ہے جس سے نماز نہیں ٹوٹتی لیکن ثواب کم ہوجاتاہے پھر اس کی دو قسمیں ہیں: مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی۔ مکروہ تحریمی سے بچنا ضروری ہے اور اس کے کرنے سے گناہ ہوتاہے اور مکروہ تنزیہی کاکرنا خلاف اولیٰ ہے۔

نماز کے شرائط کی مختصرتشریح

نماز پڑھنے سے پہلے سات چیزوں کی ضرورت ہے ان کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور ان چیزوں کو شرائطِ نماز یا بیرونی فرائض کہتے ہیں۔

  • ۱۔ بدن کا پاک ہونا۔ ۲۔کپڑوں کاپاک ہونا۔ ۳۔ جگہ کاپاک ہونا۔ ۴۔ ستر کا چھپانا۔ ۵۔ نمازوں کا وقت ہونا۔ ۶۔ قبلہ کی طرف منہ کرنا۔ ۷۔ نیت کرنا۔

1 بدن کاپاک ہونا:ـ

بدن کے پاک ہونے کامطلب یہ ہے کہ بدن پر کسی قسم کی نجاست (ناپاکی) نہ ہو۔ نجاست کی دو قسمیں ہیں: ایک حقیقی، دوسری حکمی۔ حقیقی سے مراد وہ ظاہری نجاست ہے جو دیکھنے میں آسکے جیسے پیشاب، پاخانہ، خون، شراب۔ حکمی سے مراد وہ نجاست ہے جو شریعت کے حکم سے ثابت ہو اور دیکھی نہ جاسکے جیسے بے وضو ہونا ،غسل کی حاجت ہوجانا۔ نمازکے لیے دونوں قسموں کی نجاست سے پاک ہوناضروری ہے۔ نجاستِ حکمیہ کی پھر دو قسمیں ہیں: ایک حَدَثِ اصغر یعنی چھوٹی نجاست، دوسری حَدَثِ اکبر یعنی بڑی نجاست۔ چھوٹی نجاست حکمیہ سے بدن وضو کرنے سے پاک ہوتاہے، اور بڑی نجاستِ حکمیہ سے غسل کرنے سے پاک ہوتاہے۔

2 کپڑوں کاپاک ہونا:

کپڑوں سے مراد وہ کپڑے جو نمازی کے بدن پر ہوں جیسے کُرتا، پاجامہ، ٹوپی عمامہ وغیرہ ان سب کاپاک ہوناضروری ہے یعنی ان میں کسی پر نجاستِ غلیظہ کا ایک درہم سے زیادہ نہ ہونا، نجاست خفیفہ کا چوتھائی کپڑے تک نہ پہنچنا نماز کے درست ہونے کے لیے شرط ہے۔ اگر نجاستِ غلیظہ ایک درہم یا اس سے کم اور نجاستِ خفیفہ چوتھائی کپڑے سے کم لگی ہو تو نماز ہوجائے گی۔

3 جگہ کاپاک ہونا:

نماز پڑھنے والے کے دونوں پاؤں اورگھٹنوں اورہاتھوں اور سجدہ کی جگہ کاپاک ہونا شرط ہے۔

4 ستر چھپانا:

مرد کوناف سے گھٹنے تک اپنا بدن چھپانا فرض ہے۔ نماز میں بھی فرض ہے اورنماز کے علاوہ بھی فرض ہے ،اورعورت کو دونوںہتھیلیوں اور دونوں پاؤں اور منہ کے سوا تمام بدن ڈھانکنا فرض ہے لیکن عورت کو نماز میں منہ چھپانا فرض نہیں۔

بلکہ غیر مردوں کے سامنے کھلے منہ آنا ناجائز ہے۔ اگر کسی کے پاس کپڑا بالکل نہ ہو تو کسی چیز سے بدن کو ڈھانکے مثلاً ٹاٹ، درختوں کے پتّے وغیرہ۔ اورجب کچھ بھی نہ ملے تو ننگا بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع سجدہ اشارہ سے کرے۔

5 وقت:

نماز کے لیے جو وقت شریعت نے مقرر کیا ہے اس وقت میں نماز پڑھنا ضروری ہے۔ اس وقت سے پہلے اگر پڑھی جائے گی تو نماز نہ ہوگی ،اور اس کے بعد پڑھنے سے ادا نہ ہوگی بلکہ قضا ہوگی۔ (نماز کے اوقات پہلے ص نمبر ۲۳ پر بیان کیے جاچکے ہیں)

6 استقبالِ قبلہ:

قبلہ کی طرف منہ کرنے کو استقبال قبلہ کہتے ہیں۔ نماز پڑھتے وقت ضروری ہے کہ نمازی کا منہ قبلہ کی طرف ہو۔ قبلہ خانۂ کعبہ کو کہتے ہیں جو ملکِ عرب کے شہر مکہ معظمہ میں ایک کوٹھا بنا ہوا ہے، اس کے چاروں طرف بہت بڑی مسجد بنی ہے، اس کی طرف تمام عالَم کے مسلمان منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اس مسجد کانام مسجد ِحرام ہے۔

7 نیت:

