Skip to content

   

Duas

Morning & Evening

What is read at the two ends of the day.

صبح و شام

41 duas

صبح ہو تو یہ دعائیں پڑھے

اَللَّھُمَّ بِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ النُّشُورُ

(ابوداؤد)

اے اللہ! ہم نے تیری ہی مدد سے صبح کی اور تیری ہی مدد سے شام کی، تیری ہی (مرضی سے) ہم زندہ ہیں اور تیری ہی مرضی سے ہم مریں گے اور تیرے ہی پاس (قیامت کے دن) اٹھ کر جانا ہے.

أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْکُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، اَللَّھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ خَیْرَ هَذَا الْیَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبَرَکَتَهُ وَهُدَاهُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ

(ابوداؤد)

ہم نے اور تمام ملک (کائنات) نے اللہ رب العالمین (کی اطاعت و عبادت) کے لئے صبح کی، اے اللہ میں تجھ سے اس دن کی بھلائی (و بہتری) فتح و نصرت، نور و برکت اور ہدایت کا سوال کرتا ہوں، اور جو اس دن میں (پیش آنے والا) ہے اور جو اس کے بعد آئے گا اس کے شر سے تیری پناہ لیتا ہوں (تو مجھے اس سے بچا لے).

سورج نکلے تو یہ دعا پڑھے

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا وَلَمْ يُهْلِكْنَا بِذُنُوبِنَا

(مسلم)

اس اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں یہ آج کا دن دکھایا اور ہمارے (کل کے) گناہوں کے سبب ہمیں ہلاک نہ کر ڈالا.

شام ہو تو یہ دعائیں پڑھے

اَللَّھُمَّ بِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ

(ابوداؤد)

اے اللہ! ہم نے تیری ہی مدد سے شام کی اور تیری ہی مدد سے صبح کی اور تیری ہی (مرضی سے) ہم زندہ ہیں اور تیری ہی مرضی سے ہم مریں گے اور تیرے ہی پاس (قیامت کے دن) اٹھ کر جانا ہے.

أَمْسَیْنَا وَأَمْسَى الْمُلْکُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، اَللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ خَیْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ فَتْحَهَا وَنَصْرَهَا وَنُورَهَا وَبَرَکَتَهَا وَهُدَاهَا وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیهَا وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا

(ابوداؤد)

ہم نے اور تمام ملک (کائنات) نے اللہ رب العالمین (کی اطاعت و عبادت) کے لئے شام کی، اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی بہتری یعنی اس رات کی فتح اور مدد اور اس رات کے نور اور برکت اور ہدایت کا سوال کرتا ہوں اور پناہ چاہتا ہوں تجھ سے ان چیزوں کے شر سے جو اس رات میں ہیں اور جو اس کے بعد ہونگی.

مغرب کی اذان ہو تو یہ دعا پڑھے

اَللَّهُمَّ هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ فَاغْفِرْ لِي

(مشکوة)

اے اللہ! یہ تیری رات کے آنے اور دن کے جانے اور تیرے مؤذنوں کی آوازوں (اذانوں) کا وقت ہے پس تو مجھے بخش دے.

صبح شام پڑھنے کی چند اور دعائیں

حضرت عثمان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو بندہ ہر صبح و شام کو تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لیا کرے تو اسے کوئی چیز ضرر نہ پہنچائے گی (ترمذی)۔ ابوداؤد شریف کی روایت میں ہے کہ صبح کو پڑھ لینے سے شام تک اور شام کو پڑھ لینے سے صبح تک اسے کوئی ناگہانی بلا نہ پہنچے گی:

بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

(ترمذی)

اس اللہ کے نام کے ساتھ، جس کے نام کے ساتھ کوئی چیز ضرر نہیں پہنچاتی، نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور وہ (سب کچھ) سننے اور جاننے والا ہے.

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص صبح کو سورہ روم (پارہ 21) کی یہ تین آیات پڑھ لیوے تو اس دن جو (ورد وغیرہ) چھوٹ جائیگا اس کا ثواب پالے گا اور جو شخص شام کو یہ آیات پڑھ لیوے اس رات کا جو ورد چھوٹ جائیگا اس کا ثواب پالے گا آیات یہ ہیں:

فَسُبْحَانَ اللهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ

(ابوداؤد)

پس تم پاکی بیان کرو اللہ کی، جس وقت تم شام کرتے ہو اور جس وقت تم صبح کرتے ہو اور اسی کے لئے حمد و ثنا ہے آسمانوں میں اور زمین میں، اور (اس کی پاکی بیان کرو) سہ پہر کو اور جس وقت تم ظہر کرتے ہو (یعنی ظہر کے وقت) وہ جاندار کو بے جان سے نکالتا ہے اور بے جان کو جاندار سے نکالتا ہے اور زمین کو اس کے (مردہ ہونے کے بعد) زندہ کرتا ہے اور اسی طرح تم بھی (مرنے کے بعد) زمین سے نکالے جاؤ گے.

