Article
تکبر کی مذمت، تواضع کی فضیلت
The Condemnation of Pride, the Merit of Humility
مفتی محمد ارباب صاحب شمسی قاسمی10 August 202625 min readopen on its own page
اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دو عالم بنائے ہیں ایک عالم دنیا ایک عالم آخرت۔ عالم دنیا وہ ہے جس میں انسان فی الحال موجود ہے۔ اور اس میں اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ اور جس طرح اس عالم دنیا میں وہ اپنی زندگی گزارے گا اسی طرح اس کا انجام عالم آخرت میں ہوگا۔ عالم دنیا میں اگر تکبر، اور گھمنڈ سے کام لیا تو عالم آخرت میں اسی کے مطابق سزا بھی ملے گی ۔ اس کے برخلاف اگر عالم دنیا میں عاجزی وانکساری و محبت سے کام لیا تو اسی کے مطابق عالم آخرت میں انعام اور اس کے ثمرات عطا ہوں گے۔
انسان اپنی زندگی میں کئی اچھے اعمال کرتا ہے لیکن صرف اس ایک گناہ کے چکر میں یا ایک دل کی بیماری کے چکر میں اپنے سارے اعمال کو برباد کر دیتا ہے۔ چنانچہ اس بیماری اور گناہ کا نام کبر ہے ۔ انسان ایک طرف کئی اچھے اعمال کرے لیکن اگر اس کے دل میں کبر کا ذرہ بھی آگیا تو اس کی ساری عبادت سارے اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ کئی واقعات ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ کبر کی وجہ سے ان کی سالوں کی عبادت برباد ہوگئی۔ اور سالوں کی عبادت ضائع ہوگئی محض ان کے کبر کی وجہ سے ۔
تکبر “بطر الحق وغمط الناس” کہتے ہیں کہ آدمی اپنے مقابلے میں دوسروں کو کمتر سمجھے۔ اور حقیر و فقیر سمجھے۔ حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے۔ حقوق سے مراد حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں ہیں۔ جب کوئی شخص بندوں کے حقوق میں کمی کرتا ہے یہ سوچ کر کرتا ہے کہ میں اس سے درجہ میں بڑا ہوں یا یہ حقیر ہے تو اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا۔ اگر چہ اس نے حقوق اللہ میں کمی کی یہ سوچ کر میں اللہ کا سب سے بڑا عابد ہوں۔ اور دیگر لوگ تو بس ایسے ہی ہیں پھر اب اس شخص کی حفاظت اللہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا۔
کبر ایک ایسا مرض ہے کہ اگر اس کو سات سمندر سے بھی دھولیا جائے تب بھی اس کا اثر باقی رہتا ہے۔
تکبر ہی تمام امراض کی جڑ ہے۔ یہی ہے جو پہلے دنیا میں آیا۔ یہی مرض ابلیس کی لعنت کا سبب بنا۔ اسی مرض نے قابیل کو اولین قاتل بنایا۔ اسی مرض کی وجہ سے بنی اسرائیل وادی تیہ میں بھٹکتے رہے۔ چنانچہ جب ان کو حکم ہوا کہ تم عاجزی و انکساری کے ساتھ داخل ہو۔ لیکن ان کی تکبر اور بڑائی نے انہیں عاجزی کے ساتھ داخل ہونے نہیں دیا۔ اپنی سرین کے سہارے گھٹتے ہوئے داخل ہوئے ۔ ارشاد خداوندی ہے :
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْاشَدُّ قَسْوَةً.ایسے ایسے واقعات کے بعد تمہارے دل پھر بھی سخت ہی رہے تو یوں کہنا چاہئے کہ ان کی مثال پتھر کی سی ہے بلکہ سختی میں ( پتھر سے بھی زیادہ سخت)۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ یہ صرف ان کی کبریائی کی وجہ تھی ۔
ایک جگہ ارشاد نبی ہے:
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ : عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الْاعَزِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ سُفْيَانُ : أَوَّلَ مَرَّةٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَعَادَهُ فَقَالَ الْاعَزَ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ الله عَزَّوَجَلَّ: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعِزَّةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا، الْقِهِ فِي النَّارِ.حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کبریائی میری چادر ہے اور عزت میری تہبند ہے تو جس شخص نے ان دو میں سے کسی ایک کو لینے کی کوشش کی میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔
کبریائی اللہ کی چادر ہے۔ اگر کوئی اور اللہ کی چادر کو لے یا اختیار کرنے کی کوشش کرے، تو اس کی ہلاکت سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔
دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے:
وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ.اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو آمادہ کرے اس کو غرور گناہ پر سو کافی ہے اس کو دوزخ اور وہ بیشک بڑا ٹھکانا ہے۔
چنانچہ وہ شخص جس کے اندر کبر سرایت کر چکا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ جب کبھی اس سے کہا جاتا ہے۔ اللہ سے ڈرو۔ اور زیادہ فسادمت پھیلاؤ تو بجائے سمجھنے کے اور فساد برپا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کبر ہی اس کی وجہ ہے جو اسے اس چیز پر آمادہ کرتا ہے۔
تیسری جگہ ارشاد خداوندی ہے:
وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا.اور مت چل زمین پر اتراتا ہوا پھاڑ نہ ڈالے گا زمین کو اور نہ پہونچے گا پہاڑوں تک لمبا ہو کر۔
متکبرین کی پہچان یہ ہے کہ وہ جب چلتے ہیں تو ان کی چال سے لگتا ہے کہ وہ زمین کو اپنے پیر تلے روند دیں گے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے: اے شخص تو زمین پر اتر اکرمت چل تو زمین کو ختم نہیں کر سکتا۔ ناہی تو پہاڑوں جیسا بلندی کر کہ تجھے اس طرح چلنے کی ضرورت ہو۔
قرآن میں کئی جگہ تکبر کی مذمت میں واضح آیات موجود ہے۔ لیکن احادیث نبوی ﷺ بھی اس کی مذمت سے خالی نہیں ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے۔
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ ابْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، كَلاهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ قَالَ مِنْجَابُ : أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهَرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانٍ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرِيَاءَ.حضرت عبد الله بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو وہ جہنم میں نہیں جائے گا اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر کبر اور غرور ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔
دوسری جگہ ارشاد نبوی ہے:
حَدَّثَنَا وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونَ الرَّقِى بْنُ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ ابْنُ مَسْلَمَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيْمَانٍ.حضرت عبدالله سے مروی ہے کہ جناب رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر موجود ہے اور جہنم میں وہ شخص بھی داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان ہے۔
کبر دراصل نام نہیں کہ اچھے لباس نہ پہنے یا اچھا گھر نہ ہو یا اچھے کھانا نہ کھائے وغیرہ۔
کبر نام ہے۔ بطر الحق اور غمط الناس۔
بطر الحق کا مطلب حق بات قبول نہ کرنا۔
اور غمط الناس کا مطلب دنیا میں انسانوں کو اپنے سے حقیر سمجھنا۔
چنانچہ جس شخص کی عادت ہو کبھی وہ حق بات قبول نہ کرے۔ بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو صحیح بتانے کی کوشش کرے۔ تو یہ کبر کی نشانی ہے۔
اسی طرح ہر ایک کو اپنے سے حقیر سمجھنا یہ بھی بڑائی کی پہچان ہے۔
ایک جگہ ارشاد نبوی ہے:
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثْنَّى: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ ابْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلِ الْفُقَيْمِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِي، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ : إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ جَمَالَ الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ.حضرت عبداللہ بن مسعود حضور ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس کے دل میں رتی برابر بھی غرور اور تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آدمی چاہتا ہے کہ اس کا لباس اچھا ہو اور اس کا جوتا عمدہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ کبر اور غرور تو حق کو ناحق کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔
اسباب کبر
- علم: جب کوئی شخص عالم ہو جاتا ہے۔ تو وہ ان لوگوں کو جو ان سے علم میں کمتر ہیں۔ حقیر سمجھے لگتا ہے۔ یہ کبر کا پہلا باب ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کی خدمت کرے۔ اسے اپنے گھر پر مدعو کرے وغیرہ۔
- زہد و عبادت: جو شخص بہت زیادہ زاہد و عابد بن جاتا ہے ان کے اندر کبر آ جاتا ہے اور وہ بھی امید کرتے ہیں کہ اب سارے لوگ میری خدمت کریں۔ اور مجھ سے سوال و جواب کرے وغیرہ۔ اس کے علاوہ تمام لوگوں کو ضعف سمجھتے ہیں۔ اگر کسی شخص سے جھگڑا ہو جائے اور وہ شخص حکم الہی سے مصیبت میں گرفتار ہو جائے ۔ تو وہ اس سے کہتا ہے کہ دیکھو اس نے میرا دل دکھایا ہے اب میری کرامت دیکھو۔ اس کا بھی حال اوپر ذکر کردہ صورت کی طرح ہی ہو جاتا ہے۔
- نسب و خاندان: تیسرا سبب نسب و خاندان ہے اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھنا اور دوسروں کو کمتر سمجھنا۔ اپنے آپ کو آقا کی Category میں رکھنا اور دوسروں کو غلام کی Category میں رکھنا۔ اگر کوئی بات اس کے مزاج کے خلاف ہو جائے تو یہ کہتا ہے کہ تیری اپنی یہ اوقات تو میرے مزاج کے خلاف گفتگو کرے وغیرہ۔
- حسن و جمال: یہ اکثر عورتوں میں ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ کو بڑی حسین و جمیل سمجھتی اور دوسروں کو ایک دم کم ظرف کم حسین سمجھتی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر کوئی فرق نہیں کیا۔ چنانچہ پہلے اذان دینے والے حضرت بلال ہی تھے۔ جن کا رنگ سیاہ تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا کسی گورے رنگ والے کا انتخاب کیا اذان دینے کے لئے ۔ کالے گورے کا فرق یہ محض ایک دنیاوی فرق، اصل امتیاز ، انسانوں کا اخلاق اور دل کی کیفیت سے ہونا ہے۔
- مالداری کا تکبر کا سبب ہونا: چنانچہ جو لوگ اپنے مال پر فخر کرتے ہیں کہتے ہیں دنیا ہمارے قابو میں آجائے گی ہم بہت مالدار ہیں وغیرہ۔ محض ان کے ذہن کی کم ظرفی کم عقلی کی دلیل ہے۔ جس اللہ کے حکم کے بغیر ایک پتا بھی نہیں ہل سکتا۔ یہ مالدار کیا قابو کرے گا۔
- قوت و طاقت: یہ بھی ایک ایسی صفت ہے جس کی بناء پر انسان کبر بڑائی میں مبتلا ہوتا ہے۔
چنانچہ علم زہد و عبادت کی زیادتی کی بناء پر کیا انجام ہوا۔ ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا۔
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلِئِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ.اور جس وقت حکم دیا ہم نے فرشتوں کو ( اور جنوں کو بھی) کہ سجدے میں گر جاؤ آدم کے سامنے سو سب سجدے میں گر پڑے بجز ابلیس کے اس نے کہنا نہ مانا اور غرور میں آگیا اور ہو گیا کافروں میں سے۔
حسن و زیادتی جمال کی وجہ سے قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا۔ قابیل کا نکاح کالی لڑکی سے ہونا تھا۔ ضد پر آمادہ ہوا ہابیل کے حصے میں آئی ہوئی اس گوری لڑکی سے نکاح کروں گا۔ چنانچہ اس کی وجہ سے قابیل نے ہابیل کا قتل کر دیا۔ مفسرین نے قابیل کے قتل کرنے کی کئی وجوہات لکھی ہیں ۔ (تفسیر الخازن ۳۳/۲)
مالداری اور شان و شوکت کے سبب فرعون کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ اس کے ساتھ کیا انجام ہوا کس طرح وہ خدائی کا دعوی کیا کرتا تھا۔
أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىاور کس طرح اس نے لوگوں پر ظلم و ستم کئے ۔ اس نے کئی ہزار بچوں کو قتل کرایا۔ (معارف القرآن)
طاقت وقوت کی بناء پر نمرود کا کیا حال تھا۔ کس طرح اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ظلم کئے یہ بھی تاریخ کا اہم واقعہ ہے۔
