سفر
37 duas
کسی کو رخصت کرنے کی دعا
أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ
(ترمذی)
میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں تیرے دین کو، امانت و دیانت کو اور تمہارے عمل کے خاتموں کو (سفر کے انجام کو، وہی سب کا محافظ ہے).
سفر میں جانے والے کو یہ دعا دے
زَوَّدَكَ اللهُ التَّقْوَى وَغَفَرَ ذَنْبَكَ وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُ مَا كُنْتَ
(ترمذی)
اللہ تعالیٰ تقویٰ اور پرہیزگاری کو تیرا توشئہ سفر بنائے، تیرے گناہ معاف کر دے اور جہاں بھی تو رہے خیر و برکت تیرے لئے آسان فرما دے.
مسافر چلا جائے تو یہ دعا دے
اَللَّهُمَّ أطْوِ لَهُ الْبُعْدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ
(ترمذی)
اے اللہ خیر و عافیت کے ساتھ اس کو مسافت طے کرا دے اور سفر کو اس کیلئے آسان کر دے.
رخصت ہونے والا جاتے وقت یہ دعا دے
أَسْتَوْدِعُكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا تَضِيعُ وَدَائِعُهُ
(حسن)
میں بھی تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں جس کے سپرد کی ہوئی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں.
سفر کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے
اَللَّهُمَّ بِكَ أصولُ وَبِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَسِيرُ
(حصن حصین)
اے اللہ! میں تیری ہی مدد سے حملہ کرونگا، تیری ہی مدد سے تدبیر کرونگا اور تیری ہی مدد سے سفر کرونگا.
سواری کی دعا
جب سوار ہونے لگے اور رکاب یا پائدان پر قدم رکھے تو بسم اللہ کہے اور جب جانور کی پشت پر بیٹھ جائے یا سوار ہو جائے تو الحمد للہ کہے۔ پھر یہ آیت پڑھے:
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّلَا لَمُنْقَلِبُونَ
(زخرف)
پاک ہے وہ خدا جس نے اس سواری کو ہمارے قابو میں کر دیا ورنہ ہم اس کو اپنے قابو میں نہیں لا سکتے تھے اور بے شک ہم مرنے کے بعد اپنے پروردگار کے پاس ضرور لوٹ کر جائینگے.
اس کے بعد تین بار الحمد للہ اور تین بار اللہ اکبر اور ایک مرتبہ لا إله إلا الله کہے پھر یہ دعا پڑھے:
سُبْحَانَكَ إِنِّی ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
(مشکوۃ)
پاک ہے تو، بے شک میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ہے کہ تیری نافرمانی کرتا رہا پس تو مجھے بخش دے۔ بیشک تیرے سوا اور کوئی گناہ نہیں بخش سکتا. (اس کو پڑھ کر مسکرانا بھی مستحب ہے — مشکوۃ)
سفر کو روانہ ہوتے وقت کی دعائیں
اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اَللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اَللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اَللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ
(مسلم)
اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی کی اور پرہیزگاری کی اور جو عمل تجھے پسند ہو اس کی درخواست کرتے ہیں۔ اے اللہ! تو ہمارا یہ سفر ہم پر آسان کر دے اور اس کی مسافت کو طے کر دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ہمارا رفیق اور گھر بار میں ہمارا قائم مقام ہے (تو ہماری اور ہمارے گھر بار کی حفاظت کر)۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی سختیوں سے اور سفر میں کسی تکلیف دہ منظر سے اور مال اور اہل میں تکلیف دہ واپسی سے پناہ مانگتا ہوں.
اَللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اَللَّهُمَّ اصْحَبْنَا فِي سَفَرِنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلِنَا، اَللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ، وَمِنَ الْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْرِ، وَمِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُومِ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ
(ترمذی)
اے اللہ! تو ہی سفر میں ہمارا رفیق اور گھر بار میں ہمارا قائم مقام ہے، اے اللہ! تو ہمارے سفر میں ہمارا رفیق بن جا اور ہمارے اہل میں ہمارا قائم مقام بن جا۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی سختیوں سے اور سفر میں تکلیف دہ واپسی سے اور ترقی کے بعد تنزل سے اور مظلوم کی بد دعا اور واپسی پر اہل و مال میں کسی تکلیف دہ منظر سے.
