جامع دعائیں
52 duas
خاص دعاؤں کا مجموعہ
اَللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ، اَللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ، يَا أَحَدُ يَا صَمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ، ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور سب کو قائم رکھنے والا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور قائم رکھنے والا ہے، اور سب چہرے اس زندہ اور قائم رہنے والے کے سامنے جھک جائیں گے۔ تیری پاک ذات کے سوا کوئی معبود نہیں، بیشک میں ظالموں میں سے ہوں۔ اے اکیلے، اے بے نیاز، جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے، اے سب سے بڑے رحم کرنے والے! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں ہو جائیں گے.
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَتَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ، اَللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ كَرِيمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي، اَللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ، يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ
اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہماری توبہ قبول فرما، بیشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ اے رب! بخش دے اور رحم فرما اور اس سے درگزر فرما جسے تو جانتا ہے، بیشک تو ہی سب سے زبردست اور بڑا کریم ہے۔ اے اللہ! بیشک تو بہت معاف کرنے والا اور کریم ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرما دے۔ اے اللہ! دلوں کو پھیرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔ اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے، ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ.
اَللَّهُمَّ إِنَّ قُلُوبَنَا وَنَوَاصِيَنَا وَجَوَارِحَنَا بِيَدِكَ، لَمْ تُمَلِّكْنَا مِنْهَا شَيْئًا، فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ بِنَا فَكُنْ أَنْتَ وَلِيَّنَا وَاهْدِنَا إِلَى سَوَاءِ السَّبِيلِ، اَللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ، وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ، اَللَّهُمَّ ارْزُقْنَا حُبَّكَ وَحُبَّ رَسُولِكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنَا حُبُّهُ عِنْدَكَ
اے اللہ! ہمارے دل، ہمارے اعضاء اور ہمارے تمام معاملات تیرے ہاتھ میں ہیں، تو نے ہمیں ان میں سے کسی چیز کا مالک نہیں بنایا، پس جب تو نے ایسا کیا ہے تو تو ہی ہمارا کارساز بن جا اور ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما۔ اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی پیروی نصیب فرما، اور ہمیں باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ! ہمیں اپنی محبت، اپنے رسول کی محبت اور ایسے شخص کی محبت عطا فرما جس کی محبت تیرے نزدیک ہمیں نفع دے.
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ نَسْتَغِيثُ، نَسْتَغْفِرُكَ رَبَّنَا وَنَسْأَلُكَ التَّوْبَةَ، أَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، فَإِنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضَعْفٍ وَعَوْرَةٍ وَذَنْبٍ وَخَطِيئَةٍ، اَللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ سَهْلًا إِذَا شِئْتَ
اے ہمیشہ زندہ رہنے والے، اے سب کو قائم رکھنے والے! ہم تیری ہی رحمت کے واسطے سے فریاد کرتے ہیں، اے ہمارے رب ہم تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں اور توبہ کا سوال کرتے ہیں، ہمارے تمام حالات کو درست فرما دے اور ہمیں پلک جھپکنے کے برابر بھی ہمارے نفس کے سپرد نہ کر، اسلئے کہ اگر تو نے ہمیں ہمارے نفس کے سپرد کیا تو تو نے ہمیں کمزوری، عیب، گناہ اور خطا کے سپرد کر دیا، اے اللہ! کوئی بھی کام آسان نہیں مگر جسے تو آسان کر دے اور تو جب چاہتا ہے مشکل کو آسان کر دیتا ہے.
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًى إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بڑا بردبار کرم کرنے والا ہے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے، سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے، میں تجھ سے تیری رحمت کے واجب کرنے والے اسباب کا، تیری مغفرت کو پختہ کر دینے والی چیزوں کا، ہر نیکی کی غنیمت کا اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں، اے سب سے بڑے رحم کرنے والے! میرے کسی گناہ کو معاف کیے بغیر نہ چھوڑ، اور نہ کسی غم کو دور کیے بغیر چھوڑ، اور نہ ہی تیری رضا والی کسی حاجت کو پورا کیے بغیر چھوڑ.
