Skip to content

   

Duas

Istikharah & Hajah

The prayer of need, and asking for the better of two roads.

استخارہ و حاجت

7 duas

نماز حاجت

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جسے اللہ سے کوئی حاجت ہو یا کسی بندہ سے کوئی حاجت ہو، تو وہ اچھی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ کی تعریف کرے اور نبی ﷺ پر درود پڑھے اور پھر یوں دعا مانگے:

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

(ترمذی)

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑا ہی بردبار کرم کرنے والا ہے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب (مالک) ہے، سب تعریف مخصوص ہے اللہ رب العالمین کے لئے (اے اللہ) میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیری رحمت کے واجب کر دینے والے اسباب کا اور تیری مغفرت کو پختہ کر دینے والی خصلتوں کا اور ہر نیکوکاری کی نعمت کا اور ہر نافرمانی سے سلامتی کا، اے اللہ تو میرے کسی گناہ کو بغیر بخشے نہ چھوڑ اور میرے کسی فکر و پریشانی کو بغیر دور کئے مت چھوڑ اور میری کسی حاجت کو جو تیری مرضی کے مطابق ہو بغیر پورے کئے نہ چھوڑ، اے سب سے بڑے رحم کرنے والے!

دعائے استخارہ

حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو استخارہ اس طرح (اہتمام سے) سکھاتے تھے جیسے قرآن شریف کی سورت سکھاتے تھے اور یوں ارشاد فرمایا کرتے تھے: کہ تمہیں کوئی کام درپیش ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھ کر یہ دعا پڑھیں:

اَللَّهُمَّ إِنِّی أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اَللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدِرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّی وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدِرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ (بخاری)

(هذا الأمر کی جگہ اپنی ضرورت کا نام لے)

اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعہ تجھ سے بہتری طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعہ قدرت طلب کرتا ہوں اور تیرے عظیم فضل و انعام کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اسلئے کہ تو ہر کام کی قدرت رکھتا ہے اور میں کسی بھی کام کی قدرت نہیں رکھتا، اور تو سب کچھ جانتا ہے اور میں کچھ نہیں جانتا اور تو ہی تمام پوشیدہ باتوں کو خوب اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تجھے معلوم ہے کہ یہ کام میرے حق میں میرے دین کے اعتبار سے بہتر ہو، یا میری معیشت دنیوی زندگی اور میرے انجام کے اعتبار سے بہتر ہو تو تو اس کو میرے لئے مقدر کر دے اور آسان کر دے اور اس میں برکت دے اور اگر تیرے علم میں میرے لئے یہ کام میری دنیا و آخرت میں شر (اور برا) ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھ کو اس سے دور فرما اور میرے لئے خیر مقدر فرما میری بہتری جہاں کہیں بھی ہو اور مجھے اپنی تجویز پر راضی فرما دے.

استخارے کی دُعا

دو رکعتیں استخارے کی نفلوں کی نیت سے پڑھے، پھر سلام کے بعد یہ دُعا کرے (بہتر ہے کہ اہم کاموں کے لئے یہ عمل سات دن تک کیا جائے):-

اَللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَاسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اَللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدِرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكُ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدِرُ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ اَرْضِنِي بِهِ

(ترمذی وغیرہ)

جب کوئی کشمکش ہو

اگر باقاعدہ استخارہ کرنے کا وقت نہ ہو یا جلدی فیصلہ کرنا ہو تو یہ دعائیں کثرت سے پڑھے :-

اللَّهُمَّ خِرُ لِي وَاخْتَرْ لِي

(ترمذی)

اللَّهُمَّ اهْدِنِي وَسَدِّدْنِي وَقِنِي شَرَّ نَفْسِي

اَللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَاعْزِمُ لِي عَلَى رُشْدِ أَمْرِي

دعائے استخارہ

جب کوئی اہم کام درپیش ہو تو دو رکعت نفل پڑھ کر یہ دعا کرے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ

(صحیح البخاری: 1162)

یہاں اپنے کام کا نام لے