Skip to content

   

All posts

انسان

Man

مفتی محمد ارباب صاحب شمسی قاسمی11 August 2026

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا اور پھر اس دنیا میں اس کو بھیجا جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوق کو پیدا فرمایا اور اس دنیا میں بھیجا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس نوع انسانی کے ساتھ ایک خاص عجب امتیازی معاملہ فرمایا جس نے اس نوع انسانی کو تمام مخلوقات سے بلند و بالا اور ممتاز بنا دیا اور ایک الگ ہی شان عطا فرمادی ۔ جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دیگر تمام مخلوق کو عطا نہیں کی۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم الشان صفت سے نوازا جس کو ہم اشرف المخلوقات سے تعبیر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات سے بلند مرتبہ اور اعلیٰ بنایا اور وہ تمام صفتیں پیدا فرمائیں انسان کے اندر جو اسے دیگر مخلوقات سے امتیازی شان بخشتی ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَا هُمُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَا هُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا.
سوره بنی اسرائیل، آیت: ۷۰

اور ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی ان کو جنگل اور دریا میں اور روزی دی ہم نے ان کو ستھری چیزوں سے اور بڑھا دیا ان کو بہتوں سے جن کو پیدا کیا ہم نے بڑائی دے کر۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ بنی آدم کے درجہ کو بلند کر دیا اور اسے کئی قسم کی نعمتیں عطا فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر کئی ایسی صفتیں پیدا فرمائیں ہیں جس سے انسان کا مقام بڑھ جاتا ہے۔ دیگر مخلوقات کے مقابلہ میں ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف النفس، اشرف البدن ، اشرف العقول بنایا۔ انسان کے اندر جو اغتداء، نمو و تولد کی جو صلاحیت ہے وہ کسی دیگر مخلوق میں نہیں ہے۔ جو حس و حرکت انسان کے اندر ہے وہ کسی دیگر مخلوق میں نہیں جو قوت عقلیہ انسان کے اندر ہے وہ کسی دوسری مخلوق میں نہیں۔ اشرف البدن ہونے کی مثال یہ ہے انسان ہی صرف ایسی مخلوق ہے جو ہاتھ سے کھاتی ہے جب کہ دیگر مخلوق Direct منھ سے کھاتی ہے وہ ہاتھ کا استعمال نہیں کرتی ہے۔ انسان اپنی انگلیوں کے ذریعہ لقمہ بلقمہ کھاتا ہے اور ہر ایک لقمہ کے ذائقہ کو الگ الگ محسوس کرتا ہے۔ جب کہ دیگر مخلوقات محض منہ سے تناول کرتی ہے اور ہر ایک لقمہ کا ذائقہ محسوس نہیں کر سکتی ہے۔

جو صفت ناطقہ (بولنے کی صلاحیت ) انسان کے پاس ہے وہ کسی دیگر مخلوق کے پاس نہیں ۔ انسان کو معتدل القامة بنایا ۔ یعنی ایسا قد و قامت جو قوت حس و حرکت کے اعتبار سے مکمل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حسین صورت والا بنایا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ.
سورة المؤمن: آيت : ٦٤

اور تمہارا نقشہ بنایا سو عمدہ نقشہ بنایا۔

اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.
سورة المؤمنون: آيت : ١٤

سو کیسی بڑی شان ہے اللہ کی جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو لکھنے کی صلاحیت عطا کی ۔ جس کے ذریعہ انسان اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمُ.
سورة العلق: آیت: ۳ تا ۵

آپ قرآن پڑھا کیجئے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے جس نے علم سکھا یا قلم سے۔ سکھلایا انسان کو جو وہ جانتا نہ تھا۔

