Skip to content

   

Duas

Making Dua

Its virtue, and the manners of asking.

دعا کے آداب

3 readings

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

پیش لفظ اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی کامیابی اپنے اوامر کو حضور ﷺ کے طریقہ سے پورا کرنے میں رکھی ہے۔ اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اتباع کا حکم دیا۔ لہذا پوری امت پر لازم ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرے اور انسانیت کو اللہ کی طرف بلائے تاکہ دنیا و آخرت کی فوز و فلاح نصیب ہو۔ اس (مسنون دعائیں) میں آپ ﷺ کی وہ دعائیں ذکر کی گئی ہیں جو آپ ﷺ نے وقتاً فوقتاً اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔ ان دعاؤں کے مفہوم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر وقت مسلمان کے دل میں اللہ کی عظمت و بڑائی اور اپنی عاجزی و انکساری کا استحضار رہے اور ان مبارک دعاؤں کا اہتمام کر کے اللہ تعالیٰ کی یاد اور قرب میں ترقی کرے۔ اس طباعت میں دعا کے الفاظ مع لفظی ترجمہ شامل ہیں ترجمہ کے علاوہ جو الفاظ وضاحت کے لئے لکھے گئے ان کو قوسین میں درج کیا گیا ہے۔ یہ دعائیں کتب حدیث، حصن حصین، حیات الصحابہ، منتخب احادیث، مسنون دعائیں مؤلفہ مولانا عاشق الہی صاحب سے لی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اخلاص کے ساتھ ہر مسلمان کو عمل کرنے اور دوسروں کو عمل پر لانے کی توفیق دے۔

دعا کی فضیلت

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے، دین کا ستون ہے اور آسمان اور زمین کا نور ہے۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں دعا سے زیادہ اور کسی چیز کی وقعت نہیں۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا سختیوں اور مصیبتوں کے وقت قبول فرمائیں اس کو چاہئے کہ وہ فراخی اور خوش حالی میں بھی کثرت سے دعا مانگا کرے۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی مسلمان (کسی چیز کے) مانگنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع کرتا ہے (اور دعا مانگتا ہے) اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز ضرور دیتے ہیں، یا وہی چیز اس کو فی الفور دے دیتے ہیں یا اس کے واسطے (دنیا یا آخرت میں) اس کو ذخیرہ کر دیتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے کوئی سوال نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے خطاب کر کے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے میں عاجز نہ بنو (اور کوتاہی نہ کرو) کہ دعا کرتے رہنے کی صورت میں ہرگز کوئی شخص کسی ناگہانی آفت سے ہلاک نہ ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دعا کے سوا کوئی چیز قضا (تقدیر کے فیصلہ) کو رد نہیں کر سکتی، اور نیکی (عمل خیر) کے سوا کوئی چیز عمر کو نہیں بڑھا سکتی۔ ایک حدیث کا مضمون ہے کہ جس شخص کے لئے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا اس کے لئے رحمت کے، جنت کے اور قبولیت کے دروازے کھول دیئے گئے۔

دعا مانگنے کے آداب

اخلاص سے دعا مانگنا (حاکم)

کھانے، پینے، پہننے اور کمانے میں حرام سے بچنا (ترمذی)

دعا مانگنے سے پہلے نماز (حاجت) پڑھنا یا نیک کام کرنا (ترمذی، ترغیب)

با وضو، قبلہ رخ ہو کر دعا مانگنا (بخاری)

(دعا مانگنے کے لئے) دو زانو بیٹھنا (ترمذی)

(دعا مانگنے سے) پہلے اور بعد میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا (صحاح ستہ عن انس)

اسی طرح (دعا کے) اول و آخر میں نبی ﷺ پر درود و سلام بھیجنا (حاکم)

دونوں ہاتھ پھیلا کر دعا مانگنا (ابو داؤد)

دعا مانگنے میں عاجزی اور انکساری اختیار کرنا (سورۃ اعراف)

گڑ گڑا کر دعا مانگنا (ابن ابی شیبہ)

اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی اور اعلیٰ صفات کا واسطہ دے کر دعا مانگنا (سورۃ اعراف)

جامع (تمام ضروریات و حوائج پر حاوی) دعا اختیار کرنا (ابوداؤد)

اپنی ذات سے شروع کرے اور پھر اپنے ماں باپ اور تمام مومن بھائیوں کیلئے دعا کرے (مسلم)

کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے (مسلم)

دل (کی گہرائیوں) سے پوری کوشش و محنت سے دعا مانگے اور دل (دعا کی طرف) پوری طرح متوجہ ہو اور اللہ سے حسن ظن رکھے (حاکم)

ایک ہی مقصد کیلئے بار بار دعا مانگے (بخاری و مسلم)

اپنی تمام حاجتیں چھوٹی ہوں یا بڑی کتنی معمولی کیوں نہ ہوں اللہ سے مانگے (مشکوۃ)

پورے یقین کے ساتھ اور قطعی طور پر دعا مانگنا کہ اللہ تعالیٰ دعا یقیناً قبول کرتے ہیں (بخاری و مسلم)

دعا سے فارغ ہو کر دونوں ہاتھ منہ پر پھیرے (ابوداؤد)

دعا کی قبولیت میں جلد بازی نہ کرے، مثلاً یوں کہے «دعا پوری ہونے میں ہی نہیں آتی» یا «میں نے دعا کی تھی قبول ہی نہیں ہوئی» (بخاری) (ماخوذ از حصن)

اسماء حسنی اور اسم اعظم کے ساتھ دعا کے قبول ہونے کی فضیلت احادیث میں آئی ہے۔ حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: «يا ذا الجلال والإكرام» تو فرمایا کہ تیرے لئے قبولیت کا دروازہ کھل گیا، اب تو مانگ. ایک حدیث میں آیا ہے کہ اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے:

وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم (بقره) — اور تمہارا معبود وہی ایک معبود ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ بڑا ہی رحم کرنے والا اور بہت ہی مہربان ہے.

الله لا إله إلا هو الحي القيوم (ال عمران) — اللہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی (ہمیشہ) زندہ رہنے والا اور سب کو قائم رکھنے والا ہے. رب زدنی علما