Skip to content

   

Namaz — chapter 12 of 27

مرد اور عورت کی نماز میں فرق

A Man's Prayer & a Woman's

The ten places where a woman's prayer differs from a man's.

عورتیں بھی اسی طرح نماز پڑھیں جیسے نماز پڑھنے کا طریقہ ابھی بیان کیا گیا لیکن چند چیزوں میں مرد اور عورت کی نماز میں فرق ہے وہ نیچے لکھی جاتی ہیں:

  • تکبیر تحریمہ کے وقت مردوں کو چادر وغیرہ سے ہاتھ نکال کر کانوں تک اٹھانا چاہئے۔ اور عورتوں کو ہر حال میں بغیر ہاتھ نکالے ہوئے کندھوں تک اٹھانا چاہئے۔
  • مردوں کو دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنا کر بائیں ہاتھ کی کلائی کو پکڑنا اور باقی تین انگلیوں کو بائیں کلائی پر بچھا دینا چاہئے اور عورتوں کو داہنی ہتھیلی بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھنا چاہئے۔ مردوں کی طرح حلقہ بنا کر بائیں ہاتھ کو نہ پکڑنا چاہئے۔
  • مردوں کو رکوع میں اچھی طرح جھکنا چاہئے کہ سر اور پشت برابر ہو جائیں اور عورتوں کو صرف اس قدر جھکنا چاہئے کہ جس سے ان کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں۔
  • مردوں کو رکوع میں انگلیاں کشادہ کر کے گھٹنوں کو پکڑنا چاہئے اور عورتوں کو بغیر کشادہ کئے ہوئے ملا کر رکھنا چاہئے۔
  • مردوں کو حالت رکوع میں کہنیاں پہلو سے علیحدہ رکھنی چاہئیں اور عورتوں کو ملی ہوئی رکھنی چاہئیں۔
  • مردوں کو سجدے میں پیٹ کو رانوں سے اور بازو کو بغل سے جدا رکھنا چاہئے اور عورتوں کو ملا کر رکھنا چاہئے۔
  • سجدے میں مردوں کی کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی ہوں اور عورتوں کی کہنیاں زمین پر بچھی ہوئی ہوں۔
  • مردوں کو سجدے میں دونوں پاؤں انگلیوں کے بل کھڑے رکھنے چاہئیں مگر عورتیں دونوں پاؤں داہنی طرف کو نکال دیں۔
  • مردوں کو بیٹھنے کی حالت میں بائیں پاؤں پر بیٹھنا چاہئے اور داہنے پاؤں کی انگلیوں کے بل کھڑا رکھنا چاہئے اور عورتوں کو دونوں پاؤں داہنی طرف نکال کر بیٹھنا چاہئے۔
  • عورتوں کو کسی وقت بلند آواز سے قرآت کرنے کا اختیار نہیں بلکہ وہ ہر وقت آہستہ آواز سے قرآت کریں اور مردوں کیلئے بعض حالات میں زور سے قرآت پڑھنا واجب ہے اور بعض حالات میں جائز ہے۔