بہترین گناہ گار کون؟
Who Is the Best of Sinners?
مفتی محمد ارباب صاحب شمسی قاسمی10 August 2026
گناہ اور نوع انسانی کا وجود ایک ساتھ ہوا۔ چنانچہ جس دن اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ وجود بخشا جب ان کے ڈھانچے کے اندر روح کو داخل کیا اور نوع انسانی کو پیدا فرمایا اور اشرف المخلوقات بنایا۔ اسی دن ہی گناہ ، نافرمانی ، معصیت وجود میں آئی چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں کے سامنے پیش فرمایا اور حکم دیا تم سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔ سب نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تکمیل کی۔ سوائے ابلیس کے۔
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلئِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ.اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو انہوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے انکار کر دیا اور لگا بڑا بننے اور کافر ہی رہا۔
اللہ تعالیٰ نے جب تمام ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے باوجود یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جناتوں کو ہلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن فرشتوں کی سفارش کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو قتل نہ کرنے کا حکم دیا اور اسے ملائکہ کے ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی۔ چنانچہ وہ ملائکہ کے ساتھ رہنے لگا۔ اور ملائکہ اس کی عبادت کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ لیکن جس دن اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بنی آدم کو وجود بخشا۔ خاص بات بنی آدم کی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم میں اچھائی اور برائی دونوں کا مادہ رکھا۔ اور فرشتوں کے اندر سوائے اچھائی کے کوئی دوسرا مادہ نہیں رکھا۔ وہ مکمل طور پر معصوم تھے اس سے کسی گناہ کا ارتکاب ہونے کا امکان ہی نہیں تھا۔ ان کے اندر اللہ کے حکم کے خلاف ورزی کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھی گئی وہ ہر دم ہر وقت اطاعت خداوندی کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اس پر فرشتوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس مخلوق کو پیدا فرمایا کیا ہم آپ کی عبادت کے لئے محض کافی نہ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا جس بات کا علم مجھے ہے اس بات کا علم تمہیں نہیں ہے۔
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ. قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَالا تَعْلَمُونَ.اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں (انسان) کو خلیفہ بنانے والا ہوں انہوں نے کہا کیا اس میں اس کو رکھے جو اس میں فساد مچائے اور خون بہائے اور ہم تیری حمد کی تسبیح کرتے اور تجھے پاک کہتے ہیں اس نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ہو۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ سے وضاحت ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نوع انسان کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا اور دوسری جگہ بھی ارشاد خداوندی ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ.میں نے جناتوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا۔
اللہ تعالی نے انسان کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا لیکن باوجود اس واضح حکم کے انسان فضولیات میں بڑھ کر گناہ میں ملوث ہو جاتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بنی آدم کے اندر غلطی ، خطاء اور برائی کا مادہ فرمایا ہے۔ اس بات کی تائید اس واقعہ سے ہوئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں اس درخت کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا تھا کہ تم اس درخت کے قریب مت جانا۔ لیکن چونکہ بنی آدم کے پیچھے شیطان ہاتھ دھو کر پیچھے پڑا ہوا تھا۔ اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ کسی طرح سے وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سیدھے راستے سے ہٹا دے اور اپنے مشن میں کامیاب ہو جائے، چنانچہ اس نے حضرت آدم کے ذہن میں ڈالا کہ تم اس درخت کے قریب جاؤ اور اسے کھاؤ۔
