Skip to content

   

All posts

چندہ کرنے والوں کے ساتھ بدسلوکی

Ill-Treatment of Those Who Collect for the Madaris

مفتی محمد ارباب صاحب شمسی قاسمی11 August 2026

عَنْ عُثْمَانَ ابْنِ عَفَّانُ إِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَه.
ابو داؤد: ۷۳/۱، رقم الحدیث: ۷۳

حضرت عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن کو پڑھے اور سکھائے۔

تعلیم قرآن کی اہمیت

ویسے تو یہ موضوع بہت عام فہم ہے لیکن معاشرے کے لوگ اس کی گہرائی سے ناواقف ہیں اس سلسلے میں ہم لوگوں نے بہت سارے بیانات بھی سنے اور ساتھ ہی ساتھ کتابیں بھی پڑھیں۔ لیکن معاشرے میں دیکھنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ابھی تک ہم نے اس کی اہمیت کو اپنے دل کے اندر نہیں اتارا۔

آج لوگ مارے مارے پھرتے ہیں کہ ہم اپنی اولادوں کو ڈاکٹر ،انجینئر ، آرکیٹیکٹ وغیرہ بنائیں گے ہر والدین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح ہمارے بیٹے کا نام ہو اور کسی طرح سے اس کے ذریعہ سے ہمارا بھی نام ہو۔ کیونکہ ظاہری بات ہے جب کوئی شخص کوئی تعریف کے قابل کام کرتا ہے تو لوگ سب سے پہلے یہ سوال کرتے ہیں کہ بھائی یہ کس کا بیٹا ہے کس خاندان کا ہے، کس مذہب کا ہے وغیرہ وغیرہ۔

یہ بات بہت افسوس کے ساتھ کہنی پڑ رہی ہے کہ آج ہمارا معاشرہ قرآن وحدیث کے تعلیم و تعلم سے بہت دور ہوتا چلا جارہا ہے۔ جسے دیکھو وہ اپنے بچوں کو گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ بنانے کی بھیڑ میں کھڑا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ اس حافظیت ، قاریت ، مولویت ، مفتیت کی لائن میں کیا رکھا ہے؟ میرا آپ سب سے یہ سوال ہے کہ کل قیامت میں جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندوں سے سوال کریں گے تو کیا تو نے اپنی اولاد کو حافظ، قاری ، عالم اور مفتی کیوں نہیں بنایا؟ کیا ہمارا جواب یہ ہوگا کہ اس تعلیم اور اس لائن میں کیا رکھا ہے؟ کیا ہمارا جواب یہی ہوگا کہ مولوی صاحب تو صرف لوگوں سے مانگتے ہی رہتے ہیں ادھر رمضان کا مہینہ آیا اور ادھر مولوی صاحب نے اپنا چندہ شروع کر دیا ادھر رمضان آیا مسجد کے اندر مولوی صاحب نے لوگوں کو گھیرنا شروع کر دیا ۔ ادھر رمضان آیا مولوی صاحب نے لوگوں کی ذہن سازی کرنی شروع کردی۔

احقر کا مشاہدہ ہے کہ کس طرح سے بہت سارے حضرات مولوی صاحب جو مدرسے کے چندہ کی نیت سے آئے ہوئے ہوتے ہیں ان کے ساتھ کس طرح سے بدسلوکی ، بدلحاظی یہاں تک کہ کبھی تو گالم گلوچ تک بات پہونچ جاتی ہے اور کبھی تو مار پٹائی تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اور لوگ اپنے اس عمل پر بجائے شرمندہ ہونے کے اپنی ڈینگیں مارتے ہیں کہ آج تو ہم نے مولوی صاحب کو ٹھیک کر دیا اور آج ہم نے ان کو اچھا سبق سکھایا اور ہم نے ساری ہیکڑی نکال دی (نعوذ باللہ من ذلک)

جان لیجئے جس کی آپ نے توہین کی ہے اور جس کے ساتھ آپ نے بدسلوکی ، بدلحاظی کی ہے وہ حامل قرآن ہے قرآن وحدیث کا علم اس کے سینے کے اندر محفوظ ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنے محبوب اور پسندیدہ بندوں کو ہی اس علم سے نوازتے ہیں چنانچہ حدیث کا ارشاد ہے:

عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ يُرِدُ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُهُ في الدين.
مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۴۰/۶

حضرت معاویہؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے اپنے علم دین کی سمجھ عطا فرما دیتے ہیں ( مفتی ، مولوی، قاری، حافظ بنا دیتے ہیں )

حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کو اپنے دین کی سمجھ علم عطا کیا اس کے ساتھ اللہ تعالی نے بھلائی اور خیر خواہی کا معاملہ فرمایا لیکن ہمارا رد عمل ان حضرات کی طرف یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ بدلحاظی، بدسلوکی جیسے اخلاق سے پیش آتے ہیں۔

