Skip to content

   

Namaz — chapter 20 of 27

قضا نماز

Missed Prayers

Making up a prayer — its intention, and the rule of order.

اگرنماز وقتِ مقررہ پر پڑھی جائے تو اس کو ادا کہتے ہیں اگر وقت گزر گیا اورپھر پڑھی تو اس کو قضا کہتے ہیں۔ تمام فرض نمازوں کی قضا فرض اور واجب کی واجب اور بعض سنتوں کی قضا سنت ہے۔قصداً بلاعذر نماز فرض یا واجب کو اس کے وقت پر ادا نہ کرنا بڑا گناہ ہے، اور سُنَّتِ مؤکدہ وقت پر ادا نہ کرنے کاگناہ اس سے کم ہے۔ اگر کبھی بلاارادہ نماز قضا ہوجائے یابھول جاؤ یا سوتے رہ جاؤ تو یاد آنے پر اور موقع ملنے پر فورا ًادا کرنی چاہیے البتہ وقتِ مکروہ میں نہ پڑھی جائے۔

قضا نماز کی نیت:

قضا نماز کی نیّت اس طرح کرنی چاہیے کہ میں فلاں نماز کی فجر کی یا ظہر کی نماز قضا پڑھتاہوں ،صرف یہ نیت کافی نہ ہوگی کہ فجر یا ظہر کی قضا پڑھتاہوں۔ اگر کسی کے ذمہ بہت سی نمازیں قضا ہوں اور دن یاد نہ ہو مثلاً ایک مہینہ کی نمازیں قضا ہوگئیں تو وہ اس طرح نیت کرے کہ میرے ذمہ جس قدر فجر کی نمازیں ہیں ان میں سے پہلی فجر پڑھتاہوں یاآخری فجر پڑھتاہوں۔

صاحبِ ترتیب:

جس شخص کی کوئی نماز قضا نہیں ہوئی تھی یا ہوئی تھی مگر ادا کرلی یا چھ نمازوں سے کم ایک یا دو یا تین یا چار یا پانچ نمازیں قضا اس کے ذمہ ہیں تو ایسے شخص کو صاحبِ ترتیب کہتے ہیں۔ یعنی جب تک وہ قضا نماز ترتیب وار نہ پڑھ لے اس وقت تک اس کی دوسری نماز نہ ہوگی، ہاں اگر قضا پڑھنی بھول جائے یا وقت اتنا تنگ ہے کہ قضا نماز پڑھے گا تو اس وقت کی ادا نماز قضا ہوجائے گی تو اس صورت میں پہلے ادا پڑھے ا سکے بعد قضا پڑھے۔ اور جس کے ذمہ چھ نمازیں قضا ہوں اس کے لیے ترتیب ضروری نہیں ہے وہ جس طرح چاہے پڑھ سکتاہے۔ جس کے وتر قضا ہوجائیں وہ بلاوتر ادا کئے فجر کی نماز نہ پڑھے اس میں بھی ترتیب ضروری ہے۔

کون کون سی نماز کی قضا پڑھی جاتی ہے؟

قضا صرف فرض نمازوں اور وتر کی پڑھی جاتی ہے، سنتوں کی قضا نہیں ہے۔ البتہ اگر فجر کی نماز قضا ہوجائے تو اگر دوپہر سے پہلے پہلے قضا پڑھے تو سنت اور فرض دونوں کی قضا پڑھے، اور اگر دوپہر کے بعد قضا پڑھے تو فقط دو رکعت فرض قضا پڑھے، ہاں اگر فجر کی سنتیں وقت کے تنگ ہونے کی وجہ سے رہ گئیں تھیں تو سورج اونچا ہونے کے بعد دوپہر سے پہلے پہلے پڑھ لے۔