خیر خلاصہ کلام یہ ہوا انسان کو اللہ تعالیٰ نے ان تمام صفات کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا جو اسے اس دنیا کے اندر ایک امتیازی شان دیتی ہے اور ساتھ میں دیگر مخلوق پر فوقیت دیتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام صفات عطا کر دی اب اس انسان کا کیا کام ہے۔ یا کیا اس کا Role ہے جو انسان کو ادا کرنا چاہئے۔ کیا محض لہو ولعب (کھیل کود ) سے کام چل جائے گا یا پھر یہ رویہ رکھنا کہ جیسے تیسے زندگی گذار رہی ہے گذر جائے۔ غور کرنے کا مقام ہے اور سوچنے کا مقام ہے کہ آخر ہمارا مقصد کیا ہے اس دنیا میں آخر ہمیں بھیجا ہی کیوں کس مقصد سے ہمیں اس دنیا میں بھیجا گیا۔ کیا دیگر مخلوق کی طرح ہم بھی محض لہو ولعب میں پڑ جانے اور اپنی خواہش کو پورا کرنے میں لگ جائے۔ بچے کی پیدائش میں پڑ جانا ہی ہمارا مقصد ہے۔ یا پھر کسی خاص مقصد سے مبعوث ( بھیجا) کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ مَا أُرِيدُ مِنْهُمْ مِنْ رِزْقٍ وَمَا أُرِيدُ أَنْ يُطْعِمُونِ إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ.
سورة الذاريات: آيت: ٥٦ تا ٥٨

اور میں نے جن اور انسان کو اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں۔ میں ان سے ( مخلوق کی ) رزق رسائی کی درخواست نہیں کرتا اور نہ یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلایا کریں۔ اللہ خود ہی سب کو رزق پہونچانے والا نہایت قوت والا ہے۔

اس آیت کے اندر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: میں نے انسانوں اور جناتوں کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور میں اپنے رزق کی امید نہیں کرتا کہ وہ اس کا انتظام کرے یا میں ان سے یہ امید نہیں کرتا کہ وہ میری مخلوق کو کھلائے یا پلائے بلکہ میں ہی کافی ہوں سب کے لئے۔

اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا مقصد دیگر مخلوق سے الگ رکھا ہے۔ ہمارا مقصد اللہ کی عبدیت ہے۔ اللہ نے ہمیں اپنی عبادت کے لئے خاص کیا ہے۔ دنیا تو محض ایک مسافر خانہ ہے۔ ہمارا اصل کامل مقصد جو ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا اور ہمارے لئے تمام دیگر چیزوں کو پیدا فرمایا محض ہمارے لئے اللہ نے ہمیں اپنی عبادت کے لئے خاص کیا اور ہمارے لئے تمام سہولیات کا انتظام فرما دیا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ.
سورة الحديد: آیت: ۲۰

تم خوب جان لو کہ (آخرت کے مقابلہ میں ) دنیوی حیات محض لہو و لعب اور (ایک ظاہری ) زینت اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا اور اموال اور اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ بتلانا ہے جیسے مینھ ( برستا ) ہے کہ اس کی پیداوار (کھیتی) کاشتکاروں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر وہ خشک ہو جاتی ہے سو اس کو زرد دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت ( کی کیفیت یہ ہے کہ اس ) میں عذاب شدید ہے اور خدا کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ہے اور دنیوی زندگانی محض دھوکے کا سامان۔

چنانچہ یہ بات واضح ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا۔ محض اپنی عبادت، عبدیت کے لئے۔ کیا ضروری تھا اللہ تعالیٰ ہم ہی جیسوں کو اپنے اس مقصد عظیم کے لئے چنے۔ اللہ تعالیٰ کو تو اختیار تھا کہ وہ کسی بھی اور مخلوق کو چن سکتے تھے یا پھر کوئی نئی مخلوق پیدا فرماتے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے کافی ہوتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ضرورت ہمیں ہے۔ اللہ اپنی عبادت کے لئے کسی کا محتاج نہیں۔ کیونکہ فرشتوں کی ایک معصوم جماعت ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ضرورت ہمیں ہے۔ سو اس مقصد کے تئیں ہمیں اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کرنا چاہئے اور اللہ کی عبادت کے لئے خاص کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

وآخر دعوانا عن الحمد للهِ رَبِّ العَالَمِين.

Have a question?

Questions are answered each Jumuah in the masail sessions.

Ask Mufti Arbab