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص صبح کو سورہ مومن (پارہ 24) کی ابتدائی آیات اور آیتہ الکرسی پڑھ لے تو ان کی وجہ سے شام تک (آفات و مکروہات) سے محفوظ رہے گا اور جو شخص ان کو شام کے وقت پڑھ لے تو صبح تک (آفات و مکروہات) سے محفوظ رہے گا. سورہ مومن کی ابتدائی آیات یہ ہیں:

حم تَنْزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ

حم۔ یہ کتاب اس اللہ کی جانب سے اتری ہے جو (سب پر) غالب ہے، بہت وسیع علم والا ہے، (اپنے بندوں) کے گناہ بخشنے والا ہے اور توبہ قبول کرنے والا ہے (نافرمانوں کو) شدید عذاب دینے والا ہے، بڑی قدرت والا ہے، اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ہے، اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے.

آیت الکرسی یہ ہے:

اَللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا في السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

(حصن)

اللہ وہ (پاک ذات) ہے جس کے سوا کوئی بھی لائق پرستش نہیں، وہ (ہمیشہ) زندہ رہنے والا (اور زندگی بخشنے والا ہے) زمین و آسمان اور تمام کائنات کو قائم رکھنے (اور اس کا نظام چلانے) والا ہے، نہ اس کو اونگھ آ سکتی ہے نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، کون ہے جو اس کی بارگاہ میں اس کی اجازت کے بغیر (کسی کی) سفارش کر سکے وہ تو جو کچھ لوگوں کے سامنے (ہو رہا) ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے (مرنے کے بعد) ہونے والا ہے سب جانتا ہے اور لوگ اس کے (علم اور معلومات) میں سے کسی چیز پر دسترس نہیں رکھتے مگر جتنا وہ خود چاہے (اس سے آگاہ کر دے) اس کی کرسی (سلطنت) آسمانوں اور زمین سب پر پھیلی ہوئی ہے اور آسمان و زمین کی حفاظت اس پر ذرا بھی گراں نہیں ہے اور وہ (سب سے) بلند (و برتر اور) عظمت والا ہے.

فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص صبح کو یہ پڑھ لے تو اس نے اس دن کے انعامات خداوندی کا شکریہ ادا کر دیا اور اگر شام کو پڑھ لے تو اس رات کے انعامات خداوندی کا شکریہ ادا کر دیا (ابوداؤد، نسائی وغیرہ):

اَللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ

(ابوداؤد)

اے اللہ جو بھی کوئی نعمت مجھے، یا تیری کسی بھی مخلوق کو، آج صبح ملی ہے وہ تنہا تیری ہی طرف سے (دی ہوئی) ہے، تو یکتا و یگانہ ہے، تیرا کوئی بھی شریک نہیں ہے، لہذا تیری ہی (تمام تر) تعریف ہے اور تیرا ہی شکر ہے.

فائدہ: شام کو پڑھے تو «مَا أَصْبَحَ بِي» کی جگہ «مَا أَمْسَى بِي» کہے

حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان بندہ صبح و شام تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے تو اللہ کے ذمہ ہوگا کہ قیامت کے دن اس کو راضی کرے:

رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا

(ترمذی)

میں نے اللہ کو اپنا رب اور اسلام کو اپنا دین اور محمد ﷺ کو اپنا نبی تسلیم کر لیا اور میں اس پر راضی ہو گیا.

حضرت معقل بن یسار کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو صبح کو تین مرتبہ: أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ پڑھ کر سورہ حشر کی یہ تین آیات پڑھ لے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ شانہ ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیگا جو صبح سے شام تک اس پر رحمت بھیجتے رہیں گے اور اگر اس دن مر جائے تو شہید مریگا اور جو شام کو یہ عمل کرے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ شانہ ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیگا جو اس پر صبح تک رحمت بھیجتے رہیں گے اور اگر اس رات مر جائے تو شہید مریگا (ترمذی).

سورہ حشر کی آیات یہ ہیں:

هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَانَ اللهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے، وہ بڑا مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے وہ اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی (تمام جہان کا) بادشاہ ہے، بہت پاک ذات ہے، بے عیب ہے، امن دینے والا ہے، (سب کا) نگہبان ہے، (سب پر) غالب ہے، زبردست ہے، بڑائی کا مالک ہے، مشرکوں کے شرک سے پاک ہے، وہی اللہ سب کا پیدا کرنے والا ہے، (ہر چیز کا) موجد ہے، (ہر چیز کو) صورت دینے والا ہے، اسی کے لئے (سارے) اچھے نام ہیں، آسمانوں اور زمین میں، جو چیز بھی ہے وہ اس کی پاکی بیان کرتی ہے، اور وہی (سب پر) غالب اور حکمت والا ہے (اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں).

