قرآنی دعائیں
26 duas
جامع ترین دعا
دنیا و آخرت کے تمام مقاصد کے لئے شاید سب سے جامع دعا یہ ہے:۔
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
(البقره: ۲۰۱)
دعائے مغفرت
جب کبھی کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو یہ دُعا پڑھی جائے، یہ وہ دُعا ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی غلطی کی معافی مانگنے کے لئے سکھائی تھی ، اور اس کی بناء پر ان کی توبہ قبول ہوئی:۔
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ
(الاعراف: ۲۳)
اسی طرح اپنے لئے مغفرت مانگنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ مختصر دعا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین فرمائی (یہ دعا اکثر چلتے پھرتے بھی پڑھتے رہنا چاہئے):-
رَبِّ اغْفِرُ وَارْحَمُ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ
(المؤمنون: ۱۱۸)
نیز یہ دعائیں بھی اس مقصد کے لئے ہیں :-
وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرُ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلَنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ
(البقره: ۲۸۶)
رَبَّنَا فَاغْفِرُ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ
أَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرُ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ الْغَفِرِينَ
(الاعراف: ۱۵۵)
اپنے لئے ہدایت کی دُعا
اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے ہدایت کی دُعا بھی مانگتے رہنا چاہئے ، تاکہ عقیدے اور عمل دونوں کی گمراہی سے محفوظ رہ سکیں، اس کے لئے یہ قرآنی دعائیں ورد میں رکھنی چاہئیں:۔
رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا
(الکہف: ۱۰)
مذکورہ بالا دعا ہر اس موقع پر بھی پڑھنی چاہئے جب انسان کسی کشمکش میں ہو اور صحیح فیصلہ نہ کر پارہا ہو۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
(آل عمران: ۸)
بیماری سے شفایابی کی دُعا
جب انسان کسی سخت بیماری میں مبتلا ہو، تو یہ دُعا بکثرت مانگتے رہنا چاہئے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف اس دعا کی برکت سے دور فرمائی تھی:۔
أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
(الانبیاء: ۸۳)
جب گناہ کا شوق پیدا ہو
جب کسی گناہ کا داعیہ دل میں پیدا ہو تو یہ دعا مانگنی چاہئے (یہ دُعا ایسے وقت بھی پڑھنی چاہئے جب کوئی صدمہ پہنچے اور اس کی وجہ سے دل بے تاب ہو یا کسی طاقت ور دشمن سے مقابلہ ہو):-
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
(الاعراف: ۱۲۶)
اپنے اور اپنی اولاد کے لئے نماز کی پابندی
اپنے اور اپنی اولاد کو نماز کا پابند بنانے کے لئے یہ دُعا کثرت سے مانگی جائے :۔
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلُ دُعَاءِ
(ابراهیم: ۴۰)
اپنے لئے اولاد کی دُعا
جس شخص کی اولاد نہ ہو، یا نرینہ اولاد نہ ہو، وہ یہ دعا کثرت سے مانگا کرے:۔
رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَّانْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
(الانبیاء: ۸۹)
گھر والوں اور اولاد کی نیکی اور سعادت مندی کے لئے
شوہر، بیوی اور اولاد کی نیکی، سعادت مندی اور ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے لئے یہ دُعا مانگی جائے :
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
(الفرقان: ۷۴)
والدین کے لئے دُعائے خیر
والدین کے لئے ، خواہ وہ زندہ ہوں یا انتقال کر گئے ہوں، قرآن کریم نے یہ دعا سکھائی ہے:۔
رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيرًا
(الاسراء: ۲۴)
جب کوئی نیا کام شروع کرے یا کسی نئی جگہ میں داخل ہو
جب کوئی نیا کام شروع کیا جائے یا کسی نئی جگہ داخل ہو تو انجام کی بہتری کے لئے یہ دُعا قرآن کریم نے سکھائی ہے:۔
رَبِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلُ لِي مِن لَّدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا
(الاسراء: ۸۰)
جب کسی سواری پر سوار ہو
سواری پر سوار ہوتے وقت یہ ذکر قرآن کریم میں سکھایا گیا ہے:۔
سُبُحْنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ
(الزخرف: ۱۳)
جب سواری کسی منزل پر ٹھہرنے لگے
جب سواری کسی ایسی جگہ ٹھہرنے لگے جہاں انسان کو اُترنا ہے خواہ تھوڑی دیر کے لئے اُترنا ہو، یا زیادہ دیر کے لئے ، اس وقت یہ دُعا کی جائے (خاص طور سے ہوائی جہاز کے نیچے اُترتے وقت بھی):-
رَبِّ اَنْزِلُنِي مُنْزَلًا مُّبَارَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ
(المؤمنون: ۲۹)
ظالم کے شر سے حفاظت کے لئے
جس کسی ظالم شخص سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، اس کے شر سے حفاظت کے لئے یہ دُعا مانگی جائے :-
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٌ لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ
(یونس: ۸۵)
رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ
(العنکبوت: ۳۰)
اطمینان قلب اور کام کی سہولت کے لئے
جب کسی مسئلے میں اطمینان نہ ہو رہا ہو، یا کسی طالب علم کو اپنا سبق سمجھ میں نہ آرہا ہو، تو یہ دُعا کرے:۔
رَبِّ اشْرَحُ لِي صَدْرِي وَيَسِّرُ لِي أَمْرِي
(طه: ۲۵، ۲۶)
کسی کو تقریر کرنی ہو یا درس دیتا ہو یا کوئی مضمون لکھنا ہو تو مذکورہ بالا دعا کے ساتھ یہ بھی اضافہ کرے:۔
وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي
(طه: ۲۷)
حصول علم کے لئے
علم کے حصول اور اس کی زیادتی کے لئے قرآن کریم نے یہ دُعا سکھائی ہے:۔
رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا
(طه: ۱۱۴)
شیطانی وساوس اور خیالات سے حفاظت کے لئے
ہر انسان کو اپنی زندگی میں بہت سے وسوسے اور بُرے بُرے خیالات آتے ہیں، ان سے حفاظت کے لئے یہ دُعا بکثرت کرنی چاہئے:۔
رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزاتِ الشَّيطِينِ. وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ
(المؤمنون: ۹۷، ۹۸)
ہر مشکل سے نجات اور پریشانی دور کرنے کے لئے
جب آدمی کسی مشکل میں گھرا ہوا ہو یا اسے کوئی پریشانی در پیش ہو یا وہ بے وسیلہ ہو تو یہ دُعا کرے:۔
رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
(القصص: ۲۴)
جب کوئی نعمت میسر ہو
جب انسان کو کوئی نعمت میسر آئے اور خوشحالی نصیب ہو تو یہ دُعا کرنی چاہئے :
رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّلِحِينَ
(النمل: ۱۹)
جب مغلوب ہونے لگے
جب کوئی شخص کسی دشمن سے، نفس و شیطان سے یا ماحول کے اثرات سے مغلوب ہونے لگے تو یہ دعا مانگے :-
أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِر
(القمر: ۱۰)