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَنُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَاوُرِی عَنْهُمَا.پھر شیطان نے دونوں کے اندر وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرمگاہوں کو جو ان دونوں سے چھپی تھی ان دونوں کے سامنے کھول دے۔
قَالَ يَادَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكِ لَّا يَبْلى.کہا اے آدم کیا میں تجھے دائمی زندگی کے درخت کا پتہ بتادوں اور ایسی بادشاہی کا جس پر کبھی زوال طاری نہ ہو۔
آیت قرآنی سے واضح ہوا کہ کسی طرح سے حضرت آدم علیہ السلام کو شیطان مردود ملعون نے بہکایا اور اس نے کس طرح سے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلوایا اور اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس سرزمین میں مبعوث کیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ شیطان نے کس طرح سے حضرت آدم علیہ السلام کو سیدھے راستے سے ہٹایا۔ اور کس طرح سے حضرت آدم علیہ السلام کو مشقتوں میں ڈال دیا۔ لیکن غور کرنے کی بات ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے ان سب کے بعد کیا کیا کس طرح سے اللہ تعالیٰ سے اپنا معاملہ ٹھیک کیا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:
قَالَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ.دونوں بولے ہمارے رب ہم نے اپنے آپ پر ستم کیا اب اگر تو نے معاف نہیں کیا اور ہم پر رحم نہ فرمایا پھر تو ہم ناکام اور نامراد والوں میں سے ہو جائیں گے۔
حضرت آدم علیہ السلام سے جب اس گناہ کا ارتکاب ہوا تو حضرت آدم علیہ السلام نے توبہ کی اور اللہ سے آہ وزاری کی اور درخواست کی اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور اس طرح دعا مانگی اے اللہ ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور آپ ہمارے اس گناہ کو معاف فرمادیں۔ ہمیں معاف فرمادے اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہیں کیا اور ہم پر رحم نہیں کیا تو یقیناً ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں معاف فرمایا۔ حدیث میں واضح ارشاد فرمایا:
عَنْ انس بن مالک رضی الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ بَنِي آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَوَّابُون.حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سارے آدمی گناہ گار ہیں اور بہترین گناہ گار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔
چنانچہ یہ بات معلوم ہوئی ہمارے جدا مجد سے بھی غلطی اور خطا کا صدور ہوا تو ہماری کیا حیثیت ان کے سامنے۔ اس دنیا کے اندر شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو یہ دعوی کر سکے کہ مجھ سے آج تک کسی گناہ کا ارتکاب نہیں ہوا۔ الا ماشاء اللہ یہاں تک کہ بڑے صوفیاء کرام بھی اس بات کا دعوی نہیں کر سکتے کہ ان سے آج تک کسی بھی گناہ کا صدور نہیں ہوا۔ لہذا گناہ کرنا عیب نہیں گناہ کا مادہ ہی جب کہ ہمارے اندر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اچھے اور برے اعمال دونوں کے کرنے کا مکلف بنایا اور ساتھ میں ہمیں عقل دی جس کے ذریعہ سے ہم صحیح اور غلط میں تمیز کر سکیں۔
حدیث میں ارشاد ہے گناہ کر کے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے گناہ ہی نہیں کیا۔
عَنْ عَبْدُ الله بن مسعود قَالَ قَالَ رَسُولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ.حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔
حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص گناہ کا ارتکاب کرے اور سچی نیت سے توبہ کرلے کہ انشاء اللہ آئندہ نہیں کروں گا تو پھر وہ شخص ایسا ہو جائے گا جیسا کہ اس نے گناہ ہی نہیں کیا۔ آج کل لوگ گناہ کرنے کے بعد زمانہ اور ماحول کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ اصل ملامت کرنے کی چیز ان کا نفس ہے۔ مثلاً کوئی محض سڑک پر چل رہا ہے اور کسی نامحرم پر نظر پڑ جائے تو اس وقت وہ اس کو اپنی نظریں جھکا لے۔ اور اپنے آپ کو بد نظری سے بچالے اگر اس نے اپنی نظریں نیچی نہیں کی اور خدا نا خواستہ بدنگاہی ، بد نظری ہوگئی تو اب اس کا ذمہ دار سماج یا ماحول کس طرح ہوا۔ بلکہ یقینا وہ خود ہوا۔
قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُم.آپ مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔
اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ تمام مؤمنین اپنی نگاہوں کو جھکا کے چلیں تا کہ وہ اپنے آپ کی حفاظت کر سکیں کسی گناہ کے ارتکاب سے ( کرنے سے )۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر قدم پر متنبہ فرمایا اور ہر قدم پر معاونت مدد کی اور طریقہ کار بتایا کہ کس طرح سے کوئی اپنے آپ کو گناہ سے محفوظ کر سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهر.اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کے آگے توبہ کرو سچی توبہ بہت ممکن ہے کہ تمہارا رب تم سے تمہاری برائیاں دور کر دے اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔
گناہ کرنا کوئی عیب کی بات نہیں مگر بہترین گناہ گار وہ ہے جو گناہ کرنے کے بعد اس کے اندر افسوس ہو کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔ اور میں آئندہ گناہ نہیں کروں گا۔ جب کوئی توبہ کرے تو وہ جن چند باتوں کا خیال کرے جیسے ہی کسی سے گناہ کا صدور ہوا تو کوئی کیا کرے۔ لہذا وہ حسب ذیل شرائط کا خیال کرے:
- جیسے ہی کسی سے گناہ ہوا تو اس شخص کو چاہئے کہ فورا توبہ کرے۔ دیر نہ کرے۔ جیسے ہی اللہ تعالیٰ سے اسے توفیق ملے وہ فورا ہی توبہ کرلے۔ کیونکہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اللہ نے کسی بندہ کو توفیق دی۔ اور اللہ تعالیٰ کیا پتہ کسی وقت توفیق سلب ( چھین ) کرلے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے: خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ (البقره: ٧) — اللہ نے ان کے دلوں پر ان کی سماعت ( کانوں) پر مہر لگا دی ہے اور ان کی نگاہوں پر پردہ پڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور خیر کے قبول کرنے کا مادہ ہی ختم کر دیا۔
- دوسری شرط یہ ہے جب دل سے سچی پکی توبہ کرے تو آئندہ نہ کرنے کا پورا پورا ارادہ ہو۔ کیونکہ محدثین کا واضح ارشاد ہے چنانچہ حاشیہ نووی علی المسلم ، صفحہ: ۶۵ پر مذکور ہے: قَالَ العُلَمَاءُ الإِصْرَارُ عَلَى الصَّغِيرَةِ يَجْعَلُهَا كَبِيرَةً. — علماء حضرات فرماتے ہیں کہ گناہ صغیرہ پر اصرار اسے گناہ کبیرہ بنا دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صغیرہ گناہ پر اصرار اس کو کبیرہ بنا دیتا ہے۔ گناہ صغیرہ تو روزمرہ کے نیک اعمال وضو وغیرہ کے ذریعہ سے صاف ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن گناہ کبیرہ بغیر توبہ کے قبول نہیں۔ اور توبہ بھی ایسی ہونی چاہئے جس کو آئندہ نہ کرنے پر پورا اعتماد و یقین وارادہ ہو۔
- تیسری شرط یہ ہے کہ جس جگہ گناہ ہوا کرے اس جگہ جانے سے پرہیز کرے تاکہ اس گناہ کا صدور دوبارہ نہ ہو مثلاً کسی کو پتہ ہے اگر میں فلاں جگہ جاتا ہوں تو مجھ سے یہ گناہ ہوتا ہے تو وہ اس جگہ جانے سے بھی پرہیز کرے۔
آخر کار اگر گناہ کرنے کے بعد کوئی اس طرح عمل کرے اور اپنے آپ کو گناہ سے محفوظ کرے تو وہی بہترین گناہ گار ہے جیسا کہ مندرجہ بالا آیات اور احادیث سے پتہ چلا کہ گناہ سے توبہ کرنے والے بہترین شخص ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو اچھائی اور برائی دونوں کا مکلف بنایا ہے۔ اچھائی اور برائی دونوں کا مادہ پیدا فرمایا ہے۔ گناہ کا ہو جانا عیب نہیں ہے۔ بلکہ توبہ نہ کرنا عیب ہے۔
انسان اور گناہ کا وجود ایک ساتھ ہوا جس وقت ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ کرنے سے انکار کیا اور انکار کرنے کے ساتھ ساتھ وہ کئی قسم کی دلیلیں پیش کرنے لگا مثلا یہ کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آگ سے پیدا فرمایا اور آدم کو مٹی سے پیدا فرمایا اور وہ یہ بھول گیا کہ سجدہ کرنے کا حکم اسے کس ذات کی طرف سے ملا تھا اگر اس نے اس بات پر غور کیا ہوتا اور حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا ہوتا تو آج تمام انسان عافیت میں ہوتے لیکن انسان اللہ کی مصلحت کو سمجھنے سے بالاتر رہے انسان اللہ تعالیٰ کی حکمت کو سمجھنے سے قاصر ہے چنانچہ قرآن میں ارشاد ہے:
وَمَا أُوتِيتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًااور انسان کو محض بہت ہی کم علم عطا کیا گیا۔
آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کتنا ہی کم علم عطا کیا ہے اگر انسان باوجود یہ کہ اپنے عقل کے گھوڑے دوڑائے تب بھی وہ اللہ کی حکمت اور مصلحت کو سمجھنے سے قاصر ہے چنانچہ جب ابلیس نے سجدہ نہیں کیا تو اس پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ابلیس کو اپنے دربار سے نکال دیا جس بنا پر وہ بنی آدم کا ایک کھلا دشمن بن گیا۔