کسی کو یہ اشکال ہو سکتا ہے کہ سارے عیب ہمارے ہی ہیں اور جو مولوی حضرات چندہ کی غرض سے آتے ہیں ان کے اندر کوئی عیب نہیں؟ تو یہ بات جان لیں کہ جس کسی مدرسے سے چندہ کے لئے سفراء حضرات بھیجے جاتے ہیں انہیں چندہ کے تمام شرائط و قوانین سے آراستہ کرایا جاتا ہے۔ انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کو کس طرح سے چندہ کی ترغیب دینی ہے اور کس طرح سے لوگوں سے وصول یابی کرنی ہے۔

کسی کو یہ اشکال بھی ہو سکتا ہے کہ مولوی حضرات تو پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں جب تک چندہ نہ دیں جب تک ہماری جان نہیں چھوٹتی؟ تو یہ بات بھی جان لیجئے کہ اولاً تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں اس دینی تعاون میں شامل فرمارہے ہیں اور ہمارا پیسہ کسی کار خیر میں لگ رہا ہے ۔ کیونکہ قیامت کے قریب ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ لوگ مد زکوۃ کو لئے لئے پھریں گے اور کوئی اسے لینے والا نہیں ہوگا۔

کسی کو یہ اشکال بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیں مولوی صاحب کو چندہ نہیں دینا تو وہ ہمارا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے؟ یہ بات جان لیجئے کہ جو حضرات چندہ دینا نہیں چاہتے وہ بجائے ٹال مٹول کرنے کے اور بیجا انتظار کرانے کے صاف صاف یہ کہہ دیں کہ اس سال گنجائش نہیں ہے یا ہمارا اس سال کا مصرف فل (Full) ہو چکا ہے نا کہ یہ ہم مولوی صاحب کو کبھی کل کا، کبھی پرسوں کا کبھی ترسوں کا وقت دے کر بار بار اپنے در پر ذلیل کرنے کو بلاتے رہتے ہیں دیکھا جاتا ہے کہ بعض مرتبہ سرمایہ دار حضرات مولوی صاحب کو اپنے شاندار عالی شان آفس کے باہر انتظار کراتے ہیں کبھی یہ انتظار پانچ منٹ کا ہوتا ہے اور کبھی یہ انتظار پندرہ منٹ کا ہوتا ہے اور کبھی کبھی تو انتظار کرنے میں گھنٹوں گزر جاتے ہیں۔ اور اگر اس بیچ کبھی حضرت اپنے آفس سے باہر آجائے اور ان کی نظر مولوی صاحب پر پڑ جائے تو ان کا چہرہ دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ کس طرح سے ان کے چہرے پر بل پڑتے ہیں کس طرح سے ان کی ناک اوپر چڑھ جاتی ہے اور اپنے آفس میں دوبارہ داخل ہونے کے بعد بولتے ہیں ارے یار یہ تو پیچھے ہی پڑ گیا ٹھیک ہے پچاس یا سو روپیہ دے کر جان چھڑاؤ ۔ غور کرئیے کہ آپ نے انہیں اتنی دیر انتظار کرانے کے بعد پچاس روپیہ کا نوٹ پکڑوادیا سوچئے اگر آپ ان کی جگہ ہوتے تو آپ کے دل پر کیا گزرتی ؟ اگر آپ کو کوئی اتنا انتظار کرانے کے بعد کوئی پچاس روپیہ کا نوٹ پکڑوادے تو آپ کے دل پر کیا گزرے گی؟ آپ کو معلوم ہونا چاہئے چونکہ امت مسلمہ کی نظر میں ان مدارس کی اہمیت نہیں ہے اسی لئے ان حضرات کو رمضان المبارک کے مہینے میں در در ٹھوکرے کھانی پڑتی ہیں اگر ہماری نظر میں ان مدارس کی اہمیت ہوتی تو مدارس کو چندے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

کسی کو یہ اشکال بھی ہو سکتا ہے کہ ہمیں چندہ نہیں دینا ہماری مرضی ہماری رقم ہم جہاں چاہیں اسے صرف کریں ہمیں چندے میں نہیں دینا؟ یہ بات جان لیجئے کہ ٹھیک ہے آپ کی بات قابل قبول ہے تو آپ کا رد عمل یہ ہونا چاہئے کہ مولوی صاحب سے کہہ دیں کہ ہم نے اپنے دیگر مصارف میں رقم خرچ کر دی ہے یا ہمیں اس سال چندہ نہیں دینا صاف صاف کہہ دیں تا کہ مولوی صاحب بھی دوسری جگہ کا رخ کریں۔ اور وہ دوسری جگہ اپنا کام شروع کریں آپ کی امید میں نہ رہیں۔ یہ بات دیکھنے میں آتی ہے کہ ہم کئی بار مولوی صاحب کو لٹکائے رکھتے ہیں۔ صاف جواب نہیں دیتے بلکہ گول مول جواب دیتے ہیں۔

احقر کی سبھی چندہ دینے والے حضرات سے اپیل ہے کہ آپ سب حضرات بتائی گئی ان ساری باتوں کی طرف توجہ کریں اور ان سب ہدایت پر عمل کریں ۔ اللہ تعالیٰ احقر سمیت سبھی حضرات کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)۔

وآخر دعوانا عن الحمد للهِ رَبِّ العَالَمِين.

Have a question?

Questions are answered each Jumuah in the masail sessions.

Ask Mufti Arbab