Skip to content

   

Posts

Mazameen o Maqalat

10 articles on belief, character, and the life of the heart

Article

علماء سوء کا کردار زمانہ حال میں

The Conduct of the Corrupt Scholars in Our Time

مفتی محمد ارباب صاحب شمسی قاسمی11 August 202613 min readopen on its own page

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر امت کو خیر سے نوازا ہے اور ہر امت کے اندر ایسے افراد کو پیدا کیا ہے جن کے ذریعہ سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہوا ہے اچھے برے صحیح غلط ان سب چیزوں کی تمیز ہوئی ہے۔ جب سے نوع انسانی وجود میں آئی ہے اللہ تعالیٰ نے امت کی اصلاح کے لیے انبیاء کرام کو بھیجا ہے جن کے ذریعہ سے اللہ سبحانہ و تعالٰی نے اپنا پیغام امت تک پہونچوایا ہے۔ ہر نبی نے اپنی ذمہ داری نبھانے کی مکمل کوشش کی ہے نہ جانے ان پر کتنے ظلم وستم کئے گئے ہوں مثلاً جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو پہلی مرتبہ وحدانیت کی تعلیم دی اللہ کے ایک ہونے کی دعوت دی اور بتوں کو توڑ دیا جسے قوم نے خدا مان رکھا تھا۔ تب جواباً اس کی قوم نے اس کو آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا چنانچہ اس آگ کو کئی دنوں تک جلایا گیا اور گرم کیا گیا یہاں تک کہ جب وہ آگ پوری طرح سرخ ہو گئی تب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس آگ میں ڈالا گیا تا کہ وہ انھیں تکلیف اور نقصان پہونچائیں لیکن جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ سبحانہ و تعالی نے لے لیا ہو تو کوئی بھی اس شخص کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

چنانچہ قرآن کریم میں واضح ارشاد ہے:

قُلْنَا يَنَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ.
الانبياء : ٦٩

ہم نے حکم دیا کہ اے آگ تو ٹھنڈی اور بے اثر ہو جا ابراہیم علیہ السلام کے حق میں۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آگ کو سلامتی کے ساتھ ٹھنڈا ہونے کا حکم دیا تو وہ آگ ابراہیم علیہ السلام کے لیے گل گلزار بن گئی یعنی زحمت کے بجائے رحمت بن گئی ۔ جس قوم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا تھا وہ ابراہیم علیہ السلام کو دیکھ کر حواس باختہ ہو گئے ۔ اور حیرت زدہ ہو گئے کہ وہ آگ جسے ہم نے جلانے کے لئے روشن کیا تھا وہ سب کے سب پھول بن گئے ۔ کیونکہ فطرت کا تقاضہ ہے کہ آگ کسی بھی چیز کو جلا دیتی ہے۔ لیکن یہاں مشاہدہ اس کے خلاف ہے۔ اور بھی اس طرح کی کئی مثالیں قرآن میں واضح اور مدلل طور پر موجود ہیں چنانچہ جب نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی آمد ہوئی تو اہل عرب نے انھیں کئی تکلیفیں پہونچائیں اور بہت مرتبہ مایوس کیا طائف کا واقعہ تو بہت ہی مشہور ہے جب نبی اکرم طائف والوں کے پاس حق کے پیغام کو لے کر گئے تو وہاں کے لوگوں نے آپ کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کیا اور آپ ﷺ پر لڑکوں کے ذریعہ کس طرح پتھر اؤ کرایا گیا جس کے نتیجے میں آپ کے نعلین مبارک خون سے لت پت ہو گئے۔ لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے دعوت حق اور اللہ کے کلمہ بلند کرنے کو نہیں چھوڑا اس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ آج مسلمان دنیا کے کونے کونے میں پائے جا رہے ہیں۔

لہذا ہر نبی کا اپنی آخری سانس تک یہی معمول رہا کہ دین کی دعوت کو اور حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے اور کرانے کو نہیں چھوڑا اور اپنے وارثین ( علماء صلحاء) کو یہ وصیت کی کہ وہ بھی اس کام کو نہ چھوڑیں ۔ چنانچہ حدیث شریف میں ارشاد ہے۔

عَنْ قَيْسِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ.
ترمذی شریف : ٩٧/٢، رقم ٢٦٨٢

حضرت قیس بن کثیر سے مروی ہے کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں بیشک انبیاء نے دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا ہے بلکہ علم کا وارث بنایا ہے۔

اس حدیث میں ارشاد ہے کہ نبیوں کے وارث کوئی نہیں محض علماء ہیں جنہیں وراثت میں نہ دنیا ملی نہ درہم ۔ ملا تو صرف علم ۔ چنانچہ جب علماء کو اس حدیث میں نبیوں کا وارث کہا گیا۔ تو یہ بات صاف ہے کہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ انبیاء کرام کے دینی امور کے کام کو کما حقہ ادا کریں۔ مثلاً ایک شخص نے اپنے کاروبار کو بڑھایا اور اس کو ایک اونچے مقام تک پہونچایا تو اس کے وارثین اس بات کی بھر پور کوشش کرتے ہیں کہ ان کے والد کی محنت خراب اور ضائع نہ ہو۔ بلکہ اسے مزید محنت و مشقت کے ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو اسی طرح سے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اس وراثت کو آگے بڑھائیں اور دین کی صحیح تبلیغ کریں۔ حالانکہ مشاہدہ اس کے خلاف ہے۔ چند دنیا دار اور ناقص علماء اور مفتیان کرام کی وجہ سے آج امت کس حال میں ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔

آج ہم نے اپنے چند مفادوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے امت میں تفرقہ پھیلا دیا اور امت کو کئی گروہ میں بانٹ دیا اور ہر ایک کے دل میں ایک دوسرے کی نفرت بھر دی۔ چنانچہ بریلوی کو دیوبندی کا دشمن بنا دیا اور شیعہ کو سنی کا دشمن بنا دیا وغیرہ۔

آج امت تو چونکہ دین سے دور ہے تو اس کا فائدہ دنیا دار مولویوں نے اٹھایا اور امت کی صاف ستھری ذہنیت کے ساتھ کھلواڑ کیا اور ان کے دلوں میں زہر بھر دیا یہ بات یاد رکھنی ضروری ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی نے ایسے لوگوں کے لئے ایک درد ناک عذاب کا فیصلہ فرمایا ہے۔

عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِيُجَارِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ أَوْ يَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ أَدْخَلَهُ اللهُ النَّارَ.
ترمذی شریف: ٩٤/٢ ، رقم ٢٦٥٤

حضرت کعب بن مالک سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے علم حاصل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعہ علماء پر فخر کرے یا تکرار کرے اس کے ذریعہ بے وقوفوں سے یا اس کے ذریعہ لوگوں کے چہروں کو اپنی طرف متوجہ کرے ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ دوزخ میں داخل کریں گے۔

اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ جس شخص نے علم حاصل کیا اس نیت سے کہ وہ علماء کے ساتھ مباحثہ اور مقابلہ کرے یا کم فہم لوگوں کے سامنے نازک باتوں کو چھیڑ کر اپنی ڈینگیں مارے یا اس کا ارادہ محض دنیاوی مقبولیت حاصل کرنے کا ہو تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایسے شخص کو جہنم میں داخل فرمائیں گے۔ بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات کہنی پڑ رہی ہے کہ آج اس حدیث کے اوپر عمل کرنے والے بہت سے لوگ ہماری نظروں کے سامنے ہیں جو اپنے مفاد و مقام اور عزت کی خاطر امت محمدیہ کو آپس میں لڑوا رہے ہیں کبھی بریلوی دیوبندی کا جھگڑا اور کبھی شیعہ و سنی کا جھگڑا اس کے بے شمار واقعات ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں اور سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے شر پسند علماء ایسے واقعات کو رونما کروا کے اپنی جیت کی خوشیاں مناتے ہیں لیکن انبیاء جن کے ہم وارث ہیں ان کا عمل اس کے برخلاف ہوا کرتا تھا وہ امت میں کسی بھی قسم کے تفرقہ کو پسند نہیں فرماتے تھے اور امت کو ایک جٹ رہنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے:

عَنِ النَّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْلِمُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ، اشْتَكَى كُلُّهُ، وَإِنْ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ.
مسلم شریف : ٣٢١/۲ ، رقم ٢٥٨٦

حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تمام مسلمان آپس میں ایک شخص کی طرح ہیں اگر اس کی آنکھ کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے اور اگر اس کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔

اس حدیث میں ارشاد ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں لہذا اگر جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہوگی تو جسم کے تمام حصے میں تکلیف محسوس کرے گا۔ لہذا اگر کسی کی آنکھ میں درد ہو تو اس کے پورے جسم میں درد ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی کے سر میں درد ہو تو اس کے پورے جسم میں درد ہوگا۔ اس حدیث میں صاف طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ تمام مومنین اور مسلمین ایک جسم کی طرح ہیں۔ لہذا اگر کوئی ایک فرد کسی بھی تکلیف میں مبتلا ہے تو گویا کہ پوری امت اس تکلیف میں مبتلا ہے لیکن آج چند فسادی اور شری علماء کی وجہ سے امت محمدیہ میں تفریق اور تقسیم ہوتی جا رہی ہے۔

یہاں تک کہ آج کسی ایک مسلمان بھائی کو تکلیف میں دیکھ کر دوسرے مسلمان بھائی کو بڑی خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اچھا ہے فلاں شخص مصیبت میں ہے۔ اس کے ذمہ دار اور کوئی نہیں محض فسادی اور شری علماء کی جماعت ہے جنہوں نے خالی الذہن لوگوں کے ذہنوں کو بچپن ہی سے زہر آلود کرنا شروع کر دیا اور ان کے ذہنوں میں کئی طرح کے غلط عقیدے بٹھا دئے۔ جس کے نتیجے میں ان کے ذہن میں غلط فہمی اور نفرت پیدا ہو گئی ۔ یہاں تک کہ ایک فرقہ کے لوگ دوسرے فرقہ کے لوگوں پر کیچڑ اچھالنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ مثلاً ان کے ذہن میں یہ بات ڈال دی کہ یہ فرقہ حق پر نہیں ہے بلکہ باطل پر ہے یہ لوگ صحیح نہیں ہیں ہم صحیح عقیدے والے اور حضور ﷺ کو ماننے والے ہیں جب کہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے چونکہ امت محمدیہ کے رہبر محمد ﷺ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ تو کوئی شخص حضور ﷺ کو مانے بغیر مسلمان نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی شخص مسلمان ہے تو وہ حضور ﷺ کو ضرور مانتا ہو گا۔ اگرچہ عملی اعتبار سے کمزور ہو۔

لہذا احقر کی قارئین سے درخواست ہے کہ آپ اپنے آپ کو علماء سوء سے محفوظ رکھیں اور علماء حق کی مجلس میں بیٹھ کر اس کی صحبت سے فائدہ اٹھائیں۔ اور اپنے غلط عقیدے کو درست کریں ۔ اور کوشش کریں کہ ان سب لا یعنی باتوں اور معاملات سے دور رہیں۔

Have a question on this?

An article speaks generally. If your own case differs, send the details and ask directly.

Ask Mufti Arbab