Latest article
تجارت: دین بھی دنیا بھی
Trade: For This World and the Next
مفتی محمد ارباب شمسی11 August 20267 min readopen on its own page
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر کمانے اور خرچ کا مادہ رکھا ہے۔ لہذا کوئی تو تاجر بن جاتا ہے تو کوئی کسی کے یہاں ملازمت کر لیتا ہے۔ ہر آدمی اپنی معاش (روزی) کو حاصل کرنے میں لگ جاتا ہے۔ تاجر تجارت کر کے اور ملازم ملازمت کر کے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تاجر یا ملازم، تاجر تجارت کرتے ہوئے اور ملازم ملازمت کرتے ہوئے اپنے حقوق کو بھول جائے۔ تجارت کرنا تو سنت ہے کیونکہ حضرت ابو بکر صدیقؓ ایک بہت بڑے تاجر بھی تھے اور ایک بہت بڑے رفیق پیغمبر بھی۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ وہ بیت الخلاء سے واپسی ہی میں کئی سودے کر لیا کرتے تھے۔ اور ایک آج کے تاجر ہیں جو دن بھر اپنا قیمتی وقت تجارت میں لگاتا ہے اس غرض سے کہ انہیں بے شمار دولت و عزت حاصل ہو جائے۔ اور ایک تاجر حضرت ابو بکر صدیقؓ جو صرف بقدر ضرورت اپنا وقت تجارت میں لگایا کرتے تھے۔ چونکہ انہیں معلوم تھا کہ رزق انسان کا اس طرح سے پیچھا کرتا ہے کہ جس طرح موت انسان کا پیچھا کرتی ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:
لَنْ يَمُوْتَ الْعَبْدُ حَتَّى يَبْلُغَهُ آخِرُ رِزْقٍ هُوَ لَهُ.انسان ہرگز وفات نہیں پائے گا یہاں تک کہ وہ اپنے رزق کے آخری حصہ تک پہونچ جائے۔
لہذا حدیث نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس وقت تک موت نہیں آسکتی جب تک کہ اسے اس کا مقررہ رزق حاصل نہ ہو جائے۔
کسی کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ ایک طرف تجارت کو سنت کہا جا رہا ہے اور دوسری طرف تاجر کی خرابیاں بیان کی جا رہی ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ تاجر کی دو قسمیں ہیں:
- ایک وہ تاجر جو اپنی تجارت کو دنیاوی طریقے کے مطابق چلاتا ہے۔
- اور دوسرا وہ تاجر ہے جو اپنی تجارت کو دینی طریقے پر چلاتا ہے لیکن کبھی شریعت مطہرہ کے اصول کو نظر انداز نہیں کرتا ہے۔ مثلاً جھوٹ، دھوکہ، وعدہ خلافی جیسی چیزوں سے بچتا ہے۔
چونکہ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ تاجروں کا حشر گناہ گاروں اور فاجروں کے ساتھ کیا جائے گا مگر وہ تاجر جنہوں نے تقویٰ اور سچ کو اختیار کیا۔
إِنَّ التُّجَّارَ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى وَبَرَّ وَصَدَقَ.بے شک تاجر قیامت کے دن فاجروں کے ساتھ جمع کئے جائیں گے مگر جس نے پرہیز گاری اختیار کی، نیکی کی اور سچائی اختیار کی۔
چنانچہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح تاجروں کی مذمت ہے اسی طرح اس کی تعریف بھی ہے۔
اور ایک دوسری حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ سچے تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوں گے۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ.حضرت ابوسعید سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: سچے امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوں گے۔
لہذا حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ سچے پکے اور امانت دار تاجران کا حشر کل قیامت میں انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ تجارت ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے سے انسان اپنا شمار انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ کراسکتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ وہ صرف دو صفتوں کو لازم پکڑلے: ایک تقویٰ اور دوسرا سچائی۔ کیونکہ تقویٰ دار تاجر اسی شخص کو کہا جائے گا جو حرام چیزوں سے تو یقیناً بچتا ہو لیکن جب اس کا سامنا کسی مشکوک اور مشتبہ چیز کے ساتھ ہو تب وہ اسے بھی چھوڑ دے۔ کیونکہ تقویٰ داری انسان کے اندر تب ہی آتی ہے جب وہ اپنے نفس پر قابو کرے۔ چونکہ حلال و حرام کی تمیز تو ایک دین دار شخص کر لیتا ہے۔ لیکن حدیث میں تو ذکر تقویٰ دار شخص کا ہے۔ تو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی تجارت کو شرعی اصول اور تقویٰ کے اعتبار سے چلائے۔ تب ہی وہ اپنا شمار انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ کراسکتا ہے۔
تاجر اگر تجارت کرتے ہوئے اپنی نیتوں کو تبدیل کرے تو اس کا یہ عمل بھی عبادت بن جائے گا۔ مثلاً وہ یہ نیت کرے کہ وہ مال اس لئے حاصل کر رہا ہے تاکہ وہ قوم کی خدمت کرے۔ وہ مال اس لئے حاصل کر رہا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اسلام کی خاطر اللہ کی راہ میں اپنے مال کو خرچ کرے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنا شمار سچے پکے تاجروں میں کرانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ پیسہ کمانا آج کل کے ماحول میں انتہائی آسان ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ پیسہ حلال طریقے سے کمائے۔ آج انسان جھوٹ بول کر، دھوکہ دے کر، اپنے مال کا عیب چھپا کر کئی لاکھ روپے کا فائدہ منٹوں میں کر سکتا ہے لیکن اگر اسے اپنی تجارت کو عبادت میں شمار کرانا ہے تو اسے کچھ اپنا نقصان کرنا پڑے گا۔ جسے وہ وقتی طور پر نقصان اور گھاٹا محسوس کرے گا لیکن اس کا گھاٹا کرنا اس کی نیکی ہے۔ چونکہ مال تو اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے نصیب میں لکھا ہوگا نہ اس سے ایک تنکا کم اور نہ اس سے ایک تنکا زیادہ۔
لہذا احقر کی تمام تاجروں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی تجارت میں اوپر ذکر کردہ چیزوں کو شامل کر لیں۔ اور وہ چیزیں جس کی برائی بیان کی گئی ہے اس سے اجتناب کریں۔
Have a question on this?
An article speaks generally. If your own case differs, send the details and ask directly.
Ask Mufti Arbab