نیت دل سے ارادہ کرنے کو کہتے ہیں۔ نماز کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ جو نماز پڑھنا چاہے مثلاً ظہر کی نماز پڑھنی ہے تو یہ ارادہ کرے کہ آج کی ظہر کی نماز پڑھتا ہوں۔ اگر قضا نماز ہوتو یہ ارادہ کرے کہ فلاں دن کی ظہر کی قضا نماز پڑھتاہوں۔ اگر امام کے پیچھے ہوتو اس کی بھی نیت کرے۔ زبان سے نیت کے الفاظ کا کہنا ضروری نہیں ہے۔ نفل ،سنّت کے لیے اتنی نیت کافی ہے کہ نفل نمازپڑھتاہوں۔

نماز کے فرائض کی مختصر تشریح

نمازکے فرائض میں عُلَمَا نے بہت سی چیزیں شمار کی ہیں مگر ہم چھ فرضوں کو (جو نمازکے اندرونی فرائض مشہور ہیں) مختصرطور سے بیان کرتے ہیں۔

اندرونی فرائض:

  • ۱۔ تکبیر ِتحریمہ۔
  • ۲۔ قیام یعنی کھڑا ہونا۔
  • ۳۔ قراء ت یعنی قرآن مجید پڑھنا۔
  • ۴۔ رکوع کرنا۔
  • ۵۔ دوسجدے کرنا۔
  • ۶۔ قعدۂ اخیرہ یعنی اخیر نماز میں التحیات پڑھنے کی مقدار بیٹھنا۔

ان فرائض کو تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ ارکان بھی کہتے ہیں۔

1 تکبیر تحریمہ:

نیت باندھتے وقت اَللّٰہُ أَکْبَرُ یا اورکوئی خداکانام لے کر نماز شروع کرنے کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں۔ اس تکبیر کے کہنے سے نمازشروع ہوجاتی ہے اور جو چیزیں نماز کے خلاف ہیں وہ تمام حرام ہوجاتی ہیں، اس لیے اسکو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں۔ تکبیر تحریمہ سیدھے کھڑے ہوکر کہنا ضروری ہے، اگر کوئی بلاعذر جھک کر یا رکوع میں شامل ہوکر تکبیر تحریمہ کہے گا تو نماز نہ ہوگی۔

2 قیام یعنی کھڑا ہونا:

جس شخص کو کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کی طاقت ہے اس کے لیے کھڑا ہونا فرض ہے۔ ہاںجو کسی عذر کی وجہ سے کھڑانہ ہوسکتا ہو اس کے لیے بیٹھ کر یا لیٹ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ فرض اور واجب نماز میںاتنا قیام فرض ہے کہ جس میں فرض قراء ت پڑھی جاسکے۔

نفل نماز میں قیام فرض نہیں ہے بلاعذر بھی بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے لیکن آدھا ثواب ملتاہے۔

3 قراء ت:

نماز میں کم از کم ایک آیت پڑھنا فرض ہے اور سورئہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے ۔ اور فرض کی پہلی دو رکعتوں اور نماز وتراورسنت اور نفل کی تمام رکعتوں میں سورئہ فاتحہ کے بعد کوئی اور سورت یا بڑی ایک آیت یا چھوٹی تین آیتیں بھی پڑھنا واجب ہے۔ اور فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت کے علاوہ واجب، سنت اور نفل کی ہر رکعت میں فاتحہ پڑھنا واجب ہے۔ اگر کسی کو ایک آیت بھی یاد نہ ہو اور نماز پڑھے تو سبحان اللہ یاالحمدللہ قراء ت کی جگہ پڑھ لے ،مگر بہت جلدقرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت فرض کی مقدار یادکرلینا فرض ہے اورواجب کی مقدار یادکرنا واجب ہے، فرض اور واجب کی مقدار اگر قرآن شریف سے یاد نہ کرے گا تو سخت گنہگار ہوگا۔

امام کومغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میںاور فجر، جمعہ ،عیدین اور تراویح ووتر کی تمام رکعتوں میںآواز سے پڑھنا واجب ہے۔ ظہر،عصر میںامام کو اور تنہا پڑھنے والے کو بھی قراء ت آہستہ کرنی چاہیے ،زور سے پڑھنے کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اپنی آواز پاس والے شخص کے کان میںپہنچ سکے۔

4 رکوع:

رکوع کے معنی جھکنا۔ نماز میں قراء ت کے بعد اتنا جھکنا فرض ہے کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں ۔ اورمسنون اتنا جھکنا ہے کہ سر اور کمر برابر ہوجائے اور ہاتھ پسلیوں سے جدا رہیں اور گھٹنوں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑلے۔

5 سجدہ:

سجدہ کے معنی زمین میں پیشانی رکھنا۔ نماز میں دونوں سجدے فرض ہیں۔سجدہ میں ناک اور پیشانی دونوں زمین پر رکھنے چاہئیں۔ بلاعذر صرف پیشانی پر سجدہ کرنا مکروہ ہے اور صرف ناک پر بلاعذر سجدہ کرنے سے سجدہ ادانہ ہوگا۔

6 قعدئہ اخیرہ:

نمازوں کے اخیر میں التحیات کی مقدار بیٹھنا فرض ہے خواہ فرض نماز ہو یا واجب یا سنت یا نفل۔