Skip to content

   

Duas

Hajj & Qurbani

The talbiyah, the tawaf, the sa'y, Arafat, and the sacrifice.

حج و قربانی

28 duas

حج کا تلبیہ (احرام باندھنے کے وقت پڑھنا ضروری ہے)

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ

(مشکوۃ)

حاضر ہوں، میں اے اللہ! حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، میں حاضر ہوں، بے شک تمام تر تعریف اور انعام و احسان تیرا ہی ہے اور سلطنت بھی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے.

فائدہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بھی مسلمان تلبیہ پڑھتا ہے تو جہاں تک مشرق اور مغرب ہے اس کے دائیں بائیں ہر پتھر اور ہر درخت اور مٹی کا ڈھیلہ یہ سب تلبیہ پڑھتے ہیں۔ تلبیہ سے فارغ ہو کر اللہ تعالیٰ سے اس کی خوشنودی اور جنت کا سوال کرے اور دوزخ سے نجات کی دعا مانگے — مشکوۃ

عرفات میں پڑھنے کی دعا

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اَللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، اَللَّهُمَّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ وَسَاوِسِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْأَمْرِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، اَللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا يَلِجُ فِي اللَّيْلِ وَشَرِّ مَا يَلِجُ فِي النَّهَارِ وَشَرِّ مَا تَهُبُّ بِهِ الرِّيَاحُ

(حسن)

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا تمام ملک ہے، اسی کی سب تعریف ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ تو میرے دل میں نور پیدا کر دے اور میرے کانوں میں (بھی) نور اور آنکھوں میں (بھی) نور پیدا کر دے۔ اے اللہ تو میرا سینہ کھول دے اور میرا دنیا اور آخرت کا ہر کام میرے لئے آسان کر دے۔ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں زندگی میں سینہ (دل) کے وسوسوں سے، اور کام کی پراگندگی و پریشانی سے اور مرنے کے بعد قبر کے فتنہ (آزمائش) سے، اے اللہ میں تیری پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو رات میں داخل ہو (پیش آئے) اور ہر اس چیز کے شر سے جو دن میں داخل ہو (پیش آئے) اور ہر اس چیز کے شر سے جو ہوائیں اپنے ساتھ لاتی ہیں.

بيت اللہ کا طواف کرتے ہوئے پڑھے

سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ

(مشکوۃ)

اللہ پاک ہے اور تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے اور گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق اللہ کی طرف سے ہے.

قربانی کے جانور کو قبلہ رخ لٹا کر یہ پڑھے

إِنِّي وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اَللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ

(حسن)

بیشک میں نے اپنا منہ اس اللہ کی جانب کر دیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے، دین ابراہیمی پر سب سے منہ موڑ کر (قائم ہوں) اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بیشک میری تو نماز بھی، قربانی بھی، اور جینا بھی، مرنا بھی اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ (میں گواہی دیتا ہوں) اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں تو (سرتا پا) فرمانبرداروں میں سے ہوں. اے اللہ یہ قربانی تیری ہی جانب سے ہے اور تیرے ہی لئے ہے۔ اللہ کے نام پر (ذبح کرتا ہوں) اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے.

تلبیہ کے بعد

تلبیہ کے بعد یہ دُعا مانگے :-

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غُفْرَانَكَ وَرِضْوَانَكَ اللَّهُمَّ اعْتِقْنِي مِنَ النَّارِ

(حصن حصین)

جب حرم نظر آئے

مکہ مکرمہ پہنچ کر جب حرم نظر آئے تو یہ دُعا پڑھے:۔

اللَّهُمَّ هَذَا حَرَمُكَ وَآمُنُكَ فَحَرِّمُنِي عَلَى النَّارِ وَأُمِّنِي مِنْ عَذَابِكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ وَاجْعَلْنِي مِنْ أَوْلِيَاءِكَ وَأَهْلِ طَاعَتِكَ

(کتاب الاذکار ص: ۲۴۶)

