Skip to content

   

All posts

دنیا ایک دھوکہ

The World Is a Deception

مفتی محمد ارباب صاحب شمسی قاسمی11 August 2026

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا اور اسے عقل سلیم عطا کیا اور اسے دنیا کمانے کا سلیقہ اور ہنر عطا کیا۔ اب انسان کے اوپر منحصر ہے کہ وہ دنیا کو کتنا حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ یہ دنیا جس کی حقیقت ایک مچھر کے پر سے بھی زیادہ نہیں ہے اس کے حصول میں انسان اپنے آپ کو کتنا لگاتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے اپنے کو کتنا فارغ کرتا ہے۔

یہ دنیا جس کی اللہ کے نزدیک کوئی قدر و منزلت نہیں ایک دھوکہ کا سامان ہے اب انسان اس دھوکے کے سامان کو حاصل کرنے کے لئے اپنے کو کتنا لگاتا ہے۔ اس کا پتہ اس کے اعمال سے چلے گا۔ ارشاد خداوندی ہے:

وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ.
آل عمران: ١٨٥

دنیاوی زندگی نہیں ہے مگر دھوکے کا سامان۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دنیا کو دھوکہ کا سامان قرار دیا ہے آج تک کوئی بھی شخص دنیا کو حاصل کر کے کامیابی اور کامرانی کی منزل تک نہیں پہونچ سکا کیونکہ اللہ نے اسے دھوکہ کا سامان قرار دیا ہے۔

اس لئے ہمیں دنیا بقدر ضرورت حاصل کرنی چاہئے۔ کیونکہ یہ دنیا ایک سمندر کے مثل ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ ہم دنیا کے حصول میں اس کے آخری سرا تک نہیں پہونچ سکتے۔

اس دنیا کے حصول کے لئے جو جتنا اس کے اندر گھستا ہے وہ اس کے اندر گھستا چلا جاتا ہے وہ اس کے آخری سرے تک نہیں پہونچ پاتا ہے۔ حدیث کے اندر آتا ہے کہ ابن آدم کا پیٹ مٹی کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں بھر سکتی اگر اس کے پاس مال کا ایک وادی ہو تو وہ دوسرے کو حاصل کرنا چاہتا ہے جب دوسری وادی کو حاصل کر لیتا ہے تو تیسرے کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کو حاصل کرتے کرتے اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے اور قبر کے اندر سو جاتا ہے لیکن دنیا کے آخری حد تک نہیں پہونچ پاتا ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے :

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ لَا حَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ ثَانِيًا وَيَمُلًا فَاهُ إِلَّا التَّرَابُ وَيَتُوبَ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ.
ترمذی شریف: ٥٩/٢

حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر ابن آدم کے لئے سونے کی ایک وادی ہو تو وہ چاہے گا کہ اس کے لئے دوسری وادی ہو۔ اور اس کے منہ کو نہیں بھرتا ہے مگر مٹی اور اللہ تعالی اس شخص پر متوجہ ہوتے ہیں جو توبہ کرے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بندے کو ہر کام اعتدال سے کرنے کا حکم دیا ہے چونکہ دنیا کمانا انسان کے ضروریات میں داخل ہے ورنہ انسان اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا دنیا کو انبیاء، صحابہ، تابعین، سلف و صالحین نے بھی حاصل کیا ہے لیکن ان لوگوں نے اس کی حقیقت کو جانتے ہوئے اس بقدر ضرورت حاصل کیا اس دنیا کے حصول کو اپنے اوپر غالب آنے نہیں دیا کیونکہ ہر تکلیف ہر پریشانی کی جڑ دنیا کا حصول اور اس کی محبت ہے۔ آج کے دور میں انسان دنیا کے حصول میں اللہ اور اس کے رسول کو بھلا دیتا ہے حتی کہ خود کو بھی بھلا دیتا ہے اس کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا ہے کہ وہ وقت پر کھانا کھالے اور وقت پر آرام کرلے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے :

حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلَّ خَطِيئَةٍ.
بیہقی شریف

دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے۔

ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے دو ایسے لالچی کے بارے میں بیان فرمایا ہے کہ وہ کبھی آسودہ نہیں ہوتا ہے۔ دونوں کا حرص اور لالچ حصول کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ لیکن ان میں سے ایک لالچی کو صحیح اور بہتر قرار دیا ہے اور دوسرے لالچی کو بُرا اور گھٹیا قرار دیا ہے۔ ایک علم کا حریص ہوتا ہے جب وہ علم حاصل کرتا ہے تو اس کا حرص اور لالچ علم کو حاصل کرنے کے لیے بڑھتا چلا جاتا ہے وہ کہیں پہونچ کر یہ نہیں کہتا ہے میرا حصول علم مکمل ہو گیا موت کے آخری لمحے تک وہ علم حاصل کرتا رہتا ہے ایسے حریص کی حضور ﷺ نے تعریف کی ہے اور اس کے اس عمل کو پسندیدہ قرار دیا ہے۔

دوسرا حریص دولت کا ہوتا ہے کہ وہ دولت کو حاصل کرتے کرتے تھکتا نہیں اور اس کے حصول سے آسودہ نہیں ہوتا ہے وہ جوں جوں دولت کو حاصل کرتا ہے توں توں اس کا حرص دولت کمانے کیلئے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے اس شخص کی برائی بیان کی ہے اور اس کے اس عمل کو مذموم قرار دیا ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے :

مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ مَنْهُومٌ فِي الْعِلْمِ وَمَنْهُومٌ فِي الدُّنْيَا.
طبرانی

دو حریص ایسے ہیں جو کبھی آسودہ نہیں ہوتے پہلا علم کا حریص اور دوسرا دولت کا حریص۔

لہذا میری تمام قارئین سے درخواست ہے کہ وہ دنیا کو بقدر ضرورت حاصل کریں اور اس دنیا کے حصول میں اس کی بلندی پر جانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ انسان کی زندگی چند روزہ ہے ہم اسے اس کے اعتبار سے حاصل کریں۔ اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرتے ہوئے اپنی آخروی زندگی کو بہتر بنائیں۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

Have a question?

Questions are answered each Jumuah in the masail sessions.

Ask Mufti Arbab