(جب بلندی پر چڑھے تو اللہ اکبر پڑھے اور جب بلندی سے نیچے اترے تو سبحان اللہ کہے اور جب کسی پانی بہنے کی نشیب سے گزرے تو لا إله إلا الله والله أكبر کہے، اگر سواری کا پیر پھسل جائے یا حادثہ ہو جائے تو بسم اللہ کہے — حسن)
بحری جہاز یا کشتی کی دعا
بِسْمِ اللهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَحِيمٌ، وَمَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
(حصن)
اللہ کے نام سے ہی اس کا لنگر اٹھانا ہے اور ڈالنا ہے بیشک میرا رب غفور رحیم ہے (اور ان کافروں، مشرکوں نے اللہ کی قدر کرنے کا جیسا حق تھا ویسی قدر نہیں کی حالانکہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہونگے) درحقیقت اللہ پاک و منزہ اور بلند و برتر ہے ان مشرکوں کے شرک سے.
بستی میں داخل ہونے کی دعائیں
جب بستی نظر آئے تو یہ دعا پڑھے (حسن):
اَللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرْضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، فَإِنَّا نَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا
اے اللہ! ساتوں آسمانوں کے اور اس تمام مخلوق کے پروردگار، جس پر یہ چھائے ہوئے ہیں اور ساتوں زمینوں کے اور اس تمام مخلوق کے پروردگار، جس کو یہ اٹھائے ہوئے ہیں اور تمام شیطانوں کے اور اس تمام مخلوق کے رب، جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے اور تمام ہواؤں کے اور ان چیزوں کے رب، جن کو ہواؤں نے پراگندہ کر دیا ہے، پس ہم تجھ سے ہی اس بستی کی اور اس بستی والوں کی اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر و برکت کی دعا مانگتے ہیں اور تجھ سے ہی اس بستی کے اور بستی والوں کے اور جو کچھ بھی اس بستی میں ہے اس کے شر سے پناہ مانگتے ہیں.
جب بستی میں داخل ہونے لگے تو تین بار یہ دعا پڑھے (حسن):
اَللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهَا
اے اللہ تو ہمیں اس بستی میں خیر و برکت عطا فرما.
اور یہ دعا پڑھے (حسن):
اَللَّهُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاهَا، وَحَبِّبْنَا إِلَى أَهْلِهَا وَحَبِّبْ صَالِحِي أَهْلِهَا إِلَيْنَا
اے اللہ تو ہم کو اس بستی کے ثمرات و منافع عطا فرما اور اس بستی والوں کو ہماری محبت، اور اس کے نیکوکار باشندوں کی محبت ہم کو نصیب فرما.
يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللهُ، أَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا خَلَقْتِ فِيكِ وَشَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ، وَأَعُوذُ بِاللهِ مِنْ أَسَدٍ وَأَسْوَدَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ شَرِّ سَاكِنِي الْبَلَدِ وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ
(حسن)
اے سرزمین! میرا بھی رب اللہ ہے، تیرا بھی رب اللہ ہے، میں اس اللہ کی پناہ لیتا ہوں تیرے شر سے اور جو کچھ تیرے اندر پیدا کیا ہے اس کے شر سے اور جو جانور تیرے اوپر چلتے ہیں ان کے شر سے، اور میں پناہ لیتا ہوں اللہ کی جنگل کے شیر سے اور کالے ناگ سے اور ہر سانپ بچھو سے اور شہر کے باشندوں کے شر سے اور ہر باپ اور بیٹے کے شر سے.
سفر میں سحر کے وقت تین مرتبہ بلند آواز کہے
سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللهِ وَنِعْمَتِهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللهِ مِنَ النَّارِ
(حصن)
سن لیا ہر سننے والے نے (یعنی سب گواہ ہیں) اللہ کی حمد و ثنا کو اور اس کے فضل اور انعام کو اور ہم پر اس کے احسان کی خوبی کو۔ اے پروردگار! تو پورے سفر میں ہمارا رفیق رہ اور ہم پر فضل و انعام فرما۔ دوزخ کی آگ سے اللہ کی پناہ لیتے ہوئے (یہ کہہ رہا ہوں).
فائدہ: حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو سوار اپنے سفر میں دنیاوی باتوں سے دل ہٹا کر اللہ کی طرف دھیان رکھے اور اس کی یاد میں لگا رہے اس کے ساتھ فرشتہ رہتا ہے اور جو شخص واہیات شعروں میں یا کسی اور بیہودہ شغل میں لگا رہتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان لگا رہتا ہے — حسن
(اگر سفر میں دشمن وغیرہ کا خوف ہو تو سورہ لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ پڑھے۔ بعض بزرگوں نے اس کو مجرب بتایا ہے — حسن)
پانچ سورتیں مع چھ بسم اللہ
(فائدہ: حضور اقدس ﷺ نے حضرت جبیر بن مطعم کو بتایا کہ سفر میں ان پانچ سورتوں کو پڑھیں: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ، قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔ ہر سورت «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» سے شروع کی جائے اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» کے ختم پر بھی بسم اللہ پڑھی جائے، اس طرح بسم اللہ چھ مرتبہ ہو جائے گی۔ حضرت جبیر کا بیان ہے کہ جب کبھی میں سفر میں نکلتا تھا تو مالدار ہونے کے باوجود بھی زادِ راہ ساتھیوں سے کم رہ جاتا تھا اور میرا حال بُرا ہو جاتا تھا لیکن جب میں نے یہ سورتیں پڑھنا شروع کیں اس وقت سے میں واپس ہونے تک اپنے تمام رففائے سفر سے اچھی حالت میں رہتا ہوں اور زادِ راہ بھی ان سب سے زیادہ میرے پاس رہتا ہے — حصن حصین)
سفر سے واپس ہونے کی دعائیں
جب سفر سے واپس ہونے لگے تو سواری پر بیٹھ کر سواری کی دعا پڑھے۔ پھر سفر کی دعا پڑھے آخر تک.
ہر بلندی پر تین مرتبہ اللہ اکبر کہے اور پھر یہ دعا پڑھے:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ سَائِحُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ہے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی کا تمام ملک ہے اور اسی کی سب تعریف ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، ہم سفر سے واپس آنے والے ہیں اور اپنی کوتاہیوں سے توبہ کرنے والے ہیں، اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اسی کو سجدہ کرنے والے ہیں اور اسی کی راہ میں سفر کرنے والے ہیں، اپنے پروردگار کی حمد و ثنا کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دیا اور اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور تن تنہا دشمنوں کی فوجوں کو شکست دی.
جب اپنے شہر کے قریب پہنچے تو شہر میں داخل ہونے تک برابر یہ دعا پڑھتا رہے:
آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ
(ترمذی)
ہم سفر سے لوٹنے والے ہیں، اپنی کوتاہیوں سے توبہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں.
سفر سے واپس گھر میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھے (حسن):
آيِبُونَ آيِبُونَ لِرَبِّنَا تَوْبًا لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا
ہم سفر سے لوٹ رہے ہیں، لوٹ رہے ہیں، اپنے رب کے سامنے توبہ کر رہے ہیں (خدا کرے) وہ کوئی بھی گناہ نہ چھوڑے (سب بخش دے).
جب کسی سواری پر سوار ہو
جب کسی بھی سواری پر سوار ہو تو یہ دُعا پڑھنی چاہئے :-
سُبُحْنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ. وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ
(الزخرف : ۱۳، ۱۴)
جب کشتی یا جہاز چلنے لگے تو یہ کلمات کہیں :۔
بِسْمِ اللهِ مَجْرِهَا وَمُرُسُهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رحيم
(ہود : ۴۱ / عمل اليوم والليلة ص: ۱۳۴)
سفر کی دعا
جب سفر پر روانہ ہو تو یہ دُعا مانگے :-
اللهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَّعُشَاءِ السَّفَرِ وَكَابَةِ الْمَنْظَرُ وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الأهْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلَدِ اللَّهُمَّ هَوَنُ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْرِ عَنَّا بُعْدَهُ
(الاذكار)
جب سواری ٹھیک نہ چلے
جب سواری کو ٹھوکر لگے، یا دھکا لگے تو ”بسم اللہ“ کہنا چاہئے، اور اگر کوئی سواری ٹھیک نہ چل رہی ہو یا اسے چلانا مشکل ہو رہا ہو تو یہ آیت پڑھے (سواری جانور ہو تو اس کے کان میں پڑھے):-
أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ
(آل عمران : ۸۳ / ابن السنی ص: ۱۳۶)
جب کسی نئی بستی میں داخل ہو
