بیماری و شفا
18 duas
مریض کی عیادت کے وقت کی دعائیں
مریض کی شفایابی کے لئے سات مرتبہ یہ دعا پڑھے:
أَسْأَلُ اللهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ
(مشکوۃ)
میں خدائے بزرگ و برتر سے دعا کرتا ہوں جو عرشِ عظیم کا مالک ہے کہ وہ تجھے شفا دے دے.
اپنا دایاں ہاتھ مریض پر رکھ کر یہ دعا پڑھے:
أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
(بخاری)
اے تمام انسانوں کے پروردگار! تکلیف دور فرما دے اور شفا فرما دے، آپ شفا دینے والے ہیں، آپ کے سوا کوئی شفا نہیں دے سکتا، ایسی شفا فرما دے جو بیماری کا کوئی حصہ نہ چھوڑے.
فائدہ: ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ اس دعا کا پڑھنا خود مریض کے لئے بھی ہر مرض کی شفا کے لئے کافی ہے
مصیبت کے وقت کی دعا
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اَللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا
(مسلم)
بیشک ہم سب اللہ کے ہی ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میری اس مصیبت میں مجھے اجر دے اور اس کے عوض مجھے بہتر بدل عطا فرما.
پھوڑا، پھنسی اور زخم کی دعا
جب بدن میں کسی جگہ تکلیف ہو یا پھوڑا پھنسی ہو یا زخم ہو تو شہادت کی انگلی پر اپنا تھوک لگا کر زمین پر رکھ دے، پھر اٹھا کر تکلیف کی جگہ پر پھیرتے ہوئے یہ دعا پڑھے:
بِسْمِ اللهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا
(بخاری و مسلم)
اللہ کے نام کے ساتھ، ہماری زمین کی مٹی، ہم ہی میں سے کسی کے تھوک میں ملی ہوئی ہے تاکہ ہماری بیماری کو ہمارے رب کے حکم سے شفا ہو.
بدن میں تکلیف کیلئے دعا
اگر بدن میں کسی جگہ درد ہو یا اور کوئی تکلیف ہو تو تکلیف کی جگہ داہنا ہاتھ رکھ کر تین بار بسم اللہ پڑھے پھر سات بار یہ دعا پڑھے:
أَعُوذُ بِاللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ
(حسن)
میں اللہ اور اس کی قدرت کی پناہ لیتا ہوں اس تکلیف کے شر سے جو مجھے ہو رہی ہے اور جس سے میں ڈر رہا ہوں.
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ جب علیل ہوتے تھے تو معوذات پڑھ کر اپنے ہاتھ پر دم کر کے آگے پیچھے سارے جسم پر ہاتھ پھیرتے تھے (بخاری و مسلم). اگر گھر میں کوئی دوسرا بیمار ہوتا تو آپ ﷺ اس پر معوذات پڑھ کر دم فرماتے تھے (مشکوۃ). معوذات یہ ہیں: (1) قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (2) قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (3) قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (4) قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ.
رشد (نیکی) کے الہام اور نفس کے شر سے حفاظت کی دعا
اَللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي
(ترمذی)
اے اللہ تو میرے دل میں نیکوکاری ڈال دے اور میرے نفس کے شر سے مجھے پناہ دے.
بچہ کے لئے تعویذ
بچہ کو نظر بد اور ہر طرح کی آفت و بلا، دکھ بیماری سے محفوظ رکھنے کے لئے یہ تعویذ لکھ کر گلے میں ڈال دے:
أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ
(بخاری)
میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کی پناہ لیتا ہوں ہر شیطان اور زہریلی بلا کے شر سے اور ہر لگنے والی نظر بد سے.
اپنی بیماری میں پڑھنے کی دعا
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ
(حصن حصین)
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا (ویگانہ) ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کا تمام ملک ہے اسی کیلئے سب تعریف ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور کوئی بھی طاقت و قوت اللہ کے سوا میسر نہیں. (فائدہ: حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص اپنی بیماری کے زمانہ میں مذکورہ بالا کلمات پڑھتا رہا اور وفات پا گیا تو دوزخ کی آگ اس کو نہ کھا سکے گی۔ دوسری حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص دن میں یا رات میں (ہفتہ یا مہینہ میں) ایک دفعہ اس دعا کو پڑھ لے گا وہ اگر دن میں یا رات میں (ہفتہ یا مہینہ میں) مر گیا تو اس کے گناہ ضرور بخشے جائینگے — حسن).