بیت اللہ کو دیکھ کر

مسجد حرام میں داخلے کے بعد جب بیت اللہ شریف پر نظر پڑے تو یہ دعا کرے:۔

اللَّهُمَّ زِدْ هَذَا الْبَيْتَ تَشْرِيفًا وَتَكْرِيمًا وَمَهَابَةً وَزِدْ مَنْ شَرَّفَهُ وَكَرَّمَهُ مِمَّنْ حَجَّهُ اَوِ اعْتَمَرَهُ تَشْرِيفًا وَتَعْظِيمًا وَبَرَّا

(حصن حصین)

طواف شروع کرتے وقت

طواف کے شروع میں حجر اسود کے استلام کے بعد جب طواف کے لئے روانہ ہو تو یہ الفاظ کہے:۔

اللَّهُمَّ إِيمَانًا بِكَ وَتَصْدِيقًا بِكِتَابِكَ وَوَفَاء بِعَهْدِكَ وَاتِّبَاعًا لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

(طبرانی)

طواف کے دوران

طواف کے دوران یا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے دوران یہ دُعا پڑھنا بھی بہتر ہے:۔

اللَّهُمَّ فَنِعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ وَاخْلُفُ عَلَى كُلِّ غَائِبَةٍ لِي بِخَيْرٍ

(حصن حصین)

نیز طواف کے دوران یہ ذکر بھی بہتر ہے:۔

مقام ابراہیم پر

طواف کے بعد جب واجب الطواف پڑھنے کے لئے مقام ابراہیم پر جائے تو یہ آیت پڑھے :-

وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى

(البقره: ۱۲۵)

ان دو رکعتوں کے بعد یہ دُعا مانگے :-

اللَّهُمَّ لَا تَدَعُ لَنَا فِي مَقَامِنَا هَذَا ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ وَلَا هَمَّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً مِّنْ حَوَائِجِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا قَضَيْتَهَا وَيَسَّرْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

اور یہ دُعا مانگے :۔

اَللَّهُمَّ أَنَا عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ آتَيْتُكَ بِذُنُوبِ كَبِيرَةٍ وَأَعْمَالٍ سَيِّئَةٍ، وَهَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ النَّارِ، فَاغْفِرُ لِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ

(کتاب الاذكار)

سعی کے وقت

طواف کے بعد جب سعی کے لئے جائے تو صفا کے قریب پہنچ کر یہ آیت پڑھے:۔

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ

(البقره: ۱۵۸)

پھر سعی شروع کرنے سے پہلے کہے:۔

اَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ

پھر صفا پہاڑی پر ایسی جگہ کھڑا ہونا بہتر ہے جہاں سے بیت اللہ نظر آئے ، وہاں تین مرتبہ یہ کلمہ پڑھے:۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ

پھر کہے :-

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ اَنْجَزَ وَعُدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ

(مسلم)

اس کے بعد خاص طور پر یہ دُعا پڑھنا بہتر ہے:۔

اللَّهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ: ادْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمُ . وَإِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ كَمَا هَدَيْتَنِي لِلإِسْلَامِ أَن لَّا تَنْزِعَهُ مِنِّي حَتَّى تَتَوَفَّانِي وَأَنَا مُسْلِمٌ

(کتاب الاذکار للنووى ص: ۲۵۰)

نیز حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صفا پر یہ دُعا پڑھنا بھی ثابت ہے:۔

اللَّهُمَّ اعْصِمُنَا بِدِينِكَ وَطَوَاعِيَتِكَ وَطَوَاعِيَةِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنِّبْنَا حُدُودَكَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا نُحِبُّكَ وَنُحِبُّ مَلْئِكَتَكَ وَأَنْبِيَاءَكَ وَرُسُلَكَ وَنُحِبُّ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ، اَللَّهُمَّ حَبِّبُنَا إِلَيْكَ وَإِلَى مَلَئِكَتِكَ وَإِلَى أَنْبِيَاءِكَ وَرُسُلِكَ وَإِلَى عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ، اَللَّهُمَّ يَسِّرُنَا لِلْيُسْرَى وَجَنِّبْنَا الْعُسْرَى وَاغْفِرُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولَى وَاجْعَلْنَا مِنْ أَئِمَّةِ الْمُتَّقِينَ

