Skip to content

   

Posts

Mazameen o Maqalat

10 articles on belief, character, and the life of the heart

Article

علماء کا مقام

The Standing of the Scholars

مفتی محمد ارباب صاحب شمسی قاسمی11 August 20267 min readopen on its own page

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے امت مسلمہ کی خیر خواہی کے لئے ایک عظیم جماعت کو منتخب فرمایا۔ جس کو ہم علماء کے نام سے جانتے ہیں۔ عرف میں ان حضرات کو مختلف القاب جیسے مولوی، مولانا اور مفتی کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ
المجادلہ: ۱۱

اللہ تعالیٰ (اس حکم کی اطاعت سے) تم میں ایمان والوں کے اور (ایمان والوں میں) ان لوگوں کے جن کو علم (دین) عطا ہوا ہے اخروی درجے بلند کر دے گا۔

چنانچہ معلوم ہوا کہ جن کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے علم عطا کیا ہے ان کی بڑی فضیلت ہے۔ کیونکہ اس علم کے ذریعہ انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ علماء کا وجود ہر چیز سے زیادہ اہم ہے۔ چنانچہ اگر کسی انسان کی دنیاوی ترقی مال کے اعتبار سے یا شہرت اور عزت کے اعتبار سے ہو رہی ہے، تو یہ کمال کی بات نہیں ہے۔ اصل کمال تو یہ ہے کہ اس کے علم میں اس کی دین داری میں ترقی ہو جس کے ذریعہ سے وہ اللہ کی معرفت حاصل کر سکے اور ایک پکا سچا مسلمان بن سکے۔

آج ہمارے معاشرے کے بڑے قابل حضرات کی سوچ یہی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اول درجے کا ڈاکٹر اور انجینئر بنائے تاکہ اسے دنیاوی اعتبار سے اعلیٰ ترین مقام حاصل ہو۔ آج لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اگر کوئی شخص عالم بن گیا تو اس کے لئے دنیاوی ترقی کے راستے بند ہو گئے۔ حالانکہ مشاہدہ اس کے خلاف ہے تاریخ اٹھا کر اگر دیکھی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ ایک بہت بڑے تاجر شخص تھے اور ساتھ ہی ساتھ ایک سچے اور پکے مسلمان بھی تھے اور نبی ﷺ کی صحبت کی وجہ سے صدیق اکبر کا لقب ملا۔ لہذا یہ بات صاف ہوگئی کہ جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ایک دین دار مولوی ترقی کے منازل طے نہیں کر سکتا تو ان کا یہ عقیدہ حقیقت اور مشاہدے کے خلاف ہے۔ آج مدارس اسلامیہ میں اکثر و بیشتر وہی بچے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں جن کے والدین کی مالی حالت کمزور ہوتی ہے اور اسے دنیا کی اعلیٰ تعلیم نہیں دلوا سکتے تو اسے دین کی تعلیم کے لئے مدرسہ میں بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ معمولی خرچ پر ایک مولوی مولانا بن جائے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ وہ والدین جن کی نہ تو مالی حالت کمزور ہوتی ہے اور نہ ہی وہ کسی اور پریشانی میں ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسہ نہیں بھیجتے۔

اس کا جواب صاف ہے کہ نعوذ باللہ من ذلک اس کے دل میں اس علم کی قدر و قیمت اور محبت نہیں ہے یا یہ بات ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اس علم کے ذریعہ ترقی کے منازل طے نہیں کر سکتے۔

اگر آج امت مسلمہ پر نظر ڈالی جائے تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔ غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہم لوگ اپنی ہلاکت کی راہ کی طرف خود چل رہے ہیں۔ اکثر و بیشتر لوگوں کا مقصد یہی بن چکا ہے کہ بس کسی طرح سے دنیا حاصل کی جائے خواہ وہ حلال راستے سے ہو یا حرام راستے سے۔ صرف مال کمانا ہی مقصد ہے حلال و حرام کی تمیز ختم ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ فرق کیوں ختم ہو گیا جس کا جواب صاف ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو علماء کی مجلس اور ان کی صحبت سے الگ کر لیا جس کی وجہ سے حلال و حرام کا فرق جاتا رہا اور بنیادی مسائل سے بھی دور ہوتے چلے گئے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ نئی نسل کے بچوں کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جاتی ہے کہ علماء کا مرتبہ بہت ہی کمتر ہے۔ ان کی نہ تو دنیا میں عزت ہے اور نہ دین میں۔ لہذا وہ بچہ جو ابھی تک لاشعوری کی زندگی گزار رہا تھا اگر اسے علماء سے معمولی درجہ کی محبت ہو بھی گئی ہو بڑے ہو کر حالات میں ڈھل کر وہ ختم ہو جاتی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا ، وَلَا تَغْدُ بَيْنَ ذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَأَحِبَّ الْعُلَمَاءَ، وَلَا تُبْغِضْهُمْ.
المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۵۰/۹، رقم: ۸۷۵۲

حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ عالم ہو جاؤ یا متعلم ہو جاؤ۔ اور ان دونوں کے درمیان نہ ہو۔ اگر تم ان دو میں سے کوئی نہ بن سکو تو علماء سے محبت کرو اور ان سے بغض نہ رکھو۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تم عالم بنو یا طالب علم بنو یا اگر ان دو میں سے کوئی نہ بن سکو تو علماء سے محبت رکھو ان سے بغض نہ رکھو۔ یہ تمہاری کامیابی کے لئے بہتر ہے۔ لہذا جن حضرات کے لئے قرآن وحدیث میں فضیلت کا ذکر ہو کیا ہم اپنا یا اپنی اولاد کا اس فہرست میں شمار کرانا پسند نہیں کریں گے؟ عام آدمی بھی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنا یا اپنی اولاد کا شمار ضرور بالضرور ان میں کرائے۔

لہذا میری قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اپنے ذہنوں کو درست کریں اور کوشش کریں کہ وہ اپنی اولاد کا شمار اس فہرست میں کرائیں۔

Have a question on this?

An article speaks generally. If your own case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab