Skip to content

   

Duas

Masjid & Adhan

Setting out, entering, sitting, leaving, and answering the adhan.

مسجد و اذان

21 duas

صبح کی نماز کے لئے نکلے تو یہ دعا پڑھے

اَللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَفَوْقِي نُورًا، وَتَحْتِي نُورًا، وَأَمَامِي نُورًا، وَخَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا

(حسن)

اے اللہ میرے دل میں نور عطا کر دے اور میری آنکھوں میں نور اور میرے کانوں میں نور پیدا فرما دے اور میری دائیں جانب بھی نور اور بائیں جانب بھی نور اور میرے پیچھے بھی نور اور میرے آگے بھی نور (غرض) مجھے سرتا پا نور بنا دے اور میرے پٹھوں میں نور، گوشت پوست میں نور اور میرے خون میں نور، بالوں میں نور، کھال میں نور (بھر دے) اور تو میری زبان میں نور (عطا) کر دے اور میری جان میں نور (پیدا کر دے) اور تو مجھے بہت بڑا نور عطا فرما دے اور سراپا نور بنا دے۔ اور میرے اوپر بھی نور اور نیچے بھی نور کر دے۔ اے میرے اللہ! تو مجھے (نور ہی نور) عطا کر دے.

مسجد میں داخل ہونے کی دعائیں

بِسْمِ اللهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، اَللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

(مشکوۃ)

اللہ کے نام کے ساتھ، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول پر۔ اے اللہ تو اپنی رحمت کے دروازے میرے لئے کھول دے.

بِسْمِ اللهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

اے اللہ میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لئے کھول دے.

مسجد میں بیٹھے بیٹھے یہ پڑھتا رہے

سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ

(مشکوۃ باب المساجد)

اللہ پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے.

فائدہ: حضور ﷺ نے فرمایا کہ ان میں سے ہر کلمے کے بدلے جنت میں ایک درخت لگا دیا جاتا ہے — ابن ماجہ

مسجد سے نکلنے کی دعائیں

بِسْمِ اللهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، اَللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ

اے اللہ میں تجھ سے تیرا فضل (انعام) طلب کرتا ہوں.

بِسْمِ اللهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ

(مشکوۃ)

اے اللہ تو میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لئے کھول دے.

اذان سنے تو یہ دعا پڑھے

حدیث شریف میں ہے کہ اذان کی آواز سن کر جو شخص اس کو پڑھے اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے:

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا

(مسلم)

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں نے اللہ کو اپنا رب اور محمد ﷺ کو اپنا رسول اور اسلام کو اپنا دین پسند کر لیا.

فائدہ: جو شخص مؤذن کا جواب دے اس کیلئے جنت ہے — حسن۔ لہذا مؤذن کا جواب دیوے یعنی جو مؤذن کہے وہی کہتا جائے مگر «حي على الصلاة»، «حي على الفلاح» کے جواب میں «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے — مشکوۃ

اذان ختم ہونے کے بعد درود پڑھ کر یہ دعا پڑھے

اَللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ

(مشکوۃ)

اے اللہ! اے اس دعوت کامل اور کھڑی ہونے والی نماز کے مالک! تو محمد ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما دے اور ان کو اس مقام محمود پر پہنچا دے جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے، بے شک تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا. (اس کے پڑھ لینے سے رسول اللہ ﷺ کی شفاعت واجب ہو جاتی ہے — مشکوۃ۔ فائدہ: جو الفاظ اذان کے جواب میں کہے وہی اقامت کے جواب میں کہے اور جب «قد قامت الصلاة» سنے تو یوں کہے: «أقامها الله وأدامها» یعنی اللہ اس نماز کو قائم اور ہمیشہ رکھے — مشکوۃ)

مسجد میں داخل ہوتے وقت

مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاؤں مسجد میں لے جائیں اور یہ دعا پڑھیں :-

بِسْمِ اللهِ وَالصَّلُوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ اللَّهُمَّ افْتَحُ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

مسجد سے باہر نکلتے وقت

مسجد سے باہر نکلتے وقت یہ پڑھیں :-

بِسْمِ اللهِ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ

نیز یہ دُعا پڑھیں :-

اللَّهُمَّ اعْصِمُنِي مِنَ الشَّيْطَانِ

(حصن حصین)

اذان کی آواز سن کر

جب اذان کی آواز سنے تو جو کلمات مؤذن کہتا جائے وہی کلمات خود بھی دہرانے چاہئیں، البتہ ”حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کے جواب میں کہنا چاہئے :-

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ

اذان کے ختم پر یہ دُعا پڑھنی چاہئے :-

اَللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلوةِ الْقَائِمَةِ اتِ مُحَمَّدَانِ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودَانِ الَّذِي وَعَدُتَّهُ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ

(بخاری و بیهقی)

نیز اذان سن کر یہ دعا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے:۔

اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَّسُولًا

(صحیح مسلم)

نماز فجر کو جاتے وقت

جب گھر سے نماز فجر پڑھنے کے لئے چلے تو یہ دُعا پڑھے:۔

اَللَّهُمَّ اجْعَلُ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا وَفِي سَمُعِي نُورًا وَّعَنْ يَمِينِي نُورًا وَعَنْ يَسَارِى نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَآمَامِي نُورًا وَخَلْفِى نُورًا فَاجْعَلُ لِى نُورًا وَاعْظِمْ لِى نُورًا، اَللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا

(صحیح مسلم)

مسجد سے متعلق دعائیں

جب مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے

اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

(مسلم: ۱۶۵۲)

اے اللہ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔

جب مسجد سے نکلے تو یہ دعا پڑھے

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ

(مسلم: ۱۲۵۲)

اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔

مسجد کی طرف جاتے ہوئے دعا

اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَفِي لِسَانِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا، وَعَظِّمْ لِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا، وَاجْعَلْنِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي عَصَبِي نُورًا، وَفِي لَحْمِي نُورًا، وَفِي دَمِي نُورًا، وَفِي شَعْرِي نُورًا، وَفِي بَشَرِي نُورًا، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَبْرِي، وَنُورًا فِي عِظَامِي، وَزِدْنِي نُورًا، وَزِدْنِي نُورًا، وَزِدْنِي نُورًا، وَهَبْ لِي نُورًا عَلَى نُورٍ

(صحیح البخاری: 6316، صحیح مسلم: 763)

مسجد میں داخل ہونے کی دعا

أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ

(صحیح مسلم: 713، سنن ابی داؤد: 466)

مسجد سے نکلنے کی دعا

بِسْمِ اللهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

(صحیح مسلم: 713، سنن ابن ماجہ: 773)

اذان اور اس کا جواب

مؤذن کے کلمات کا بعینہٖ جواب دیا جائے، البتہ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے جواب میں کہے:

مؤذن کے شہادتین کہنے کے بعد یہ دعا پڑھے:

وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا

(صحیح مسلم: 386)

اذان کے اختتام پر نبی ﷺ پر درود شریف پڑھے، پھر یہ مسنون دعا مانگے:

اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں خوب دعا کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت دعا رد نہیں ہوتی۔

(صحیح - سنن ابی داؤد: 521)