إِلَيْكَ رَبِّ فَحَبِّبْنَا، وَفِي أَنْفُسِنَا لَكَ رَبِّ فَذَلِّلْنَا، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ فَعَظَّمْنَا، وَمِنْ سَيِّئِ الْأَخْلَاقِ فَجَنِّبْنَا، وَعَلَى صَالِحِ الْأَخْلَاقِ فَقَوِّمْنَا، وَعَلَى الصِّرَاطِ الْمُسْتَقِيمِ فَثَبِّتْنَا، وَعَلَى الْأَعْدَاءِ أَعْدَائِكَ أَعْدَاءِ الْإِسْلَامِ فَانْصُرْنَا، اَللَّهُمَّ انْصُرْنَا وَلَا تَنْصُرْ عَلَيْنَا، اَللَّهُمَّ امْكُرْ لَنَا وَلَا تَمْكُرْ عَلَيْنَا، اَللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، وَلَا تُسَلِّطْ عَلَيْنَا مَنْ لَا يَرْحَمُنَا
اے رب! تو ہمیں اپنی محبت عطا فرما، اور اے رب ہمیں ہمارے نفس کی نگاہ میں عاجز و انکسار والا بنا دے، اور لوگوں کی نگاہوں میں ہمیں عظمت عطا فرما، اور ہمیں بری عادتوں سے بچا لے، اور اچھی عادتوں پر ہمیں استقامت دے، اور صراط مستقیم پر ہمیں ثابت قدم رکھ، اور ہمارے دشمنوں (جو تیرے دشمن ہیں اور اسلام کے دشمن ہیں) کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ اے اللہ! ہماری مدد فرما اور ہمارے خلاف کسی کی مدد نہ فرما، اے اللہ! ہمارے حق میں تدبیر فرما اور ہمارے خلاف کوئی چال نہ چل، اے اللہ! ہمیں بڑھا اور گھٹا مت، اور ہم پر ایسے شخص کو مسلط نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے.
اَللَّهُمَّ اشْرَحْ صُدُورَنَا لِلْإِسْلَامِ، اَللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ، اَللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ
اے اللہ! ہمارے سینے اسلام کے لئے کھول دے، اے اللہ! ہمارے دلوں میں ایمان کو محبوب بنا دے اور اس کو ہمارے دلوں میں خوبصورت کر دے، اور ہمارے دلوں میں کفر، گناہ اور نافرمانی کو ناپسندیدہ بنا دے، اے اللہ! ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما. (اکثر بزرگوں کا معمول ان دعاؤں کے پڑھنے کا تھا)
جامع دعائیں (الفاظ کم اور اجر بہت زیادہ)
اَللَّهُمَّ عَافِنِي فِي جَسَدِي وَعَافِنِي فِي بَصَرِي وَاجْعَلْهُ الْوَارِثَ مِنِّي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(حياة الصحابة)
اے اللہ! مجھے جسم میں اور نگاہ میں عافیت نصیب فرما اور اس نگاہ کو موت تک باقی رکھ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو بردبار اور کریم ہے میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں جو عرش عظیم کا رب ہے اور تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے.
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ بہت زیادہ دعا مانگی لیکن ہمیں اس میں سے کچھ یاد نہ رہا۔ ہم نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ ہمیں ان دعاؤں میں سے کچھ یاد نہ رہا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی جامع دعا نہ بتا دوں جس میں یہ سب دعائیں جمع ہو جائیں؟ تم یہ دعا مانگا کرو:
اَللَّهُمَّ إِنِّی نَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْهُ نَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ وَعَلَيْكَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ
(ترمذی)
اے اللہ! ہم تجھ سے وہ تمام بھلائیاں مانگتے ہیں جو تجھ سے تیرے نبی محمد ﷺ نے مانگی ہیں اور ان تمام چیزوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں جن سے تیرے نبی محمد ﷺ نے پناہ مانگی ہے اور تو ہی وہ ذات ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے اور ہمیں مقصود تک پہنچانا تیرے فضل سے تیرے ہی ذمہ ہے۔ برائیوں سے بچنے کی طاقت اور نیکیاں کرنے کی قوت تیری توفیق سے ہی ملتی ہے.