جب کان بند ہو جائے
جب کسی کا کان بند ہو جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تصور کر کے آپ پر درود شریف پڑھے، پھر یہ جملہ کہے:۔
ذَكَرَ اللَّهُ بِخَيْرٍ مَنْ ذَكَرَنِي
(عمل اليوم والليلة لابن السنی ص: ۴۶)
جب کوئی شخص جسم سے کوئی مضر چیز دُور کرے
اگر جسم پر کوئی گندگی لگ گئی ہو، یا کوئی کیڑا وغیرہ چڑھ گیا ہو، اور دوسرا شخص اُسے ہٹا دے، تو اسے یہ دُعا دے:۔
مَسَحَ اللَّهُ عَنْكَ مَا تَكْرَهُ
(ايضا)
جب کسی بیمار کی عیادت کرے
جب کسی بیمار کے پاس عیادت کے لئے جائے تو اس سے خطاب کر کے کہے:۔
نیز سات مرتبہ یہ دُعا کرے:۔
نیز اپنا دایاں ہاتھ مریض پر رکھ کر یہ دعا پڑھے:۔
اَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِى لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاءُكَ شِفَاءٌ لَّا يُغَادِرُ سَقَمًا
(بخاری)
نیز یہ دُعا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے:۔
بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللهِ أَرْقِيكَ
(مسلم، ترمذی، نسائی)
جب کوئی درد محسوس ہو
جب جسم کے کسی بھی حصے میں درد ہو تو درد کی جگہ پر خود اپنا دایاں ہاتھ رکھ کر تین مرتبہ ”بسم اللہ“ پڑھے، اور سات مرتبہ یہ دُعا پڑھے:۔
أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَاحَاذِرُ
(مسلم، موطا مالک)
جب کسی کے جسم پر زخم یا پھوڑا ہو
اپنی شہادت کی انگلی پر تھوڑا سا تھوک لگا کر اسے زمین پر رکھا جائے، پھر اسے اُٹھا کر زخم پر رکھ کر یہ کلمات کہے جائیں :-
بِسْمِ اللهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى سَقِيمُنَا
(مسلم ، حصن حصین مع حاشیه)
جب بخار ہو
جب کسی کو بخار ہو تو بخار کی حالت میں مریض خود یا عیادت کرنے والا پیشانی پر ہاتھ رکھ کر یہ دُعا پڑھے:۔
بِسْمِ اللهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ مِنْ شَرِّ كُلِّ عِرْقٍ نَّعَّارٍ وَّمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ
(حاکم و ابن ابی شیبہ)
جب آنکھ دُکھے
جب آنکھ دُکھ آئے تو یہ دعا کی جائے:۔
اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِى وَاجْعَلُهُ الْوَارِثَ مِنِّي وَاَرِنِي فِي الْعَدُوِّ تَارِي وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي
(ابن السنی ص: ۱۵۲، وحصن حصین ص: ۱۷۵)
جب پیشاب رک جائے
اگر کسی کا پیشاب رک جائے یا پتھری کا مرض ہو تو اس پر یہ دُعا پڑھ کر دم کیا جائے:۔
رَبُّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلُ رَحْمَتَكَ فِي الْأَرْضِ وَاغْفِرْ لَنَا حُوْبَنَا وَخَطَايَانَا أَنْتَ رَبُّ الطَّيِّبِينَ فَأَنْزِلُ شِفَاءٌ مِّنْ شِفَاءكَ وَرَحْمَةً مِّنْ رَّحْمَتِكَ عَلَى هَذَا الْوَجْعِ
(حصن حصین ص: ۱۷۳)
اگر زندگی سے اُکتا جائے
اگر کوئی شخص دُنیا اور اس کی تکلیفوں سے اُکتا جائے تو موت کی نہ تمنا کرے، نہ موت کی دعا مانگے ، البتہ یہ دُعا کرے:۔
اَللَّهُمَّ اَحْسِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي
(بخاری و مسلم)