إِنَّ الشَّيْطَنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا .بیشک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے تم اسے دشمن ہی سمجھو۔
آیت سے واضح ہوا کہ اللہ تعالی نے شیطان کو کھلا دشمن بنایا ہے وہ انسان کو غافل کرنے کے لئے کوئی کثر نہیں چھوڑتا وہ انسان کو غافل کرنے کے لئے دائیں بائیں اوپر نیچے تمام ہی جوانب سے حملہ کرتا ہے کہ کسی طرح سے بنی آدم سے گناہ کا ارتکاب ہو جائے گناہ کا ارتکاب کیوں نہ ہو آخر کار انسان کے اندر اللہ سبحانہ تعالیٰ نے دونوں صفاتوں کو پیدا فرمایا اچھائی برائی دونوں ہی ماڈے انسان کے اندر پائے جاتے ہیں لہذا اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ انسان اچھائی کو برائی پر غالب رکھے برائی کو ہمیشہ پست اور کمزور رکھے کوشش کرے کہ انسان سے زیادہ خیر کے اعمال ہی ہوں ۔ لیکن اگر خدانخواستہ انسان سے بداعمالیاں (گناہ) ہو جائیں تو وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی ذات سے نا امید نہ ہو جب اسے گناہ کرنے کا خیال آئے تو وہ یہ سوچے کہ اللہ تعالی سخت سزادینے والے سخت پکڑ کرنے والے۔
اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ وَانَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌجان لو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ زبرست پکڑ کرنے والے ہیں اور ساتھ ہی اللہ سبحانہ و تعالیٰ غفور و رحیم بھی ہیں۔
آیت سے واضح ہوا کہ انسان کو رجا (امید) اور خوف (ڈر) کا ایک اعتدال اپنی زندگی میں بنا کر رکھنا چاہئے کیونکہ انسان گناہ کرنے سے پہلے یا وہ سوچنے لگے کہ چلو کوئی بات نہیں میں کتنے ہی گناہ کرلوں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں گے تو یہ غلط ہوگا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے سوچنے کے بارے میں حکم گناہ کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص سے گناہ ہو گیا تو وہ اللہ کی ذات سے نا امید نہ ہوا گرچہ اس کے گناہ سمندر کے پانی یا ریگستان کے ریت کے برابر ہی کیوں نہ ہوں اگر وہ اپنے گناہ پر نادم اور شرمندہ ہوگا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اسے توبہ کرنے پر معاف فرمادیں گے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے درجے بلند فرما دیں گے اگر کوئی شخص اس کے برخلاف اگر یہ سوچ کر بیٹھ جائے کہ میں بہت ہی گناہ گار ہوں اور مجھ سے اب تک سینکڑوں گناہ ہو چکے اب میری مغفرت یا بچنے کی کوئی امید باقی نہیں ہے نعوذ باللہ اب تو میرے لئے جہنم کا فیصلہ ہو چکا تو اس کی یہ سوچ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی صفت غفور و رحیم کے خلاف ہوگی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے امید اور ڈر کا ایک وقت متعین کیا ہے جب انسان کے ذہن میں گناہ کرنے کا خیال آئے تو وہ یہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ زبردست سزا دینے والے ہیں اور اگر خدانخواستہ گناہ ہو گیا تو وہ یہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہیں امید ہے کہ اس کے گناہ کی معافی ہو جائے گی۔
یعنی سمجھ لو کہ اللہ تعالی سخت عذاب والے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ بہت مغفرت کرنے والے رحم فرمانے والے ہیں۔ اس میں بتلا دیا کہ جو احکام حلال و حرام کے دیئے گئے ہیں وہ عین حکمت و مصلحت ہیں ، ان کی تعمیل ہی میں تمہارے لئے خیر ہے، ان کی خلاف ورزی سخت وبال و عذاب ہے ، ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ انسانی بھول اور غفلت سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اللہ تعالیٰ فوراً عذاب نہیں دیتے ، بلکہ توبہ کرنے والوں اور شرمندہ ہونے والوں کے لئے مغفرت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ (معارف القرآن)
لہذا گناہ کرنے سے پہلے خوب سوچیں، سمجھیں اور نفس کو اپنے قابو میں رکھنے کی بھر پور کوشش کریں۔ کیونکہ ہمیں مکلف ہی اچھائی برائی کا بنایا گیا ہے ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم اپنی کمزوری کو پہچانیں اور ان کا مقابلہ کریں اور ساتھ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہماری غفلت اور معصیت سے حفاظت فرمائے ۔ (آمین)۔
وآخر دعوانا عن الحمد للهِ رَبِّ العَالَمِين.