جب کوئی شخص کسی نئی بستی میں داخل ہو تو یہ دُعا کرے :-
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ وَخَيْرَ أَهْلِهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ أَهْلِهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا
یہ دعا ان الفاظ سے بھی مروی ہے:۔
اَللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ وَرَبَّ الْأَرْضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ فَإِنَّا نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ الْقَرْيَةِ
(ابن السنی)
نیز یہ دُعا پڑھ لینا بھی بہتر ہے:۔
اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاهَا وَحَيْنَا إِلَى أَهْلِهَا وَحَبِّبُ صَالِحِي أَهْلِهَا إِلَيْنَا
(حصن حصین)
جب کسی ویرانے پر قیام کرنا پڑے
اگر سفر کے دوران کسی غیر آباد ویرانے میں رات آجائے ، اور وہاں قیام کرنا پڑے تو اس سرزمین کو خطاب کر کے کہے:۔
يَا أَرْضُ رَبِّي وَرَبُّكِ اللَّهُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا خَلَقَ فِيُكِ وَشَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ أَسَدٍ وَّاسْوَدَ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ شَرِّ مَا سَاكِنِي الْبَلَدِ وَمِنْ وَّالِدٍ وَمَا وَلَدَ
(حصن حصین)
سفر کے دوران
سفر کے دوران جب کسی چڑھائی پر چڑھے تو "الله اكبر" کہے، اور جب اُترائی میں اُترے تو "سُبْحَانَ الله" کہے۔ (ابن السنی ص: ۱۳۸)
اور جب سفر کے دوران صبح کا وقت ہو تو یہ کلمات کہے:-
سِمَعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلَاءِهِ عَلَيْنَا ، رَبَّنَا صَاحِبُنَا وَافْضِلُ عَلَيْنَا ، عَائِدًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ
(ابن السنی ص: ۱۳۷)
سفر سے واپسی پر
جب کوئی شخص سفر سے واپس آئے اور اپنے وطن کی علامتیں نظر آنے لگیں تو یہ کلمات کہے (بلکہ گھر میں داخل ہونے تک کہتا رہے):۔
اثْبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ
(صحیح مسلم)
گھر میں داخل ہوتے وقت (سفر کے بعد)
پھر جب سفر سے واپسی اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو یہ کلمات کہے:۔
تَوْبًا ، تَوُبًا ، لِرَبِّنَا أَوْبًا، لَا يُغَادِرُ عَلَيْنَا حَوْبًا
(حصن حصین)
اس کے بعد وہ دعا بھی پڑھ لینی چاہئے جو ہمیشہ گھر میں داخل ہوتے وقت مسنون ہے:۔
جب کوئی شخص سفر کا ارادہ ظاہر کرے
جب کوئی شخص بتائے کہ وہ سفر پر جا رہا ہے تو اس کو یہ دُعا دی جائے:۔
زَوَّدَكَ اللهُ التَّقْوَى وَغَفَرَ ذَنْبَكَ وَوَجَّهَكَ فِي الْخَيْرِ حَيْثُ تَوَجَّهْتَ
(ابن السنی ص: ۱۳۴)
پھر جب اسے رُخصت کرے تو کہے :-
اَسْتَودِعُ اللهَ دِينَكَ وَأَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكَ
نیز یہ کہے:۔
اَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا يُضِيعُ وَدَائِعَهُ
(ايضا)
سفر اور زیارت کی دعائیں
جب سواری پر بیٹھ جائے تو یہ دعا پڑھے
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ
(الزخرف: ۱۳-۱۴)
اللہ پاک ہے جس نے اس کو ہمارے قبضے میں دے دیا اور ہم اس کی قدرت کے بغیر اس کو قابو میں کرنے والے نہ تھے اور ہم کو اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانا ہے۔
جب قبرستان میں جائے تو یہ دعا پڑھے
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ
(ترمذی: ۱۰۵۳)
اے قبرو! تم پر سلام ہو۔ اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے، تم ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔
سواری پر بیٹھنے کی دعا
بِسْمِ اللهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ
(صحیح - سنن ابی داؤد: 2602)
سفر روانگی کی دعا
اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ
(صحیح مسلم: 1342)
کسی بستی یا شہر میں داخل ہوتے وقت
اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلْنَ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقْلَلْنَ، وَرَبَّ الشَّيَاطِينِ وَمَا أَضْلَلْنَ، وَرَبَّ الرِّيَاحِ وَمَا ذَرَيْنَ، أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ الْقَرْيَةِ، وَخَيْرَ أَهْلِهَا، وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا، وَشَرِّ أَهْلِهَا، وَشَرِّ مَا فِيهَا
(صحیح - صحیح ابن خزیمہ: 2565)