حضرت عطا بن ابی رباح تابعی فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص علی الصبح سورہ یس پڑھ لے، شام تک اس کی حاجتیں پوری کر دی جائیں گی (مشکوۃ).

صبح شام تین تین بار سورہ اخلاص اور سورہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور سورہ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھنے کی ترغیب بھی حدیث شریف میں آئی ہے (ترمذی، ابوداؤد).

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت سمرہ بن جندب نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے کئی مرتبہ سنی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے بھی کئی مرتبہ سنی ہے؟ میں نے عرض کیا: ضرور سنائیں۔ حضرت سمرہ نے فرمایا: جو شخص صبح شام یہ دعا پڑھے تو جو چیز اللہ تعالیٰ سے مانگے، ضرور دیں گے:

اَللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِي، وَأَنْتَ تَهْدِينِي، وَأَنْتَ تُطْعِمُنِي، وَأَنْتَ تَسْقِينِي، وَأَنْتَ تُمِيتُنِي وَأَنْتَ تُحْيِينِي

(عمران)

اے اللہ آپ ہی نے مجھے پیدا کیا اور آپ ہی مجھے ہدایت دینے والے ہیں، آپ ہی مجھے کھلاتے ہیں، آپ ہی مجھے پلاتے ہیں، آپ ہی مجھے ماریں گے اور آپ ہی مجھے زندہ کریں گے.

حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ روزانہ سات مرتبہ ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرتے تھے اور جو بھی چیز وہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو عطا فرما دیتے تھے.

جب صبح صادق طلوع ہو

جب صبح ہو جائے تو یہ دُعا پڑھی جائے ، اگر کوئی شخص صبح صادق کے بعد بیدار ہوا ہو تو جب بھی بیدار ہو، یہ دُعا پڑھ سکتا ہے:۔

اَللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ

(ترمذی)

نیز یہ دُعا بھی صبح ہونے کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے:۔

أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ وَفَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَبَرَكَتَهُ وَهُدَاهُ

نیز یہ دعا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے:۔

اللَّهُمَّ اجْعَلُ أَوَّلَ هَذَا النَّهَارِ صَلَاحًا وَأَوْسَطَهُ فَلَاحًا وَاخِرَهُ نَجَاحًا، أَسْأَلُكَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ

(حصن حصین)

شام کے وقت کی دُعائیں

جب شام کا وقت ہو جائے اور غروب آفتاب کا وقت قریب ہو تو یہ دُعا پڑھا کرے:۔

أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، اَعُوذُ بِاللَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ

(حصن حصین)

نیز جب مغرب کی اذان ہو تو یہ دُعا پڑھے:۔

صبح کی نماز کے بعد

فجر کی نماز کے بعد مندرجہ ذیل اذکار کا معمول بنایا جائے :-

حدیث میں ہے کہ جو شخص ہر صبح اور ہر شام یہ کلمات تین مرتبہ پڑھے، اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی۔ (اور کوئی ناگہانی آفت نہیں آتی):-

یہ تعوذ پڑھے :-

أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

(ابن السنی)

حدیث میں ہے کہ جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے تو اسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے اور شام تک شیطان کے اثرات سے محفوظ رہتا ہے:۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

(ابوداؤد، ابن ماجه)

پھر سید الاستغفار پڑھا جائے جس کے الفاظ یہ ہیں :-

حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ کلمات صبح و شام اور رات کو سوتے وقت پڑھنے کے لئے سکھائے تھے:۔

اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ

(ابوداؤد، ترمذی)

حدیث میں ہے کہ جو شخص یہ آیتیں صبح کے وقت پڑھے، شام تک اس کی حفاظت رہتی ہے، اور جو شام کو پڑھے، صبح تک اس کی حفاظت رہتی ہے:۔

حم. تَنْزِيلُ الْكِتَبِ مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ. غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ

(رواه الترمذی وابن السنی بسند ضعیف، كما في كتاب الاذكار للنووی ص: ۱۰۶)

سورۂ حشر کی یہ آخری آیات (جو شخص صبح کے وقت پڑھے ستر ہزار فرشتے شام تک دعا دیتے ہیں):-

هُوَ اللهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ، سُبْحَنَ اللهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ. هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى، يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

(ابن السنی ص: ۱۸۳ بسند ضعیف)

ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص صبح و شام یہ کلمات پڑھے اور اس دن اس کا انتقال ہو جائے تو وہ جنت میں جائے گا:۔