(کتاب الاذكار)

پھر صفا اور مروہ کے درمیان جس جگہ دوڑتے ہیں، وہاں دوڑتے ہوئے یہ دُعا کریں:۔

رَبِّ اغْفِرُ وَارْحَمُ وَتَجَاوَزُ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْآعَزُّ الْأَكْرَمُ

(نیز اس کے بعد رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً... پڑھے، اور مروہ پر پہنچ کر بھی وہی اذکار کرے جو صفا پر کیے تھے)

عرفات میں

عرفات میں قیام کے دوران بھی ان کلمات کو حدیث میں بہترین کلمات کہا گیا ہے:۔

نیز یہ دعا بھی عرفات میں پڑھنی بہتر ہے:۔

اَللَّهُمَّ اجْعَلُ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي سَمُعِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا، اللَّهُمَّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرُ لِي أَمْرِي وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ وَسَاوِسِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الْأَمْرِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا يَلِجُ فِي اللَّيْلِ وَشَرِّ مَا يَلِجُ فِي النَّهَارِ وَشَرِّ مَا تَهُبُّ بِهِ الرياح

(حصن حصین بحوالہ ابن ابی شیبہ)

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفات کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دُعا کثرت سے مانگا کرتے تھے:۔

اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَالَّذِى تَقُولُ وَخَيْرًا مِمَّا نَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي وَإِلَيْكَ مَابِي وَلَكَ رَبِّى تُرَاشِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَوَسْوَسَةِ الصَّدْرِ وَشَتَاتِ الأمْرِ ، اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَجِيتُ بِهِ الرِّيحُ

(کتاب الاذکار بحوالہ ترمذی)

نیز حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ عرفات میں نماز عصر کے بعد پہلے یہ کلمات کہے جائیں :-

اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمُدُ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ

پھر یہ دُعا کی جائے :-

اللَّهُمَّ اهْدِنِي بِالْهُدَى وَنَقِّنِي بِالتَّقْوى وَاغْفِرْ لِي فِي الْآخِرَةِ وَالْأُولى

(حصن حصین)

بزرگوں نے اس دعا کو بھی عرفات میں پسند فرمایا ہے:۔

اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ، اَللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمُتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِّنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، اَللَّهُمَّ اغْفِرُ لِي مَغْفِرَةً تُصْلِحُ بِهَا شَأْنِي فِي الدَّارَيْنِ وَارْحَمْنِي رَحْمَةً أَسْعَدُ بِهَا فِي الدَّارَيْن وَتُبُ عَلَى تَوْبَةً نَصُوحًا لَّا أَنْكُتُهَا اَبَدًا، وَالْزِمُنِي سَبِيلَ الْإِسْتِقَامَةِ لَا أَزِيغُ عَنْهَا اَبَدًا ، اللَّهُمَّ انْقُلُنِي مِنْ ذُلِّ الْمَعْصِيَةِ اِلى عِزّ الطَّاعَةِ وَاغْنِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَبِطَاعَتِكَ عَنْ مَّعْصِيَتِكَ وَبِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ، وَنَوْرُ قَلْبِي وَقَبْرِى وَأَعِذْنِي مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ وَاجْمَعُ لِيَ الْخَيْرَ كُلَّهُ

(کتاب الاذكار)

جب کوئی شخص حج سے لوٹے

جب کوئی شخص حج کر کے واپس آئے تو اس کو خطاب کر کے یہ دُعا دی جائے :-

قَبلَ اللهُ حَجَّكَ وَغَفَرَ ذَنْبَكَ وَاخْلَفَ نفقتك

(ابن السنی ص: ۱۴۳)

احرام، تلبیہ اور مناسکِ حج و عمرہ

پہلے پڑھے

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ، أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ

پھر قبلہ رخ ہو کر تین بار کہے اور درمیان میں خوب دعا کرے

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ

(صحیح مسلم: 1218)

قربانی ذبح کرتے وقت

بِسْمِ اللهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، اللَّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّي

(صحیح مسلم: 1966)