چونکہ زمانہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ انسان اپنی پیدائش یا پیدا کرنے والی شخصیت کے بارے میں بیٹھ کر کچھ دیر کے لئے سوچ سکے۔ یہ بہت مشکل اور محال ہو گیا ہے مثلاً ہر شخص کو پیدا کرنے والی ذات ایک ہی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہے جسے ہم سب بخوبی جانتے اور مانتے ہیں۔ لیکن ایک وہ ذات بھی ہے جس کے ذریعہ سے ہم اس دنیا میں آئے۔ جس نے ہمارے وجود کی خاطر تکالیف اٹھائیں۔ جس نے مہینوں ہمیں اپنے پیٹ میں رکھا۔ جس نے مہینوں ہمیں اپنے خون سے سینچا۔ وہ اور کوئی نہیں ہے وہ ماں کی ذات ہے لہذا ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے والدین کا خصوصاً اپنی والدہ کا خاص طور پر خیال رکھیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ارشاد ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي ؟ قَالَ : أُمُّكَ قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: (ثُمَّ أُمُّكَ) قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: (ثُمَّ أُمُّكَ) قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : (ثُمَّ أَبُوكَ)حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے حسن سلوک کا کون زیادہ حق دار ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، عرض کیا پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پوچھا پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پوچھا پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا باپ۔
چنانچہ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے سوال کیا یا رسول اللہ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ جس کے جواب میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہاری والدہ اس شخص نے دوبارہ سوال کیا پھر کون، پھر یہی جواب ملا تمہاری والدہ یہاں تک کہ تیسری مرتبہ تک میں بھی یہی جواب ملا تمہاری والدہ پھر جب چوتھی مرتبہ سوال کیا پھر فرمایا تمہارے والد۔
چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالی نے والدین کے بڑے حق رکھے ہیں ہمارے اور آپ کے لئے لازم ہے کہ ہم دائمی اور مستقل طور پر ان کی قدر اور خدمت کریں چونکہ ہمارے بہت سارے بھائی بہن ایسے بھی ہیں جنہیں اللہ نے اس نعمت سے نوازا ہی نہیں ہے کئی مرتبہ دوران ولادت ہی والدہ کا انتقال ہو جاتا ہے کئی مرتبہ بچپن ہی میں والدین کسی حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور بھی اس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ ایک بہت ہی مشہور واقعہ ہے جس میں ایک بات کہی گئی ہے جس کے مخاطب حضرت یوسف علیہ السلام ہیں: “اے یوسف! ذرا سنبھل کر چلنا اب تمہارے پیچھے تمہارے لئے دعا کرنے والا کوئی نہیں رہا۔” مفسرین نے لکھا ہے تمہارے پیچھے سے مراد والدین ہیں لہذا والدین ہی ایک ایسی ذات ہے جو اپنی اولاد کا جس خوبی سے خیال رکھ سکتی ہیں اس خوبی سے دنیا کی کوئی اور ذات نہیں رکھ سکتی۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْ هُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا.اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہونچ جاویں تو تم ان کو اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان دونوں سے نرم بات کہو۔
اس آیت میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ تم اپنے والدین کو جب وہ بڑھتی عمر کو پہونچ جائیں تو تم ان سے اف تک نہ کہو اور نہ ہی ان پر جھڑکو۔
آج زمانے میں جب انسان بلندیوں کو چھوتا ہے تو سب سے پہلے اپنی طاقت کو اپنے گھر پر ہی آزماتا ہے۔ بالخصوص اپنے والدین سے آزماتا ہے۔
یہاں تک کہ وہ کئی دلی تکالیف اور بد دعاؤں کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک بہت ہی مشہور واقعہ ہے جس میں یہ بات دکھائی گئی ہے کہ جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے وہ اپنے والد سے سوال کرتا ہے کہ درخت پر بیٹھی کیا چیز ہے ابا کا ہر بار یہ جواب ہوتا ہے کہ بیٹا یہ پرندہ ہے یہاں تک کہ بچہ اس سوال کو دسیوں مرتبہ دہرا دیتا ہے۔ ہر بار جواب والدین کا اتنی ہی شفقت کے ساتھ ہوتا ہے کہ بیٹا یہ پرندہ ہے۔ لہذا زمانہ گزرتا ہے اور صورت حال برعکس پیدا ہو جاتی ہے۔ اب سوال کرنے والا معصوم بچہ نہیں بلکہ معصوم والد ہو جاتا ہے اور وہ یہی سوال اپنے بیٹے سے کرتا ہے کہ بیٹا یہ درخت پر بیٹھی چیز کیا ہے جس کے جواب میں بیٹے نے ایک بار دو بار بالآخر تین بار جواب دے دیا کہ یہ پرندہ ہے اب چوتھی مرتبہ اس کا جواب قابل غور ہوتا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ والد صاحب کیا آپ سٹھیا گئے ہیں میں آپ کو ایک بات کا جواب کتنی مرتبہ دوں، بر خلاف صورت حال دوسری طرف مختلف ہوا کرتی تھی والد کے جواب میں ہر بار اتنی ہی شفقت رہی تھی جتنی پہلی مرتبہ میں رہی۔
ایک دوسری حدیث شریف میں ارشاد ہے:
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَبَائِرِ ، فَقَالَ : الإِشْرَاكُ بِاللهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ.حضرت انس سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گناہ کبیرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، ناحق کسی شخص کا قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ بات کہنا۔
اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ کبیرہ گناہ میں سے ہے اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا، ناحق قتل کرنا، اور جھوٹی گواہی دینا۔ حضور ﷺ نے اس حدیث کے ذریعے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنے کو ایک درجے میں رکھا ہے۔
چنانچہ یہ بات سمجھنا ہمارے لئے بہت ہی آسان ہو گیا ہے کہ اللہ کے ساتھ شریک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اس کا تذکرہ ایک ساتھ کرنا اس کی اہمیت کو بتاتا ہے۔ چنانچہ جو شخص اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ نہ کرے اس کا انجام کیا ہوگا اس کا فیصلہ وہ خود ہی کر سکتا ہے۔
ایک دوسری حدیث شریف میں ارشاد ہے:
الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ.والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے۔
چنانچہ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ انسان اور جنت کے دروازے کے درمیان والد کا فاصلہ ہے جو چاہے وہ اس کی حفاظت کرے اور جو چاہے اس کو گنوا دے۔ اور جگہ جگہ قرآن کریم میں بھی واضح طور پر ارشاد ہے:
وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا.اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔
وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا.اور تیرے رب نے حکم کر دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی عبادت مت کرو اور تم (اپنے) ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو۔
چنانچہ ان دونوں آیتوں میں ارشاد ہے کہ ہم اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کریں۔ جو کوئی بھی قرآن وحدیث کا ماننے والا ہے اس کے سامنے یہ بات واضح طور پر آچکی ہوگی کہ کس قدر قرآن وحدیث کے اندر کتنی اہمیت کے ساتھ اس چیز کو بیان کیا گیا ہے۔
یہاں تک کہ ایک حدیث کے اندر ارشاد ہے کہ جس شخص نے اللہ کو راضی کرنے کا ارادہ کیا اس کے لئے لازم ہے کہ وہ پہلے اپنے والدین کو راضی کرے۔
رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ. وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ.رب کی رضا مندی والد کی رضا مندی میں ہے۔ رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔
چنانچہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کو بھی والدین کی رضا پر معلق کر دیا۔ چنانچہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم عبادت کر لیں گے نوافل پڑھ لیں گے تلاوت کر لیں گے اس سے اللہ کی رضا حاصل کر لیں گے یہ محض ان کی کم فہمی کی بات ہے۔
چونکہ جب اللہ تعالیٰ نے ہی اپنی رضا کو والدین کی رضا پر معلق کر دیا تو اب کوئی بغیر والدین کو راضی کئے کیا کر سکتا ہے۔ ایک دوسری قرآنی آیت میں ارشاد ہے:
رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا.اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرمائیے جیسا انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا پرورش کی ہے۔
اس آیت میں واضح طور پر ارشاد ہے کہ تم اپنے والدین کے ساتھ رحم کا معاملہ کرو جس طرح سے اس نے بچپن میں تمہارے اوپر رحم و کرم کا معاملہ کیا تھا۔ کیونکہ یہی اصل وقت ہے خدمت اور دعائیں لینے کا۔ بچپن میں والدین ہی اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور کفالت کرتے ہیں۔ لیکن جب زمانہ آتا ہے کہ والد اپنی اولاد سے خدمت کی امید کرے اور اگر اسی وقت اولاد اپنے والدین کی خدمت سے مکر جائے تو اس وقت ایک والد کی تکلیف کا احساس کوئی نہیں کر سکتا۔
اس کی مثال یوں ہے جس طرح سے یورپین ممالک میں ہے کہ والدین جب ایک بڑی عمر کو پہونچ جاتے ہیں ان کو ان کے بچے اولڈ ہاؤس میں بھیج دیتے ہیں۔ بڑے بزرگوں کا گھر جس میں کوئی نوجوان نہیں بلکہ سب کے سب ضعیف عمر کے ہوتے ہیں جس کے دوست اور ہم راز وہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ جس کے پاس خدمت کے لئے نہ کوئی اولاد ہوتی ہے اور نہ دعائیں لینے والا کوئی ہوتا ہے کہ کوئی ان کی خدمت کرے اور ان کی دعائیں لیں۔ جب ضعف کی عمر میں پہونچنے کے بعد ان کو سامان کی طرح کمرے میں رکھ دیا جاتا ہے جن میں نہ کوئی غم نہ خوشی جنہیں حالات تکلیف سہہ سہہ کر بے حس بنا دیتے ہیں۔
میری قارئین کرام سے درخواست ہے کہ ہم اپنے والدین سے زیادہ سے زیادہ حسن سلوک اور محبت کا معاملہ کریں۔ اور ان کی دعائیں لیں۔ اور ثواب دارین حاصل کریں۔ (آمین)۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.