حضرت انس فرماتے ہیں کہ اگر حضور ﷺ مستودعائیں بھی مانگتے تو ان کے شروع میں، درمیان میں اور آخر میں یہ دعا ضرور مانگتے:
حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص دن میں دس مرتبہ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے گا شیطان سے تو اللہ تعالیٰ اس کو شیطان سے بچانے کیلئے ایک فرشتہ مقرر فرما دیں گے: أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ (حسن) (میں پناہ لیتا ہوں اللہ کی مردود شیطان سے).
حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص دن میں 25 یا 27 مرتبہ تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگے گا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان مستجاب الدعوات لوگوں میں شامل ہو جائیگا جن کی دعاؤں سے زمین والوں کو رزق دیا جاتا ہے:
اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ
(حسن)
الہی! تو میرے اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کے اور تمام مسلمان مردوں اور تمام مسلمان عورتوں کے گناہ بخش دے.
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ جب آپ ﷺ سواری پر ٹھیک طرح بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ اللہ اکبر اور تین مرتبہ سبحان اللہ اور ایک مرتبہ لا إله إلا الله کہا، پھر میری طرف متوجہ ہو کر مسکرانے لگے اور فرمایا جو بھی آدمی اپنی سواری پر سوار ہو کر وہ کام کرے جو میں نے کئے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہو کر ایسے ہی مسکرائیں گے جیسے میں تمہیں دیکھ کر مسکرایا ہوں.
حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا جو آدمی تین مرتبہ یہ کہے گا اس کی پوری مغفرت کر دی جائیگی اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ کر آیا ہو:
حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
اَللَّهُمَّ اجْعَلْ أَوْسَعَ رِزْقِكَ عَلَيَّ عِنْدَ كِبَرِ عُمْرِي وَانْقِطَاعِ عُمْرِي
(طبرانی)
اے اللہ بڑھاپے میں اور اخیر عمر میں مجھے سب سے زیادہ فراخ روزی عطا فرما.
حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے یہ سنا ہے، جو شخص موت کے وقت ان کلمات کو کہے گا وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ (تین مرتبہ)، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (تین مرتبہ)، تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (حياة الصحابة).
حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تمہیں پانچ ہزار بکریاں دے دوں یا پانچ کلمات سکھا دوں جس سے تمہارے دین اور دنیا دونوں ٹھیک ہو جائیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ پانچ ہزار بکریاں تو بہت ہیں لیکن آپ مجھے وہ کلمات ہی سکھا دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہو:
اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي خُلُقِي وَطَيِّبْ لِي كَسْبِي وَقَنِّعْنِي بِمَا رَزَقْتَنِي وَلَا تُتْبِعْ قَلْبِي إِلَى شَيْءٍ صَرَفْتَهُ عَنِّي
(حياة الصحابة)
اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما اور میرے اخلاق وسیع فرما اور میری کمائی کو پاک فرما اور جو روزی تو مجھے عطا فرمائے اس پر مجھے قناعت نصیب فرما اور جو چیز تو مجھ سے ہٹا لے اس کی طلب مجھ میں باقی نہ رہنے دے.
حضرت مالک اشجعی نے حضور ﷺ سے عرض کی کہ میرے بیٹے عوف کو کافروں نے تانت سے باندھ کر قید کر دیا حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ لا حول ولا قوة إلا بالله کثرت سے پڑھے۔ حضرت عوف نے کثرت سے یہ پڑھنا شروع کیا تو ایک دن وہ تانت ٹوٹ کر گر گئی اور وہ قید سے باہر نکل آئے اور کافروں کے جانور بھی ساتھ لے کر واپس گھر پہنچ گئے (حسن).
