سلام و معاشرت
16 duas
کسی مسلمان کو سلام اس طرح کرے
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ
تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو
سلام کا جواب اس طرح دے
وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
اگر «وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» نہ بڑھایا جائے تو سلام اور جواب سلام ادا ہو جاتا ہے مگر الفاظ بڑھانے سے ثواب بڑھ جاتا ہے
(ایک دفعہ بارگاہ رسالت میں ایک شخص حاضر ہوا اس نے السلام علیکم کہا آپ ﷺ نے جواب دیا اور فرمایا اس کو دس نیکیاں ملیں۔ دوسرا شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا آپ ﷺ نے جواب دیا اور فرمایا اس کو بیس نیکیاں ملیں۔ پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا اس کا جواب دیگر حضور ﷺ نے فرمایا اس کو تیس نیکیاں ملیں پھر چوتھا شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ و مغفرتہ کہا۔ اس کا جواب دیگر حضور ﷺ نے فرمایا اس کو چالیس نیکیاں ملیں۔ پھر بطور قاعدہ کلیہ کے فرمایا اس طرح فضائل بڑھتے ہیں — ابوداؤد و مشکوۃ).
(فائدہ: سلام کرنے والا جتنے الفاظ کہے کم از کم اتنے الفاظ میں اس کا جواب دے اور اگر الفاظ سے زیادہ دعا کا اضافہ کر دے تو بہت ہی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا).
مسلمان سلام بھیجے تو جواب میں یوں کہے
عَلَيْكَ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ
(حصن)
تم پر اور اس پر سلامتی ہو.
وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ
اس پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں نازل ہوں.
فائدہ: سلام کے ساتھ مسلمان بھائی کے ساتھ مصافحہ بھی کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو مسلمان آپس میں ملاقات کر کے مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے پہلے ان کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں — ترمذی۔ ابوداؤد کی روایت میں یوں ہے کہ جب دو مسلمان ملاقات کے وقت مصافحہ کریں اور اللہ کی حمد بیان کریں اور مغفرت کی دعا کریں تو ان کی مغفرت کر دی جاتی ہے — مشکوۃ
چھینکنے والا اور سننے والا یہ کہے
جب کسی کو چھینک آئے تو یہ کہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ یعنی شکر ہے اللہ تعالیٰ کا یا الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ یعنی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ہے۔ سننے والا چھینکنے والے کو یوں کہے: يَرْحَمُكَ اللهُ یعنی اللہ تم پر رحم فرماۓ۔ اس کے جواب میں چھینکنے والا یوں کہے: يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ یعنی اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے (مشکوۃ عن البخاری). (اگر چھینکنے والا «الحمد لله» نہ کہے تو اس کیلئے «يرحمك الله» کہنا واجب نہیں ہے۔ اگر «الحمد لله» کہے تو واجب ہے۔ اگر چھینکنے والے کو زیادہ چھینکیں آئیں تو دو تین مرتبہ کے بعد جواب ضروری نہیں — مشکوۃ).
بدشگونی کا کفارہ
کسی چیز یا حالت کو دیکھ کر ہرگز بدفالی نہ لے اس کو حدیث شریف میں شرک بتایا گیا ہے (حصن حصین). جب کوئی بدشگونی کی ناگوار بات دیکھے تو یہ دعا پڑھے:
اَللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا يَذْهَبُ بِالسَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ
اے اللہ! تیرے سوا کوئی اچھائیوں کو نہیں لاسکتا، اور تیرے سوا کوئی برائیوں کو دور نہیں کر سکتا اور کوئی طاقت اور قوت تیری مدد کے بغیر میسر نہیں.
جب کوئی شخص خوشخبری دے
جب کوئی شخص خوشخبری سنائے تو اسے یہ دُعا دے:۔
بَشَّرَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
(ايضا)
ہر مجلس کے آخر میں
جب کسی مجلس میں دیر تک باتیں کی گئی ہوں تو آخر میں یہ کلمات کہہ لینے چاہئیں، انشاء اللہ مجلس میں باتوں کے دوران کوئی اُونچ نیچ ہوگئی ہوگی تو معاف ہو جائے گی :-
سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
(ابن السنی ص: ۱۲۰)
نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر مجلس کے ختم پر تمام حاضرین کے لئے یہ دُعا فرمایا کرتے تھے :-
اللَّهُمَّ اقْسِمُ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِهِ جَنَّتَكَ وَمِنَ الْيَقِينِ مَا تُهَوِّنُ بِهِ عَلَيْنَا مَصَائِبَ الدُّنْيَا وَمَتِّعْنَا بِأَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا أَحْيَيْتَنَا وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنَّا وَاجْعَلْ ثَأْرَنَا عَلَى مَنْ ظَلَمَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى مَنْ عَادَانَا وَلَا تَجْعَلُ مُصِيبَتَنَا فِي دِينِنَا وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا وَلَا غَايَةَ رَغْبَتِنَا وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَّا يَرْحَمُنَا
(ابن السنی، کتاب الزہد لابن المبارک)
نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ: جو شخص یہ چاہے کہ اسے پیمانہ بھر بھر کر (ثواب) ملے تو وہ اپنی مجلس کے آخر میں یا مجلس سے اُٹھتے وقت یہ کلمات کہا کرے :-
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَمٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ
(کتاب الاذکار، بحوالہ ابو نعیم ص: ۳۸۲)
مبارکباد اور خاص مواقع کی دعائیں
جب نیا چاند دیکھے تو یہ دعا پڑھے
اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ
(ترمذی: ۳۴۵۱)
اے اللہ تو ہمارے اوپر برکت اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ اسے نکالا رکھ، (اے چاند!) میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔
کسی مریض مسلمان کی عیادت کو جائے تو یوں تسلی دے
لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
(بخاری: ۳۶۱۶)
کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ بیماری گناہوں سے پاک کرنے والی ہے۔
چھینک کے آداب و دعائیں
سننے والا جواب دے
يَرْحَمُكَ اللَّهُ
چھینکنے والا واپس دعا دے
يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
(صحیح البخاری: 6224)
خوشخبری ملنے پر
نبی ﷺ خوشخبری پر سجدۂ شکر ادا کرتے اور فرماتے:
تعجب کے وقت
سُبْحَانَ اللهِ! اللهُ أَكْبَرُ!
باہمی تعلقات کے اذکار
کہنے والا کہے
إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ
جواب دیا جائے
أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ
(حسن - سنن ابی داؤد: 5125)