رَبِّيَ اللهُ تَوَكَّلْتُ عَلَيْهِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ مَا شَاءَ اللَّهُ كَانَ وَمَا لَمْ يَشَأْ لَمْ يَكُنْ، أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا

(ابن السنی)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں صبح اور شام کے وقت مانگا کرتے تھے، اور انہیں عموماً چھوڑتے نہیں تھے:۔

اَللَّهُمَّ إِنِّي اسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اَللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَّوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي

(ابوداؤد، نسائی، ابن ماجه)

حدیث میں ہے کہ جو شخص یہ کلمات صبح کے وقت کہے، اس کے دن کی کوتاہیوں کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو یہ کلمات کہے، اس کی رات کی کوتاہیوں کی تلافی ہو جائے گی:۔

فَسُبْحَنَ اللهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ، يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ، وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذَلِكَ تُخْرَجُونَ

(ابوداؤد)

یہ تینوں سورتیں تین تین مرتبہ پڑھ لی جائیں، حدیث میں ہے کہ یہ عمل انسان کے لئے ہر چیز سے کافی ہو جاتا ہے:۔

قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ

(ترمذی، ابوداؤد)

یہ کلمہ سو مرتبہ صبح اور سو مرتبہ شام پڑھا جائے :-

سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ

(اگر اسی کلمے کے بعد ”سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ“ کا اضافہ کر لیا جائے تو اور زیادہ بہتر ہے)

یہ کلمہ سو مرتبہ پڑھا جائے :-

سو مرتبہ استغفار پڑھا جائے :-

اَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

درود شریف سو مرتبہ (بہتر ہے کہ وہ دُرود ابراہیمی پڑھا جائے جو نماز میں پڑھتے ہیں اور چاہیں تو یہ مختصر دُرود شریف بھی پڑھ سکتے ہیں):-

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدِنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى الِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلَّمْ

مغرب کی نماز کے بعد

مغرب کی نماز کے بعد وہ تمام اذکار اور دعائیں دوبارہ پڑھ لینی چاہئیں جو پیچھے صبح کی نماز کے بعد پڑھنے کے لئے لکھی گئی ہیں، کیونکہ احادیث میں وہ صبح اور شام دونوں کے لئے ہیں۔

شام کو یہ دعا پڑھے

اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ

(ترمذی: ۳۳۹۱)

اللہ! ہم تیری ہی قدرت سے شام کے وقت میں داخل ہوئے اور تیری ہی قدرت سے صبح کے وقت میں داخل ہوئے اور تیری ہی قدرت سے جیتے اور مرتے ہیں اور مرنے کے پیچھے جی اٹھ کر تیری ہی طرف جانا ہے۔

صبح و شام کے مسنون اذکار

فضیلت: فجر سے طلوعِ آفتاب اور عصر سے غروبِ آفتاب تک ذکر الٰہی میں بیٹھنا اولادِ اسماعیل کے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔

(حسن - سنن ابی داؤد: 3667)

صبح و شام آیۃ الکرسی پڑھنا (جن و شیطان سے حفاظت)۔ (صحیح الترغیب: 662)

صبح و شام تین تین بار سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، سورۃ الناس پڑھنا (ہر آفت سے کفایت کرتی ہیں)۔ (حسن - جامع الترمذی: 3575)

صبح کے وقت

أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذَا الْيَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ

(صحیح مسلم: 2723)

شام کو أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ... ہَذِهِ اللَّيْلَةِ کے الفاظ سے پڑھے

صبح ایک بار

اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ

(صحیح - سنن ابی داؤد: 5068)

شام کے وقت: وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ

صبح و شام ایک بار

يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ

(صحیح - مستدرک حاکم: 2000)

صبح کے وقت

أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ، وَعَلَى كَلِمَةِ الْإِخْلَاصِ، وَعَلَى دِينِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلَى مِلَّةِ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ

(صحیح - مسند احمد: 15360)

صبح و شام تین بار عافیت کی دعا

اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

(حسن - سنن ابی داؤد: 5090)

صبح کے وقت 3 بار کلماتِ تحمید

سید الاستغفار

صبح و شام

جو اسے یقین سے شام کو پڑھے اور فوت ہو جائے تو جنتی ہے، اور صبح کو پڑھے اور شام تک فوت ہو جائے تو وہ بھی جنتی ہے:

صبح و شام عافیت و حفاظت کی جامع دعا

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي

(صحیح - سنن ابی داؤد: 5074)

فضیلت: دس غلام آزاد کرنے کا ثواب، سو نیکیاں، سو گناہ معاف اور دن بھر شیطان سے حفاظت۔

(صحیح البخاری: 3293، صحیح مسلم: 2691)

روزانہ 100 مرتبہ استغفار

أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ

(صحیح البخاری: 6307)