حضرت طلق فرماتے ہیں کہ ایک شخص ابو درداء کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ کا مکان جل گیا۔ فرمایا نہیں جلا، پھر دوسرے شخص نے یہی اطلاع دی، تو فرمایا نہیں جلا، پھر تیسرے آدمی نے یہی خبر دی، آپ نے فرمایا نہیں جلا، پھر ایک اور آدمی نے آ کر کہا کہ اے ابو درداء! آگ کے شرارے بہت بلند ہوئے مگر جب آپ کے مکان تک آگ پہنچی تو بجھ گئی. فرمایا مجھے معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کریگا (کہ میرا مکان جل جائے) کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھ لے، شام تک اس کو کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی میں نے صبح یہ کلمات پڑھے تھے، اس لئے مجھے یقین تھا کہ میرا مکان جل نہیں سکتا، وہ کلمات یہ ہیں:
اَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ عَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، مَا شَاءَ اللهُ كَانَ وَمَا لم يَشْأْ لَمْ يَكُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، أَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَنَّ اللهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا، اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا، إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
اے اللہ تو میرا رب ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تجھ ہی پر میں نے بھروسہ کیا۔ اور تو عرش کریم کا رب ہے۔ جو اللہ نے چاہا ہوا، اور جو نہیں چاہا نہیں ہوا۔ اور اللہ بزرگ و برتر، عظمت والے کے سوا اور کوئی طاقت اور زور نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور بیشک اللہ کا علم ہر شے کو گھیرے ہوئے ہے۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کی ہر برائی سے اور ہر جاندار کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ بیشک میرا رب صراط مستقیم پر ہے.
حضرت ابودرداء نے فرمایا جو بندہ بھی صبح و شام سات مرتبہ یہ دعا پڑھے گا، چاہے وہ سچے دل سے نہ ہو، اچھے دل سے تو اللہ تعالیٰ اس کے غم اور پریشانی کو ضرور دور کر دیں گے:
حَسْبِيَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
(حياة الصحابة)
اللہ مجھے کافی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا رب ہے.
حضرت ابودرداء نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایک مرتبہ «لا إله إلا الله والله أكبر» کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم کا ایک چوتھائی حصہ دوزخ سے بری کر دیتے ہیں. اگر دو مرتبہ کہے تو اس کے جسم کا آدھا حصہ جہنم سے آزاد کر دیتے ہیں اور اگر چار مرتبہ یہ کلمہ کہے تو اللہ تعالیٰ مکمل طور پر دوزخ سے بری کر دیتے ہیں (مجمع الزواید).
علامہ عینی نے شرح بخاری میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ یہ دعا پڑھے:
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ، اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلَهُ الْعَظَمَةُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ، هُوَ الْمَلِكُ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ وَرَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلَهُ النُّورُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (فضائل صدقات) (اس کے بعد دعا کرے: «يا الله اس کا ثواب میرے والدين کو پہنچا دے»، تو اس نے والدین کا حق ادا کر دیا).
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: جسے کوئی غم یا پریشانی پیش آئے یا اسے کسی بادشاہ سے خوف ہوا ہو اور وہ ان کلمات کے ذریعہ دعا کرے گا تو اس کی دعا ضرور قبول ہوگی:
أَسْأَلُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَأَسْأَلُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ، وَأَسْأَلُكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَالْأَرْضِينَ السَّبْعِ وَمَا فِيهِنَّ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(حياة الصحابة)
میں تجھ سے اس بات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اے ساتوں آسمانوں کے اور عظیم عرش کے رب! اور میں تجھ سے اس بات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اے ساتوں آسمانوں کے اور کریم عرش کے رب! اور تجھ سے اس بات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اے ساتوں آسمانوں کے، ساتوں زمینوں کے اور ان تمام چیزوں کے رب جوان میں ہیں، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے. (ان کے بعد اللہ سے اپنی ضرورت مانگے).
حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ جب کسی بات کی وجہ سے پریشان اور بے چین ہوتے تو فرماتے:
حضرت ابوبکر صدیق اپنی دعاؤں میں فرمایا کرتے تھے:
اَللَّهُمَّ اجْعَلْ خَيْرَ عُمْرِي آخِرَهُ وَخَيْرَ عَمَلِي خَوَاتِمَهُ وَخَيْرَ أَيَّامِي يَوْمَ أَلْقَاكَ
(حياة الصحابة)
اے اللہ! میری عمر کا سب سے بہترین حصہ وہ بنا جو اس کا آخر ہوا، اور میرے سب سے بہترین عمل وہ بنا جو خاتمہ والا ہوا، اور میرا سب سے بہترین دن وہ بنا جو تیری ملاقات کا دن ہو.
امام بغوی حضرت علی سے نقل کرتے ہیں کہ جو شخص ایک مرتبہ سورت فاتحہ، ایک مرتبہ آیت الكرسي اور ایک مرتبہ سورت آل عمران کی مندرجہ ذیل آیتیں نمازوں کے بعد پڑھے گا تو اللہ جل شانہ فرماتے ہیں: میری عزت و جلال اور بلند مرتبہ کی قسم جو بندہ بھی ان کو ہر نماز کے بعد پڑھے گا میں جنت اس کا ٹھکانا بناؤں گا، چاہے جیسی بھی حالت میں ہو، حظیرہ القدس میں اسے سکونت دونگا اور روزانہ ستر مرتبہ اپنی چھپی ہوئی آنکھ سے اس کی طرف خاص نظر رحمت کروں گا، اور روزانہ اس کی ستر حاجتیں پوری کروں گا، سب سے کم درجہ کی حاجت مغفرت ہے اور اسے ہر دشمن اور حاسد سے پناہ میں رکھوں گا اور دشمنوں اور شریروں کے مقابلے میں اس کی مدد کروں گا اور اس کے جنت میں داخل ہونے سے رکاوٹ صرف موت ہے:
شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ، لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ، إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَامُ، قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (معالم التنزيل صفحه ۲۸۲ ج ۱۔ روح المعانی ص ۱۰۶-ج ۱)
گواہی دی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی کہ بجز اس کے معبود ہونے کے (کوئی) لائق نہیں اور فرشتوں نے بھی (گواہی دی)، اور اہل علم نے بھی (گواہی دی)، اور معبود بھی وہ اس شان کے ہیں کہ اعتدال کے ساتھ انتظام رکھنے والے ہیں۔ ان کے سوا معبود ہونے کے لائق نہیں، وہ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔ بلا شبہ دین (حق اور مقبول) اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے یوں کہنے کہ اے اللہ، مالک ملک کے! آپ ملک جس کو چاہیں دے دیتے ہیں، جس سے چاہیں ملک لے لیتے ہیں اور جسے آپ چاہیں غلبہ کر دیتے ہیں اور جسے آپ چاہیں پست کر دیتے ہیں، آپ ہی کے اختیار میں ہے سب بھلائی، بلا شبہ آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔ تو داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں۔ اور تو زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور تو جس کو چاہے بے شمار رزق دیتا ہے.
حضرت بریدہ فرماتے ہیں: حضور ﷺ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اللہ کے اس اسم اعظم کے ساتھ مانگا ہے کہ جب بھی اس کے ساتھ مانگا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور دیتے ہیں اور جب بھی اس کے ساتھ اسے پکارا جاتا ہے تو وہ ضرور قبول کرتے ہیں:
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ
(حصن)
اے اللہ! میں تجھ سے اس وسيله سے مانگتا ہوں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے، بے نیاز ہے، جس سے نہ کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے.
حضرت بسر بن ابی ارطاۃ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا اور آپ ﷺ نے فرمایا جو یہ دعا مانگتا رہے گا وہ آزمائش میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی مر جائے گا:
اَللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ
(طبرانی)
اے اللہ تمام کاموں میں ہمارا انجام اچھا فرما اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ فرما.
حضرت ابو ہریرہ کی ایک حدیث میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد اپنی جگہ سے اٹھنے سے پہلے اسی مرتبہ یہ درود پڑھے اس کے اسی سال کے گناہ معاف ہوں گے اور اسی سال کی عبادت کا ثواب اس کے لئے لکھا جائیگا:
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلَى آلِهِ وَسَلِّمْ تَسْلِيمًا
(فضائل درود)
اے اللہ درود نازل فرما محمد ﷺ نبی اُمّی پر اور ان کی آل پر اور خوب سلام بھیج.
حضرت روفع حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اس طرح درود پڑھے اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے:
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(فضائل درود)
اے اللہ محمد ﷺ پر درود بھیجیے اور ان کو قیامت کے دن ایسے مبارک ٹھکانے پر پہنچائیے جو آپ کے نزدیک مقرب ہو.
حضرت ابن عباس حضور ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں: جو شخص یہ دعا کرے تو اس کا ثواب ستر فرشتوں کو ایک ہزار دن تک مشقت میں ڈال دے گا:
جَزَى اللهُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَا هُوَ أَهْلُهُ
(فضائل درود)
اللہ تعالیٰ محمد ﷺ کو ہماری طرف سے جزادے جس کے وہ اہل ہیں.
حضرت عمرو بن عاص فرماتے ہیں جب نبی ﷺ مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:
أَعُوذُ بِاللهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
(ابوداؤد)
میں عظمت والے اللہ، اس کی کریم ذات اور اس کی قدیم سلطنت کی پناہ چاہتا ہوں مردود شیطان سے. (فرمایا جو شخص یہ دعا پڑھ لے تو شیطان یہ کہتا ہے باقی سارے دن میں اس آدمی کی مجھ سے حفاظت ہو گئی — ابوداؤد).
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ چاہے کہ اس کا ثواب بہت بڑی ترازو میں تولے اس کو چاہئے کہ مجلس کے ختم پر یہ دعا پڑھا کرے:
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
(صافات)
پاک ذات ہے تیرے رب کی جو پروردگار عزت والا ہے، پاک ہے ان باتوں سے جو بیان کرتے ہیں اور سلام ہے رسولوں پر اور سب تعریف اللہ کو رب ہے سارے جہانوں کا.
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص صبح کی نماز کے بعد تین دفعہ یہ پڑھے: سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ، وہ تین بیماریوں اندھے پن، کوڑھ پن اور فالج سے محفوظ رہیگا (حياة الصحابة).
حدیث پاک میں ہے کہ اگر صبح کو یہ دعا پڑھ لے بِسْمِ اللهِ عَلَى نَفْسِي وَأَهْلِي وَمَالِي تو کسی قسم کا کچھ نقصان نہیں ہوگا.
حدیث پاک میں آتا ہے کہ بہترین دعا یہ ہے:
اَللَّهُمَّ ارْحَمْ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ رَحْمَةً عَامَّةً
(كنز العمال)
اے اللہ! امت محمد ﷺ پر رحمت عامہ نازل فرما.
جو شخص یہ چاہے کہ حضور ﷺ کے حوض سے بھرپور پیالہ پیے تو یہ درود شریف پڑھا کرے:
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَوْلَادِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ وَأَصْهَارِهِ وَأَنْصَارِهِ وَأَشْيَاعِهِ وَمُحِبِّهِ وَأُمَّتِهِ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ أَجْمَعِينَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ
(فضائل درود)
اے اللہ! درود نازل فرما محمد ﷺ پر اور ان کی آل پر اور ان کے صحابہ پر اور ان کی اولاد پر اور ان کی بیویوں پر اور ان کی ذریت پر اور ان کے اہل بیت پر اور ان کے سسرال والوں پر اور ان کے انصار پر اور ان کے پیروکاروں پر اور ان سے محبت کرنے والوں پر اور ان کی امت پر، اور ہم سب پر ان کے ساتھ ساتھ درود نازل فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے!.
حضور ﷺ نے حضرت علی سے فرمایا کہ صبح شام دس دس مرتبہ یہ پڑھ لیا کرو:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَأَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(قرطبی عن ثلبی)
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور میں اللہ سے مغفرت چاہتا ہوں، اور گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق اللہ ہی کے ذریعہ سے ہے، وہی سب سے پہلا ہے اور وہی سب سے آخری ہے، وہی ظاہر ہے اور وہی پوشیدہ ہے، اسی کے لئے تمام ملک ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے ہاتھ میں تمام بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے. (فائدہ: جو شخص ان کلمات کو صبح و شام دس دس مرتبہ پڑھے گا اس کو اللہ تعالیٰ چھ انعامات سے نوازتے ہیں: (1) شیطان اور اس کے لشکر سے حفاظت کرتے ہیں۔ (2) جنت میں اسے قنطار (احد پہاڑ سے زیادہ) عطا فرمائیں گے۔ (3) اسے ابرار جیسا بلند مرتبہ عطا کریں گے۔ (4) حور عین سے اس کی شادی کریں گے۔ (5) بارہ ہزار فرشتے پھیلے ہوئے باریک چہرے پر اس کا ثواب لکھیں گے اور قیامت کے دن لے کر اس شخص کیلئے حاضر ہوں گے۔ (6) اتنا اجر ہے گویا اس نے تورات، انجیل، زبور اور قرآن کو پڑھا، مقبول حج عمرہ کا ثواب دیتے ہیں اور اس دن یا رات یا مہینہ میں مر گیا تو شہداء کی مہر اس پر لگا دی جائے گی — قرطبی عن ثلبی).
دعا قبول ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرنا
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِعِزَّتِهِ وَجَلَالِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ
(حصن)
سب تعریف اس اللہ کیلئے ہیں جس کی عظمت و جلال کے وسیلے سے تمام نیک کام پورے ہوتے ہیں.
جنت میں محل
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے دس مرتبہ سورۃ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھی اللہ تعالیٰ جنت میں اس کے لئے ایک محل بنا دیں گے (منتخب احادیث، بحوالہ مسند احمد).
بیس لاکھ نیکیاں
حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ کلمہ پڑھے اس کے لئے بیس لاکھ نیکیاں لکھی جائیں گی:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ أَحَدًا صَمَدًا لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ
(فضائل اعمال، بحوالہ طبرانی)
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اکیلا ہے، بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے.
چار کلمے تین مرتبہ
حضور ﷺ نے ام المؤمنین حضرت جوویریہ سے فرمایا (جب وہ صبح سے چاشت تک مصلیٰ پر بیٹھی تسبیح میں مشغول تھیں) کہ میں نے تم سے (جدا ہونے کے) بعد چار کلمے تین مرتبہ پڑھے اگر ان کو سب کے مقابلہ میں تولا جائے تو تم نے جو صبح سے پڑھا ہے وہ تو غالب ہو جائیں، وہ کلمے یہ ہیں:
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ
(فضائل اعمال، بحوالہ مسلم)
اللہ پاک ہے اور میں اس کی تعریف کرتا ہوں، اتنی مرتبہ جتنی اس کی مخلوق ہے اور جتنی اس کی رضا ہے اور جتنا اس کے عرش کا وزن ہے اور جتنے اس کے کلمات کی سیاہی ہے.
تیرہ فرشتے ان کلمات کو اللہ کے دربار میں پیش کرتے ہیں
ابوایوب فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی مجلس میں ایک آدمی نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ تو حضور ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں نے تیرہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ تمہارے ان کلمات کو اللہ کے دربار میں پیش کرنے کیلئے جھپٹ رہے ہیں (حياة الصحابة).
دو کلمے رحمن کو محبوب میزان میں وزنی
حضور ﷺ نے فرمایا دو کلمے زبان پر بہت ہلکے، میزان میں بہت وزنی، رحمن کو بہت محبوب ہیں (وہ یہ ہیں):
سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ
(بخاری)
اللہ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ، پاک ہے اللہ جو بہت عظمت والا ہے.
جامع ترین دُعا
اور ادعیہ ماثورہ میں شاید سب سے زیادہ جامع دُعا یہ ہے، اپنی ہر دُعا میں اس دُعا کو شامل کر لینا چاہئے:۔
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا سَأَلَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَكَ مِنْهُ عَبْدُكَ وَنَبِيُّكَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ. وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ
وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَالِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ
حمد و ثنا، تکبیر اور لا الہ الا اللہ کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایک دن میں سو مرتبہ کہے:
اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو معاف ہو جاتے ہیں۔
(صحیح البخاری: 6405، صحیح مسلم: 2691)
نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص (ایک دفعہ) کہتا ہے:
سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ
پاک ہے اللہ عظمتوں والا اپنی تعریفوں کے ساتھ۔
اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔
(صحیح - جامع الترمذی: 3464)
نبی ﷺ نے فرمایا: دو کلمے زبان پر ہلکے پھلکے ہیں لیکن میزان میں انتہائی وزنی اور اللہ تعالیٰ کو از حد محبوب ہیں:
نبی ﷺ نے فرمایا: میں یہ (کلمات) کہوں:
تو مجھے یہ عمل ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔
(صحیح مسلم: 2695)
باقیات صالحات (باقی رہنے والے نیک اعمال) یہ ہیں:
نبی ﷺ نے فرمایا: چار کلمات اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب ہیں (ان میں سے جو بھی پہلے کہہ لیا جائے کوئی حرج نہیں):
نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص دس دفعہ یہ دعا پڑھے:
وہ اس شخص کی طرح ہو گا جس نے اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے چار غلام آزاد کیے۔
(صحیح البخاری: 6404، صحیح مسلم: 2693)
ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: مجھے کچھ کلام سکھائیں جو میں پڑھا کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہو:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اللہ سب سے بڑا بہت بڑا ہے اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں بہت زیادہ، اور پاک ہے اللہ جو ساری کائنات کا رب ہے، برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ غالب اور حکمت والے کی توفیق سے۔
اعرابی کہنے لگا کہ یہ تو میرے رب کے لیے ہیں، میرے لیے کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم کہو:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي
(صحیح مسلم: 2696)
اے اللہ! مجھے معاف فرما دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے۔
جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی اکرم ﷺ اسے نماز سکھاتے، پھر اسے حکم فرماتے کہ ان کلمات سے دعا کیا کرے:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي
(صحیح مسلم: 2697)
اے اللہ! مجھے معاف فرما دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے عافیت دے اور مجھے رزق دے۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "اے عبد اللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟" میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا کہو:
نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: سب سے افضل دعا:
اور سب سے افضل ذکر ہے:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ
(حسن - جامع الترمذی: 3383، سنن ابن ماجہ: 3800)
اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں
آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہے؟ پوچھا گیا کہ ہم میں سے کوئی ایک ہزار نیکیاں کیسے کمائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ سو مرتبہ سُبْحَانَ اللهِ کہے تو اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا اس کے ایک ہزار گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔"
(صحیح مسلم: 2698)
اللہ تعالیٰ کے اسمِ اعظم والی دعائیں
دعا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، الْمَنَّانُ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ
(صحیح - سنن النسائی: 1300)
دین پر استقامت اور دل کے ثبات کی دعا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ، وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ، وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا، وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
(صحیح - سلسلہ صحیحہ: 3228)
يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ
(صحیح - جامع الترمذی: 3522)
اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ
(صحیح مسلم: 2654)
ایمان پر خاتمہ اور جنت میں نبی ﷺ کی رفاقت
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ
(صحیح - سلسلہ صحیحہ: 2301، مسند احمد: 3797)
علمِ نافع میں اضافے کی دعا
اللَّهُمَّ انْفَعْنِي بِمَا عَلَّمْتَنِي، وَعَلِّمْنِي مَا يَنْفَعُنِي، وَزِدْنِي عِلْمًا
(صحیح - سنن ابن ماجہ: 251)
تزکیۂ نفس، تقویٰ اور ہدایت کی دعا
اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا
(صحیح - سنن النسائی: 5458)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ
(صحیح - جامع الترمذی: 3482)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى
(صحیح مسلم: 2721)
دنیا و آخرت کی اصلاح اور جامع خیر کا نبوی سوال
اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي، وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي، وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ، وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ
(صحیح مسلم: 2720)
دیدارِ الٰہی اور ایمان کی زینت کی جامع دعا:
اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَالشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ، فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُّهْتَدِينَ
(صحیح - سنن النسائی: 1305)
قیامت کے دن بلند درجات کی دعا
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاجْعَلْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِّنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَدْخِلْنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيمًا
(صحیح البخاری: 4323، صحیح مسلم: 2498)