آپ سب حضرات تکبر کی مذمت سے اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں کہ تکبر کس قدر بری چیز ہے۔ اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے کتنے قسم کے نقصانات سامنے آتے ہیں۔ کسی بھی قوم اور مذہب کا حق پسند آدمی کبر، بڑائی اور گھمنڈ کو اچھا نہیں مانتا۔ بالخصوص عباد الرحمن اللہ کے نیک مقبول بندے تکبر جیسی رذیل اور بری چیز سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس جیسی رذیل اور بری چیز کا علاج ہم جلد سے جلد تلاش کریں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں : چونکہ وقت کم ہے نا معلوم کب موت کا پیغام آجائے اور کس گھڑی میں زندگی کی شام ہو جائے۔
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
بڑی غفلت میں گذری عمر عزیز اب تک
کہیں ایسا نہ ہو وقت یوں ہی گزر جائے
ہے بشر کو نہیں دنیا سے زیبا غفلت
موت کا بھی دھیان لازم ہے کہ ہر آن رہے
جو بھی بشر آتا ہے دنیا میں یہی کہتی ہے قضاء
میں بھی پیچھے چلی آتی ہوں ذرا دھیان رہے
قارئین تکبر کا علاج اللہ نے قرآن کے اندر دکھایا۔ تواضع عاجزی و انکساری کا حکم اس نوع انسانی کو دیا ہے اسی طرح سیرت کا مطالعہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے۔ کہ انسان عاجزی اور انکساری کی صفت اپنے اندر پیدا کرے اور تکبر سے پرہیز کرے۔
حضرت عمر کی حالت زمانہ جاہلیت میں نہایت ہی متکبرانہ اور مغرورانہ تھی۔ لیکن جب وہ اسلام کی نعمت سے سرفراز ہوئے تو ان کے اندر نہایت عاجزی وانکساری پیدا ہوئی اور ان کے اخلاق سے دن بہ دن اسلام کی شان و شوکت بڑھتی چلی گئی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ حضرت عمر کا مسلمان ہونا اسلام کی فتح تھی۔ اور ان کی ہجرت مشیت الہی تھی اور ان کی خلافت اللہ کی رحمت تھی۔
تواضع کی حقیقت کیا ہے چنانچہ حدیث میں وارد ہے:
وَحَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مَطَرِ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشَّخِيرِ، عَنْ عِيَاضٍ بُنِ حِمَارٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ، قَالَ: قَامَ فِيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيْثِ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَزَادَ فِيْهِ وَإِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ اَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَلَا يَنْبَغِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَهُمْ فِيكُمْ تَبَعًا لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالاً، فَقُلْتُ : فَيَكُونُ ذَالِكَ؟ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ قَالَ : نَعَمُ، وَاللَّهُ لَقَدْ أَدْرَكْتُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْعَى عَلَى الْحَيِّ، مَا بِهِ إِلَّا وَلِيَدَتُهُمْ يَطَؤُهَا .حضرت عیاض بن حمار سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ کو وحی بھیجی کہ تواضع کرو یہاں تک کہ کوئی مسلمان دوسرے پر فخر کرے۔
چنانچہ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی طرف وحی نازل فرماتے ہوئے حکم فرمایا تم عاجزی اور منکسر المزاج بن کر رہو۔ یہاں تک کہ تم کسی پر فخرمت کرو۔ اپنی بڑائی مت جتاؤ اور کسی پر ظلم نہ کرو۔ اور کسی کا حق نہ مارو۔ نہ کوئی آدمی اپنے سے کم درجہ کے شخص کو حقیر اور فقیر سمجھے اور نہ ان پر زیادتی کرے بلکہ ان کے ساتھ عاجزی وانکساری کا معاملہ کرے۔ جب نبی ﷺ کو یہ حکم ہوا جو کہ بخشے بخشائے ہیں۔ جن کو “غفر له ما تقدم من ذنبه و ما تاخر” کا پروانہ مل چکا ہے۔ تو عام انسانوں کو نہایت عاجزی اور انکساری کرنی چاہئے اور تکبر اور گھمنڈ جیسی گھٹیا عادت سے خود کو بچانا چاہئے۔ حضور ﷺ کا عمل جب ہم دیکھتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر جب مکہ میں داخل ہو رہے فاتحانہ طور پر تو عاجزی کا ایسا مظاہرہ ہے جو دنیا نے آج تک نہیں دیکھا کہ سر انتہائی درجہ جھکا ہوا تھا۔
إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا اعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً.جب بادشاہ کسی ملک میں فاتحانہ طور پر داخل ہوتے ہیں تو وہ وہاں فساد مچاتے ہیں اور وہاں کے با عزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔
لیکن نبی آخری الزماں فاتحانہ طور پر جب مکہ میں داخل ہوئے تو نہایت عاجزانہ طور پر ہوئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عاجزی کس قدر اہم ترین صفت ہے۔
نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
لہذا ہم لوگ جو سراسر گناہگار ہیں۔ ہمارا عمل کیا ہونا چاہئے کیا ہم ان بادشاہوں کے طرح فساد برپا کریں یا پھر ہم اپنے نبی کے راستے پر چلیں۔
یہ تو ہوئی ہمارے نبی کی بات لہذا اب ہم کرتے ہیں اپنے اولیاء کی بات جن کے تواضع کے کئی واقعات مشہور ہیں:
حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب ، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کے والد محترم ہیں یہ پھلت کے رہنے والے تھے، اور ان کی بود و باش نشو و نما ( قیام اور پرورش ) دہلی میں ہوئی ہے، پہلے دہلی کی آبادی بہت کم تھی ، اور دہلی ندیوں کے بیچ میں بسی تھی ، آدمی ادھر ادھر جاتا تو چھوٹا سا پل ہوتا ، صرف ایک آدمی گذر سکتا تھا، حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب ایک دفعہ ایک چھوٹے سے پل سے گزر رہے تھے ، دوسری طرف سے کتا آ رہا تھا، دونوں کی مڈھ بھیڑ پل کے بیچ میں ہو گئی ، کتا سوچتا ہے میں آگے بڑھوں حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب سوچتے ہیں میں آگے بڑھوں ، اسی شش و پنج ( سوچ و چار) میں کافی وقت گزر گیا آخر کار حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب ہی پیچھے ہٹ گئے کتے کو راستہ مل گیا، اللہ نے اس کتے کو بولنے کی طاقت دی، چنانچہ اس نے کہا میں پیچھے ہٹ سکتا تھا، اور تجھے راستہ دے سکتا تھا، مگر تمہارے دل میں بڑائی پیدا ہو سکتی تھی اس لئے میں نے راستہ نہیں دیا ، حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب نے فرمایا کہ بعض دفعہ جانور بھی ہدایت کا سبب بن جاتے ہیں ، حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب ... صاحب نسبت بزرگ تھے ، خصائل حمیدہ اور اخلاق ستودہ کے جامع تھے، ان میں تواضع وانکساری بدرجہ اتم موجود تھی۔
حضرت مولانا مفتی محمود الحسن صاحب گنگوہی خوش مزاج ، ظریف الطبع تقوی وطہارت کے امام ، علم و عمل کے شاہکار، ہر خاص و عام کے پسندیدہ اور حاضر جواب عالم تھے، چھتہ کی مسجد میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند کی خلوت گاہ میں آپ کا قیام رہتا تھا، دارالعلوم میں عرصہ دراز تک بخاری شریف جلد ثانی پڑھائی، ایک مرتبہ آپ کی مجلس میں ایک دیہاتی ضعیف ( بوڑھا ) آدمی آیا ، اس نے کہا حضرت کچھ نصیحت فرمادیجئے ، آپ نے فرمایا میں کیا نصیحت کروں تمہارا آخری وقت ہے اللہ کے پاس جانا ہے کچھ تحفہ لیتے جاؤ اس لئے کہ آدمی جب اپنے رشتہ دار یا اپنے استاد یا اپنے دوست و احباب کے پاس جاتا ہے تو کچھ نہ کچھ تحفہ لے کر جاتا ہے اور ہر آدمی ایسا تحفہ لے جانے کی کوشش کرتا ہے جو وہاں نہ ملتا ہو، بہر حال حضرت نے فرمایا کہ تم اللہ کے پاس ایسا تحفہ تلاش کر کے لیجاؤ جو اللہ کے پاس نہ ہو، وہ شخص ششدر، حیران رہ گیا اور اس نے کہا حضرت آپ تو میرے ساتھ مذاق فرمارہے ہیں ... بھلا اللہ کے پاس کس چیز کی کمی ہے، چاندی سونے کے خزانے وہاں موجود، ہیرے، جواہرات ، موتی مونگا کے سمندر کے سمندر وہاں موجود، تانبا، پیتل اور لوہے کی کانیں وہاں موجود، کون سی ایسی چیز ہے جو وہاں نہ ملتی ہو، وہاں تو ہر چیز کے خزانے ہیں اور وہ کل خزانوں کا مالک ہے۔
پھر حضرت مفتی صاحب نے ظرافت اور خوش طبعی کے لہجہ میں فرمایا: تواضع لے کر جاؤ اللہ کے پاس تواضع نہیں ہے۔ قرآن میں ہے:
وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمُواتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُاس کے لئے بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا۔
ہمارے اکابر کی شان تو یہ تھی :۔
کچھ ہونا ہی میرے لئے ذلت کا سبب ہے
ہے یہ میرا اعزاز کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں
Have a question on this?
An article speaks generally. If your own case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab

