Namaz — chapter 7 of 27
نمازکا طریقہ
The Prayer & Its Times
How the prayer is begun, and the proper, preferred and disliked times.
نماز کا طریقہ یہ ہے کہ جب نماز کا وقت ہوجائے تو مسجد میں یاگھر میں یا اور کسی جگہ پر اللہ تعالیٰ کے سامنے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز کی نیت کرکے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور خدا کی تعریف، بزرگی اور تعظیم کرتے ہیں۔ قرآن شریف پڑھتے ہیں ، اللہ کے سامنے جھک جاتے ہیں اور زمین پر اپنا ماتھا رکھ کر اپنی عاجزی ظاہرکرتے ہیں۔
فرض نمازوں کے اصل اوقات:
دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں :اول نمازِفجر، جوصبح صادق کے بعد سے سورج نکلنے سے پہلے تک پڑھی جاسکتی ہے۔ دوسری نمازِ ظہر، جو سورج ڈھلنے کے بعد سے عصرکے وقت تک پڑھی جاسکتی ہے۔ تیسری نمازِ عصر، جو سورج چھپنے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پہلے سورج زرد ہونے تک پڑھی جاسکتی ہے۔ چوتھی نمازِ مغرب جو شام کو سورج چھپنے کے بعد سے شفق کے چھپنے تک پڑھی جاسکتی ہے۔پانچویں نماز ِ عشا جو تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ رات گزرنے کے بعد سے صبح صادق تک پڑھی جاسکتی ہے۔
فرض نمازوں کے مستحب اوقات:
فجر کی نماز اُجالا ہونے پر پڑھنا مستحب ہے، مگر اتنا وقت باقی رہنا چاہیے کہ اگر نماز فاسد ہوجائے یا وضو و غسل کی ضرورت ہوجائے تو دوبارہ قراء تِ مسنونہ کے ساتھ پڑھی جاسکے۔ ظہر کی نماز جاڑوں میں جلدی اورگرمیوں میں دیر میںپڑھنی افضل ہے۔ عصر کی نماز میں سردی اور گرمی دونوں میں دیر کرنا مستحب ہے، مگر سورج کے متغیر ہونے سے پہلے پڑھ لی جائے۔ عشا کی نماز تہائی رات گزرنے پر پڑھنی بہتر ہے، اور وترکو اخیرشب میں تہجد کے ساتھ پڑھنا افضل ہے بشرطیکہ اخیر رات میں اٹھنے کا اطمینان ہو۔ اگر بادل ہو توظہر کی نماز سردیوں میںکچھ دیر سے پڑھی جائے اورعصر کی کچھ جلدی اورمغرب کی نماز کچھ دیر میں پڑھی جائے۔
مکروہ اوقات:
سورج نکلتے وقت اور اس کے بعد جب تک ایک نیزہ سورج اونچا نہ ہو جائے، اور زوال کے وقت اور سورج غروب ہوتے وقت نفل پڑھنا منع ہے۔ اور ان وقتوں میںفرض نماز بھی جائز نہیں ،البتہ عصر کی نماز کو اگر دیر ہوجائے تو غروب کے وقت اس کو پڑھاجاسکتاہے۔

